امداد باہمی اور ائمہ و مدرسین کے حالات کا نوحہ

26

ہمارا دین ہر اینگل سے سماج کے لئے ،قوم کے لئے اور عالمگیر انسانیت کے لئے ہمیشہ فکر مند ہے۔دین ان کے بناؤ سنگار اور ربط و تعلق پہ خاص زور دیتا ہے۔کیوں کہ یہ مذہب خیر خواہی،صلہ رحمی، امداد باہمی سے عبارت ہے۔یہی وجہ ہے کہ حقوق العباد کو حقوق اللہ پر ترجیح حاصل ہے۔دین نے "تعاونوا علی البر والتقوی” کہ کر امداد باہمی اور "اشتراک این و آں”کے فارمولے کو اہم بنا دیا ہے۔سینکڑوں احادیث اس پر مستزاد۔شاید اسی سے متأثر ہوکر ۱۹۹۲ میں پہلی بار عالمی سطح پر یوم باہمی تعاون کا اعلان ہوا۔اور اقوام متحدہ کی طرف سے ہر سال جولائی کے پہلے ہفتے میں یوم امداد باہمی منایا جانے لگا۔تاکہ لوگوں میں باہمی تعاون و اشتراک کا شعور پیدا ہوسکے۔لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد سمجھ کر کام آسکیں۔
ہمارے لئے امداد باہمی کا اس سے بڑا کارگر وقت اور کیا ہوگا کہ وہ سفید پوش طبقہ جو دیندار کہلاتا ہے۔ مدارس و مساجد کی رکھوالی جس کے ذمے ہے آج بے روزگار بیٹھا ہے۔اس کی خود داری کہئے کہ دوسروں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا سکتا۔قرض لے کر،بیوی کے زیور گروی رکھ کر کام چلا رہا ہے۔لگ بھگ اس کے ۵؍مہینے کورونا لاک ڈاؤن کی نذر ہوگئے۔اب اگر اور لاک ڈاؤن لمبا کھنچتا ہے تو اس کے لئے بہت برا ہوگا۔اس کی بے بسی و تنگ دستی کا ذمہ دار کون ہے؟ کسے اس کے لئے فکرمند ہونا چاہئے؟ اعراس و جلسوں کے نام پر قوم کی گاڑھی کمائی ہوا کر دینے والے جوابدہ نہیں؟

لاک ڈاؤن سے ایک ہفتہ قبل ایک جلسہ ہوا جس میں ایک عمر رسیدہ بلکہ کہئے ایک ایسا شاعر مدعو تھے جن کا ایک پیر زمین پر تو دوسرا قبر میں جا چکا ہے۔نذرانہ ۵۰؍ہزار پلس تھا۔ کرایہ ورایہ لے کر ٹوٹل ۷۰؍ ہزار کا خرچہ آیا۔ناز نخرے سو الگ۔آرام گاہ میں دوران گفتگو میں نے کہا آپ شعر و شاعری کے علاوہ بھی کچھ کرتے ہیں؟ تو بڑے ہی مصنوعی عاجزی بکھیرتے ہوۓ کہنے لگا کہ ہم لوگ تو دین کے سپاہی ہیں بس دین کی خدمت کر رہے ہیں۔اس پر میں نے کہا کہ دین کے سپاہی ہیں اور دو چار نعت سنانے کے پچاس ہزار لیتے ہیں؟ کیا یہی دین میں آپ کا سپاہیانہ کردار ہے؟ دین کا کام زیرو اور خود کو دین کا سپاہی بناۓ پھر رہے ہیں؟اتنی سی حق بیانی پر شاعر صاحب مجھ پر برافروختہ ہوگئے اور جاتے جاتے جلسے والوں سے میری ان بدتمیزیوں کی شکایت بھی کرتے گئے۔
پروڈکٹس ساز ادارے ،کمپنیاں اپنی پروڈکٹس کی تشہیر کے گلیمرس ایڈورٹائزمنٹ کا سہارا لیتے ہیں۔کسی بھی پروڈکٹ کو مارکٹ میں اتارنے سے پہلے اس کی برانڈنگ کی جاتی ہے۔دلکش ڈیزائن تیار کیا جاتا ہے۔اس کے لئے کسی گلیمر ہستی، ماڈل یا فلمی ستارے ہیرو ، ہیروئن کو ہائر کیا جاتا ہے۔مجھے یاد آتا ہے کہ کافی پہلے ہارلکس کی مارکٹ برانڈنگ کے لئے سچن تندولکر کے ساتھ کمپنی کا تین سالہ قرار ہوا تھا۔اس تین سالہ قرار کے لئے کمپنی نے تندولکر کو ۶۰؍ کروڑ روپے ادا کئے تھے۔اس کے بعد تو کمپنی کی نکل پڑی تھی۔ہر وہ لڑکا جسے بلّا پکڑنا آگیا تھا ہارلکس کا ڈوز لے کر ماسٹر بلاسٹر بننے کا خواب دیکھنے لگا تھا۔
متذکرہ بالا سطور سے صرف یہ کہنا ہے کہ آج کل ہمارے اعراس اور جلسوں کا ماڈل بھی بالکل اسی طرح کا ہوگیا ہے۔پائی پائی چندہ کرکے لاتے ہیں۔کچھ روپے کے لئے امیروں کے دروازے کھٹکھتاتے ہیں۔غریبوں مفلسوں کو بھی نہیں بخشتے۔پھر اپنے عرس یا جلسہ کے لئے کسی بڑے نام کے شاعر کو ہائر کرتے ہیں۔اس سے نام کمانا اور اپنے عرس کا میلہ لگوانا مقصد ہوتا ہے۔جب کہ جلسہ کو ایک چھوٹے نام کے نعت خواں سے بھی کامیاب کیا جا سکتا ہے مگر مقصد ایسا ہو تب نا۔یہاں تو جلسے کی ،عرس کی برانڈنگ کروانی ہے تاکہ اگلے سال اس کی Market Value بڑھ جاۓ۔ہم کسی کی نیت و خلوص پر شک نہیں کر رہے ہیں بلکہ جو دکھتا ہے اس کی تخمینی ریٹ یہی نکلتی ہے۔

