قمری نیاسال ہجرت نبوی کی یادگار

41

ارریہ (توصیف عالم مصوریہ)روزنامہ نوائےملت
ایک بڑی بیٹھک طلب کی گئی ہے,تمام لیڈران کااجتماع ہے،فردواحد کے لئے یہ مہاسبھا ہے۔
سبھی کومحمد کے نام سے نفرت ہے اور ان کی جان سے دشمنی ہے۔نہ کوئی لیڈر اسے دیکھنا چاہتا ہے اور نہ کوئی سردار  اسے سننا پسندکرتا ہے، سبھی اس سے مکتی اورچھٹی چاہتے ہیں ۔اسی لئےمٹنگ کی جارہی ہےاورسرجوڑکربیٹھےہیں۔یہی ایک  ایجنڈا ہےاور یہی اس سبھاکاعنوان ہے۔شرکائے مجلس میں مکہ کے سبھی سرداران ہیں اور ایک بوڑھا شیطان ہے۔ کوئی یہ کہتا ہے کہ محمد کو پابند سلاسل کردو اسے جیل کی کال کوٹھری میں ڈال دو اور جیل سے بیل مت دو کبھی کوئی دفعہ لگاؤ تو کبھی کوئی ایکٹ، بقول عاجز؛

وہ کہے کہ وعدہ نبھائیے تو تو ہزاروں باتیں بنائیے
کبھی یہ سوال اٹھائیے کبھی وہ سوال اٹھائیے، اسی طرح اس کی عمر تمام کردو، تم حکومت میں ہو پاور میں ہو طاقت میں ہو، اس کا بے دریغ استعمال کرو ۔اس بوڑھے شیخ نجدی کو یہ قیمتی رائے پسند نہیں ہے، درمیان میں بول پڑتا ہے ارے یہ مت کرو، اس کے چاہنے والے بھی بڑے چالاک اور ذہین ہیں، وہ کوئی نہ کوئی قانونی شقہ استعمال کریں گے اور محمد کو چھڑالیں گے۔
ایک رائے یہ بھی آئی ہے کہ اسے این آرسی والے  اونٹ پر بٹھادو، وہ انہیں یہاں سے بھگا لے جائے گا، خس کم اور جہاں پاک ہوجائے گا ،
بوڑھے شیطان کو یہ رائے بھی اچھی نہیں معلوم ہوئی، وہ کہتا ہے؛ ارے کیا سنتے نہیں ان کی زبان میں جادو اور مٹھاس ہے،بلاکی چاشنی اورحلاوت ہے،جہاں وہ جائے گا وہاں وہ پائے گا اور سبھوں کواپنا ہمنوا بنائے گا ۔
اخیر میں ایک رائے آئی ہے جو جہالت کےابو اور جھوٹ کے ڈبو ابوجہل نے دی ہے،  بوڑھے شیطان کو یہ خوب پسند ہے اور پوری سبھا کا اس پر اتفاق ہوگیاہےاور آخری مہر اس پر لگ گئی ہے کہ” سبھی سرداران مکہ رات کی تاریکی میں برہنہ شمشیر لیکر محمد کے گھر کا گھراو کریں گے اور نماز کے لئے نکلیں تو ایک ساتھ کام تمام کردیں گے ،اس طرح ان کے خاندان اور چاہنے والے نہ بدلہ لے سکیں گے اور نہ  اور ہم آسانی سے ان سے نجات پالیں گے”۔مشورہ کے مطابق سبھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کو گھیر چکے ہیں حقیقتا وہ سبھی ڈھیر ہوچکے ہیں۔انسان یکت شیطان کی تدبیر دھری رہ گئی ہےاور خدا کا نظام شروع ہوگیا ہے ۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر حضرت علی کو سلادیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ آرام سے سورہو ،تمہارا بال بانکا نہیں ہونے والا ہے،صبح یہ ساری امانتیں فلاں فلاں کے حوالہ کردینا۔ آپ صلعم سورہ یس کی تلاوت کرتے ہوئے بعافیت نکل جاتے ہیں اور مدینہ منورہ کی ہجرت فرماتے ہیں ۔اور یہی ہجرت فتح مکہ کی تمہید بن جاتی ہے ۔
آج ہم اورآپ قمری نیاسال کا جویہ استقبال کرنے جارہے ہیں،جس کاپہلامہینہ محرم الحرام اور آخری ذی الحج ہے دراصل یہ ہجری سال ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی ہجرت کی یادگارہے۔اسی بنیاد پر اسے اسلامی سال کہتےہیں ہے۔اس کی ابتدا اور بنیاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت پر رکھی گئی ہے ۔اپنے دامن میں یہ نیاسال ڈھیر سارے پیغامات اور خدائی فتح ونصرت کا اعلان بھی رکھتا ہے ۔جہاں اسلام ومسلمین کے خلاف عالمی پیمانہ کی سازش کی خبر دیتا ہے وہیں خدائی نصرت کا سامان رکھتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ خدا کی حفاظت کے مقابلے کوئی طاقت نہیں ہے ۔اس دین کی اور اس کے مخلص دعاة کی حفاظت کا معاملہ منجانب اللہ ہوتا ہے ۔بظاہر کفر کے اجتماع سے اس دین کی راہ میں رکاوٹ سمجھ میں آتی ہے جو صحیح نہیں ہے بلکہ یہی اہل ایماں کی تحریک وعمل کا تاریخی موڑ ہوا کرتا ہے اور اس کے معا بعد ہی فتح نصرت کا فیصلہ خدا وندی ہوتا ہے ۔
اس اسلامی سال کا ابتدائی مہینہ محرم الحرام ہے، جو خود برکت واحترام اور حق کی واضح مثالیں اپنے دامن میں رکھتا ہے ۔حق کی جیت اسمیں ہے۔حضرت موسی علیہ السلام کو بھی اسی مہینہ کی دسویں تاریخ کو فرعون کے مقابلے نجات ملی ہے اور مصر سے نکل کر جزیرہ نما سینا تک بعافیت رسائی ہوئی ہے۔اس کامیابی پر مذہب اسلام میں بھی روزہ ضروری قرار دیا گیا تھا جو رمضان کے روزے کی فرضیت کے بعد اختیاری اور نفل کی حیثیت اختیار کرگیا ۔اسی مہینے کی دسویں تاریخ کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ حق کی خاطر راہ خدا میں شہید ہوئے ہیں ۔
یہ نیااسلامی سال اور اس سال کا ابتدائی مہینہ ہمیں بہت کچھ سیکھنے سمجھنے اور برتنے کی تعلیم وتحریک کرتا ہے، ہمیں اس کی توفیق مرحمت ہو، اور سبھی اسلامی بھائیوں اور عالم اسلام کے لئے یہ نیا اسلامی سال مبارک ہو ۔
    جہاں میں اہل ایماں صورت خورشيد جیتے ہیں
      ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے