موبائل کلچر

17

موبائل نے انسان کی ایک بڑی ضرورت پوری کر دی ہے، پہلے حالات کی ترسیل اور ضرورت کی تحریر دوسروں تک پہونچانے کا ذریعہ خط تھا ، ٹیلی گرام نے تھوڑی تیز رفتاری دکھائی ، پھر لینڈ ٹیلی فون سے کام چلنے لگا ، لیکن پول پر لگے تار کبھی ٹوٹ جاتے ، کبھی مشین خراب ہو جاتی اور کبھی آپریٹرغائب ہوتا ، اب آپ پریشان ہوتے کہ کس طرح جلد سے جلد خبر پہونچائی جائے، پھر موبائل آگیا ، جیب میں لے کرگھومتے رہیے، شروع میں Incoming اور Outgoingدونوں میں کٹتی تھی ، پھر سہولت ہوئی تو آنے والے کال فری ہوئے، زمانہ تک آنے والے کال پر رومنگ چلتا رہا اور سفر میں دشواری پیش آتی رہی، اس کے بعد پاور سسٹم شروع ہوا ہے، کمپنی کو اتنی رقم پاور کے نام پر پہلے مل گئی اور آپ خوش کہ اب رومنگ فری ہو گیا، ہے، ریلائنس نے ’’جیو‘‘ دیا اور کئی مہینے تک فری کے آفر نے ایسا لبھایا کہ نوٹ بندی کے بعد بینکوں میں لگی لائن کی طرح وہاں بھی جوانوں کی لمبی لمبی لائن دیکھی گئی ۔
موبائل سٹ میں بھی تبدیلیاں آتی رہیں، پہلے نوکیا âNOKIAáکا سیٹ میدان میں تھا، پھر دوسری کمپنیاں سم سنگ ، الکاٹیل وغیرہ کے جدیر ترین سٹ آنے لگے، قیمتیں آسمان کو چھورہی تھیں، لیکن جب مارکیٹ میں کمپٹیشن شروع ہوا تو اس میں بھی خاصی کمی آئی اور اب حال یہ ہے کہ ہزار بارہ سو میں کام چلا ؤ اور سات آٹھ ہزار میں معیاری قسم کا اسمارٹ فون آپ حاصل کر سکتے ہیں، اس طرح موبائل ہر ایک کی ضرورت بن گئی ، رکشہ پولر اور مزدوروں میں سے بھی کوئی ایسا نہیں ملتا ، جس کے پاس موبائل نہیں ہے۔اس طرح اب موبائل رکھنا ضرورت بھی ہے اور کلچر بھی، پہلے لوگ کھیت کھلیان، جانور اور مویشیوں سے آپ کی اوقات ناپتے تھے، اب آپ کے ہاتھ میں مہنگا موبائل دیکھ کر آپ کی معاشی حالت کا اندازہ لگا تے ہیں، اور یہ بھی کہ موبائل کلچر کے اس دور میں کس قدر آپ آگے بڑھے ہوئے ہیں۔
موبائل کے استعمال کی اس کثرت نے کئی ایسی کمپنیوںکو وجود بخشا جو آپ کی چیزوں، تصویروں ، خیالات اور خبروں کو بلا روک ٹوک تیزی سے مفت میں یابہت کم لاگت پر دوسروں کو پہنچانے کا کام کر رہی ہیں، فیس بک ، ٹوئٹر، وھاٹس اپ، لائن وغیرہ اس کام کے لیے موجود ہیں،جنہیں شوشل میڈیا کہا جاتا ہے، موبائل میں انٹرنیٹ کی سہولت اور وائی فائی کی عمومیت کی وجہ سے ان ساروں کی خدمات کا حصول آسان اور سب کی دستر س میں آگیا ہے، اپنے خیالات کی ترسیل کے لئے مختلف عنوانات سے گروپ بھی بنے ہوئے ہیں، جن میں آپ جو چاہیں بھیج سکتے ہیں، جھگڑا بھی کرسکتے ہیں گالیاں بھی بک سکتے ہیں، علمی مواد فراہم کراسکتے ہیں، اور ان کاموں میں آپ کو اخبارات ورسائل کے مدیر محترم کی تراش خراش ، کانٹ چھانٹ کا ڈر نہیں ہوتا، اور ان کی مرضی بھی اشاعت میں رکاوٹ نہیں ہوتی ، گروپ کا ایڈمن بے اختیار مہرہ ہوتا ہے جو کسی کی پوسٹ کو روک تو سکتا نہیں، البتہ بہت خفا ہو گا تو نکال سکتا ہے، اس سے گروپ کے ارکان کو فرق نہیں پڑتا ، اس لیے کہ اتنے گروپ ہیں کہ تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی، نکالا ہوا شخص خود بھی ایک گروپ بنا سکتا ہے، بلکہ بنا لیتا ہے، آپ منہ دیکھتے رہے۔
اس پوری صورت حال کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ لوگ دنیا کو پہلے گلوبل ایج کہتے تھے اور دسترخوان سے تعبیر کرتے تھے، اب دسترخوان کے بجائے یہ ہماری انگلیوں کی جنبش پر ہے ، آپ جب چاہیں پوری دنیا کے احوال واخبار پر سکنڈوں میں واقفیت حاصل کر سکتے ہیں، خوشی وغمی سے متعلق خبریں انتہائی تیز رفتاری سے متعلقین تک پہونچا سکتے ہیں، علمی خیالات ، ایجادات ،ا نکشافات اور تحقیقات کو فورا ًاس کے ذریعہ سے بیش تر لوگوں تک پہونچا نا ممکن ہو گیا ہے ، آپ اپنی صلاحیت سے دوسروں کو فائدہ پہونچا سکتے اور دوسروں کی صلاحیت موبائل کے ایک بٹن کو دبا کر اور سائٹ کو کلک کرکے فوری طور پر آپ تک پہونچ سکتی ہے ، اس اعتبار سے دیکھیں تو یہ اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے اور صحیح استعمال سے انقلاب بر پا کیا جا سکتا ہے،اور انقلاب کو ناکام بھی کیا جا سکتا ہے، جیسا تُرکی میں ہوا۔
دوسری طرف اس کا خراب پہلو یہ ہے کہ یہ فحاشی اور منکرات کو پھیلا نے کے بڑے ذریعہ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، غیر محقق خبریں، گندی فلمیں ، فحش تصویریں، نا مناسب گفتگو âچاٹنگá کے لیے بھی اسی کا استعمال ہوتا ہے، طالب علم، بچے بچیاں سب کے ہاتھ میںموبائل ہے، درسی کتابوں پر توجہ کم ہو گئی ہے اور رات رات بھر نیٹ کے غیر ضروری استعمال نے راتوں کی نیند حرام کر دی ہے اور اس کے منفی اثرات صحت پر پڑ رہے ہیں،سیلفی اپنی تصویر خود لینے کے چکر میں جانیں جا رہی ہیں، اخلاق بگڑ رہے ہیں اور گھرکا ماحول بری طرح متاثر ہوا ہے ، اب گفتگو کرنے ، خاندانی حالات پر تبادلہ خیال کرنے ، ملی مسائل پرغور وخوض کرنے کے لیے وقت نہیں ہے ، بیوی ادھر موبائل پر لگی ہے اور بیٹے بیٹی الگ ، باپ دادا ، چچا کا بھی یہی حال ہے، سب اپنی دنیا میں مگن ہےں اور کسی کو حال دل سننے سنانے کی فرصت نہیں ہے ، ان وجوہات سے بھی خاندان ٹوٹ رہا ہے۔
مجھے اس وقت بے اختیار کالی داس گپتا رضا یاد آگیے، ممبئی میں رہتے تھے، غالبیات کے ماہر تھے، مر گیے تو اخبار والے نے ان کی بیوی سے انٹر ویو لیا ، ایک سوال تھا کہ آپ کو کبھی کالی داس پر غصہ بھی آتا تھا ، ان کی بیوی نے کہا کہ ہاں جب میں پاؤں دابتی تھی اور وہ کتاب پڑھتے ہوتے تھے، میں سوتن کی طرح کتاب سے لڑ بھی نہیں سکتی تھی، آج موبائل نے یہی مقام حاصل کر لیا ہے، ضرورت اس غلط استعمال پر روک کی ہے۔