میں درجن بھر نہیں، بلکہ پچاسوں ایسے نو مولود مزاروں، درگاہوں کو جانتا ہوں جہاں نعت خوانوں پر بڑی رقم صرف اسی لئے لگائی جاتی ہے تاکہ بھیڑ اکٹھی ہوجاۓ۔بڑا میلہ لگ جاۓ۔کمائی کا دروازہ کھل جاۓ۔کام وہی ہے صرف طریقے الگ الگ ہیں۔جو کام تندولکر جیسے لوگ کسی کمپنی کا برانڈ امبیسڈر بن کر کر رہے ہیں وہی کام مذہبی طبقہ کے وابستگان بھی کر رہے ہیں۔صرف اینگل اور ورک اسٹائل بدل دیا گیا ہے۔کھلے لفظوں میں یہ کہ کمپنی ۶۰؍ کروڑ روپے اپنے گھر سے نہیں دیتی۔بلکہ پہلے زیادہ ریٹ میں پروڈکٹ فروخت کرنے کا حساب کتاب فٹ کرتی ہے تب برانڈنگ و ایڈورٹائزمنٹ کے لئے لگاتی ہے۔ٹھیک اسی طرح سے عرس والوں کا بھی دماغ چلتا ہے۔(اس میں دو چار کا استثنا بھی ہے)بڑا تاجرانہ دماغ پایا ہے اس شعبے کے سرخیلوں نے۔

بہت پہلے پاکستان کے ایک مجذوب صفت نے کہا تھا کہ مرید اور خلیفہ، پیر کے لئے سیلس مین کی طرح ہوتے ہیں۔ جب کوئی کسٹمر کپڑے خریدنے پہنچے تو ایک سیلس مین کیسے کپڑے کی برانڈ ،تبدیلئ موسم میں اس کی ضرورت ، افادیت، رنگ کی جاذبیت اور ٹکاؤ ہونے کی دلیل دیتا ہے ٹھیک یہی کام خلیفہ و مریدین بھی کرتے ہیں۔موجودہ پیری مریدی کے دھندے کو دیکھ کر آپ بھی اس بات کے قائل ہوں گے(اس میں بھی بعضے مستثنی ہیں) مگر یہ صرف اپنا پروڈکٹ بیچتے ہیں بدلے میں قوم کو سماج کو کچھ لوٹاتے نہیں۔

جس مدرسے میں ایک نعت خواں پر ایک رات میں ۷۰؍ہزار لٹاۓ جائیں اگر وہی مدرسہ اپنے ان اساتذہ کو جو سالوں سے لگن و انہماک سے تدریس و تربیت کا کام ایک قلیل نذرانے کے عوض کر رہے ہوں اگر انہیں اس طویل لاک ڈاؤن میں بے یار و مددگار چھوڑ دے تو ایسے مدارس پر سوال تو بہر حال بنتا ہے۔اور حیرت تو یہ ہے کہ نہ اس نعت خواں نے جو ایک رات کی فیس پچاس ہزار وصولتے ہیں اس لاک ڈاؤن میں کسی کی خبر گیری کی ہوگی اور نہ یہ عرس و مدرسہ والے نے۔
مجھے لگتا ہے کہ پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں علما و ائمہ بے روزگار ہوۓ ہیں۔سارے مدارس و مکاتب پر تالے جڑے ہیں۔علما و ائمہ بے کار گھر بیٹھے ہیں۔حالات کے نارمل ہونے کے منتظر ہیں۔حد تو یہ ہے کہ کچھ کر بھی نہیں سکتے۔امامت و تدریس کے علاوہ کوئی آپشن بھی نہیں ہے۔ بے روزگاری بانٹنے والے اس لاک ڈاؤن میں علما و ائمہ کو دیکھ کر اور خود کو دیکھ کر مجھے اردو کی وہ کہاوت سو فیصد سچ لگنے لگی ہے۔”ملا کی دوڑ(صرف) مسجد تک”۔

