کانپور میں مسلمانوں پرتشددکے خلاف ایس ڈی پی آئی نے قومی اقلیتی کمیشن سے شکایت درج کی

40
کانپور میں مسلمانوں پرتشددکے خلاف ایس ڈی پی آئی نے قومی اقلیتی کمیشن سے شکایت درج کی
نئی دہلی۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) نے 11اگست 2021کو کانپور میں مسلمانوں پر فرقہ وارانہ حملے اور مذہبی تبدیلی کی جھوٹی خبریں پھیلانے والے مجرم اور سنگھی رضاکاروں کے خلاف علاقے کا دورہ کرکے درست معلومات جمع کرکے قومی اقلیتی کمیشن سے شکایت درج کی ہے۔ ایس ڈی پی آئی نے زمینی حقائق جاننے کیلئے 17اگست2021کو کچی بستی، کانپور کو پارٹی قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد کی قیاد ت میں ایک ٹیم بھیجی۔ ٹیم میں مقامی قائدین ہارون رشید اور جاوید احمد شریک رہے۔ کانپور میں کچی بستی غریبوں اور جھونپڑیوں کا علاقہ ہے، جہاں ایسے لوگ بستے ہیں جو مستقل اور باقاعدہ مکان کے متحمل نہیں ہیں۔ایسے سینکڑوں جھونپڑیوں میں سے صرف ایک درجن مسلم خاندان زیادہ تر پلاسٹک شیٹ سے بنی جھونپڑیوں میں رہتے ہیں۔ کچی بستی میں کھبی کوئی ذات پات یا فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں ہوا کیونکہ زیادہ تر خاندان محلے میں ایک جیسے حالات میں رہتے ہیں اور صرف ان کے ناموں کو ہندو یامسلمان کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے۔ قریشہ بیگم، ایک مسلمان اور رانی رمیش کی بیوی ایک درج فہرست ذٓت کے ہندو ہے گزشتہ بیس سالوں سے مل جل کر رہتے آرہے تھے۔ دونوں سابقہ علاقے میں پڑوسی تھے اور رانی کی تجویز پر پر قریشہ کا خاندان ان کے پڑوس میں منتقل ہوگیا تھا۔ ای رکشہ چلانے والے دو خاندانوں کے درمیان کچھ تنازعہ پیدا ہوااور قانونی کارروائی ہوئی۔ رانی کا خاندان خاص طور پر اس کے بیٹے بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد بجرنگ دل میں شامل ہوگئے۔ علاقے میں فرقہ وارانہ فساد پیدا کرنے والے غنڈے بجرنگ دل یا وی ایچ پی کے رکن یا حامی ہیں۔ 11اگست کو ای رکشہ کے ٹکرانے کی وجہ سے ایک تنازعہ پیش آیا، ای رکشہ کو قریشہ کا بیٹا چلا رہا تھا۔ بجرنگ دل نے گلی میں جاگرن کی حمایت میں ایک جلوس کا اہتمام کیا اور فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکایا۔ بجرنگ دل کے لیڈر خاص طور اجے باجوے کے بیٹے شیوم نے رانی کے اکسانے پر مذہبی تبدیلی کی کوشش کا الزام لگا کرمسلمانوں کا خوفزدہ کرنا شروع کردیا۔ جلوس میں علاقے کے باہر کے لوگ شامل تھے۔ جلوس میں شامل کچھ افراد نے ایک رکشہ ڈرائیور افسر احمد جو اپنی نابالغ بیٹی کے ساتھ وہاں سے گزر رہا تھا، اس کی داڑھی سے مسلمان ہونے کی شناخت کی اور اس پر مجرمانہ حملہ کیا گیا اور اسے مارا پیٹا گیا۔ اس ویڈیو کو سوشیل میڈیا پر اس مقصد سے ڈالا گیا کہ فرقہ واریت کو بڑھاوا دیا جاسکے اور دوسرے مسلمانوں کو خوفزدہ کیا جاسکے۔ کہا جاتا ہے کہ پولیس کی جانب سے فوری کارروائی کی گئی اور افسر پر حملہ کرنے والے تین افراد کو گرفتار کرلیا گیا، لیکن تھانے سے ہی انہیں فوری طور پر ضمانت مل گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ ماحول کو فرقہ وارانہ بنانے کے پیچھے اصل مجرم اجئے باجوے کا بیٹا شیوم ہے۔ شیوم کا تعلق براہ راست سنگھ کے رہنماؤں اور اس حلقے کے بی جے پی ایم ایل اے مہند ر ترویدی کے بیٹے شبھم سے ہے۔ حکمران جماعت کے سیاسی دباؤ کی وجہ سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خطرے میں ڈالنے والے کلیدی مجرموں شیوم اور شبھم کو گرفتار نہیں کیا گیا اور نہ ہی تینوں گرفتار افراد کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا اور نہ ہی جیل بھیجا گیا۔ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی ہے لیکن افسر احمد جس کو بجرنگ دل کے غنڈوں نے مار اتھا، پولیس نے اسے 17اگست تک طبی معائنے کیلئے نہیں بھیجا ہے جبکہ یہ واقعہ 11اگست 2021کو پیش آیا تھا۔ مقامی پولیس کی طرف سے شناخت شدہ ملزمان کی ضمانت کی آسانی سے منظوری کے ساتھ ساتھ افسر احمد کو طبی معائنے کیلئے نہ بھیجنا بظاہر یہ ثابت کرتا ہے کہ سیاسی دباؤ کے تحت مقامی پولیس کو اس کیس کی صحیح تفتیش کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے متاثر ہ افراد کو تحفظ کے ساتھ ساتھ ان مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی اشد ضرورت ہے جو مسلمانوں کو دہشت زدہ کررہے ہیں اور علاقے کی فضا کو فرقہ وارانہ بنارہے ہیں۔