آپ کو شاید علما و ائمہ کے حال پر ترس نہیں آتا ہوگا مگر میں تو جب جب سوچتا ہوں آٹھ آٹھ آنسو روتا ہوں۔ائمہ مساجد کے حالات کس قدر نازک بنے ہیں ذرا اندازہ کیجئے کہ میرے ایک دوست (محسن دیناجپوری) نے بتایا کہ ایک مولانا صاحب جو ممبئی کی کسی مسجد میں امام ہیں۔ لاک ڈاؤن سے کچھ دن قبل اپنی شادی کے لئے گھر آۓ تھے۔مگر لاک ڈاؤن نے معاشی حالات کا لکھا جوکھا بگاڑ دیا۔یہاں تک کہ نئی دلہن کے لئے ضروری چیزیں لانے کے لئے بھی پیسے نہیں تھے۔گھر میں آٹا نہیں بھی تھا۔فون پر بات کرتے ہوۓ اپنی بے بسی کا اظہار کر گئے۔پھر محسن بھائی نے اس علاقے کے ایک مسلم سماجی خدمت گار کو فون کر کے مولانا کی بھکمری کی دکھ بھری کہانی سنائی تو خیر سے انہوں نے پہلی فرصت میں ضروری سامان ان کے گھر بھیجوا دیا۔

ہم لوگ پڑوسی اور اپنے ماتحتوں کا خیال رکھنے پر لمبا چوڑا لکچر دیتے ہیں، بڑی بڑی تقریریں جھاڑتے ہیں،صدقہ زکوۃ، فطرہ، خیرات کے فوائد و ضرورت بتاتے ہوئے کس قدر مذہبی لگتے ہیں۔امداد و تعاون کے نام پر کیسی کیسی دلیلیں لاتے ہیں۔مگر سماج ،انسانیت اور مذہب سے جڑی اس خدائی تھیوری میں خود کو نابالغ سمجھ کر پریکٹیکل پروف نہیں کر پاتے۔جب کہ اہل دانش جانتے ہیں کہ کسی کو نماز کی اہمیت بتانے سے کہیں بہتر ہے کہ وہ خود پہلے نمازی بن جاۓ۔

سماج کے متمول اور صاحب ثروت طبقے(خاص کر علما و صوفیا) کو یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ سماج کے تئیں آپ کی بھی کچھ ذمہ داریاں بنتی ہیں۔آپ ان ذمہ داریوں سے سستے میں بری نہیں ہوسکتے۔کیا آپ کا کام صرف اتنا ہی ہے کہ ید سفلی پر ید علیا کی فضیلت بیان کرکے چھٹی کر لیں؟اس لاک ڈاؤن جیسے مشکل دور میں بھی جن مدارس و مساجد کے انتظامیہ و ذمہ داران نے اپنے مدرسین اور ائمہ کی تنخواہیں روک لی ہیں یا انہیں فارغ کر دیئے ہیں کیا اس ستم گری پر یہ خدا کی جناب میں جواب دہ نہیں ہوں گے؟ اور ان بے حس متمول مریدوں کو عقیدت کا وہ کونسا چورن کھلایا گیا ہے جن کی پڑوس میں بھوک سے بلبلاتے بچوں کی آہ و بکا دب کے رہ جاتی ہے اور پیر بابا کے اشارۂ ابرو پر سب کچھ نچھاور کر دیتے ہیں؟

بسا اوقات ایک حساس اور درد مند قلمکار کائنات کی منفی چیزوں پر بھی تجربہ کرتا ہے اور مثبت نتائج دریافت کر لیتا ہے۔ابھی کچھ روز قبل فیسبک پر "انڈین آئڈل” کا ایک پرانا پروگرام دیکھا۔جس میں مشہور فلم ساز کرن جوہر نے ایک سنگر کو ۵؍لاکھ کے چیک سے نواز کر اسے شاک ہی کر دیا۔اس پر اس سنگر نے احسامندی کے کلمات ادا کرتے ہوئے جھک کر تھینک یو کہا۔تو کرن جوہر نے جو بات کہی وہ مذہبیات و روحانیات کے وابستگان کو کان اور دل دونوں کھول کر سننے کی ضرورت ہے۔کہا "میں نے تم پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ یہ میری ذمہ داری تھی۔تمہیں تمہارا حق ملنا چاہئے”
آپ غور کریں! ایک ایسا شخص جو فلم انڈسٹری کا حصہ ہے۔جو سیکولر خیال رکھتا ہے۔جو حد درجہ لبرل ہے۔جو مذہب کے معاملے میں صلح کل ہے بلکہ لادین بھی ہے۔انہیں سماجی ذمہ داری کا کس قدر احساس ہے۔اگر اتنی بات ہمارے درمیان کے وہ لوگ بھی سمجھ جائیں جنہیں اسباب وسائل اور رزق و معاش کے خالق و رازق نے کسی قابل بنا رکھا ہے۔جنہیں رب نے ضرورت سے زیادہ نواز رکھا ہے۔ تو مجھ نکموں کو ایسے شکایت نامے لکھنے کی قطعا ضرورت نہیں پڑے گی۔اور لکھ بھی رہا ہوں تو صرف اس لئے کہ

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے