بدھ, جولائی 28, 2021
انڈیا میں کرونا وائرس کی صورتحال
India
31,481,490
مریض
Updated on July 27, 2021 11:40 pm
All countries
175,751,455
صحت یاب
Updated on July 27, 2021 11:40 pm
India
422,030
اموات
Updated on July 27, 2021 11:40 pm
بدھ, جولائی 28, 2021

انڈیا میں کرونا وائرس کی صورتحال

India
31,481,490
مریض
Updated on July 27, 2021 11:40 pm
India
30,653,513
صحت یاب
Updated on July 27, 2021 11:40 pm
India
422,030
اموات
Updated on July 27, 2021 11:40 pm

صحت ٹھیک ہے پرحالت اچھی نہیں!!!

صحت ٹھیک ہے پرحالت اچھی نہیں!!!

سلام کےبعدجب کلام کا نمبر آتا ہے تویہ سوال ہم میں سے ہرکوئی ایک دوسرے سے پوچھ لیتا ہےکہ جناب!آپ کا کیا حال ہے؟اس سوالیہ جملہ سے اپنےبھائی ،دوست ،متعلقین ومحبین کی خیریت دریافت کرلیتا ہے۔اپنےلائق کوئی خدمت ہو تواسے انجام بھی دیےلیتا ہےاورایک انسان ہونےکا ثبوت پیش کرتا ہے۔
آج ہماری ملاقات اپنے ایک بھائی سے ہوئی ہے۔ازراہ ہمدردی ہم نےبھی موصوف سے یہی سوال پوچھ لیاکہ بھائی جان!کیاحال ہے؟ اس پر وہ بولے،صحت ٹھیک یےپرحالت اچھی نہیں۔ ایساجواب ہمیں زندگی میں پہلی بارسننے کوملا ہے۔ دلچسپ بھی ہےاور بہت کچھ سوچنے سمجھنے اور غورکرنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔وقتی طور پرخلجان میں ضرور مبتلاکرتا ہےکہ یہ کیسے ممکن ہےکہ ایک آدمی کی صحت ٹھیک ہےپراس کہ حالت صحیح نہیں ہے؟۔غورکریں اورموجودہ زمینی مطالعہ کریں تو یہ شکایت بھی دور ہوجاتی ہے۔
لغوی اعتبار سے ہی اگر دیکھ لیں تو "حال "کا یہ لفظ زمانہ کی تین قسموں میں سے ایک ہے۔ماضی گزرنےہوئےزمانہ کوکہتےہیں،مستقبل آنے والے دن کوکہتے ہیں، اورحال موجودہ وقت کو کہاجاتاہے۔جوپڑھےلکھے نہیں ہیں وہ بھی اسے خوب سمجھتےہیں اورسوال کے جواب میں یہی کہتےہیں کہ بھئی ابھی توسب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔یہ ایسالفظ ہےجس کےسمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہےاورامیدہےکہ آج تک کسی نےاس لفظ کا معنی تلاش کرنے کے لئے آج تک لغت دیکھی ہےاورنہ دماغ سوزی کی ہے۔اس سوال کا تعلق زمانہ موجودہ سے ہواکرتا ہے۔پوچھنے والا اس ایک لفظ سےیہ چاہتاہےکہ سامنےوالےکی موجودہ حالت کیسی ہے؟
اب ایسی صورت میں وہ کہتا ہے کہ صحت ٹھیک ہے پرحالت صحیح نہیں تو قاعدےکی رو سے بھی وہ کوئی غلطی نہیں کررہا ہےبلکہ زمانہ حال کی مکمل معلومات فراہم کررہا ہے۔اوریہ کہنا چاہتا ہے کہ میری موجودہ پوزیشن یہ ہےکہ مجھے کوئی بیماری نہیں ہےباوجود اس کے ایک بیماری تنگدستی کی لاحق ہوگئی ہے۔تندرستی کےساتھ تنگدستی سے وہ اسوقت دوچار یے۔
ع۰۰۰۰۰ تنگدستی اگر نہ ہو سالک
تو تندرستی ہزارنعمت ہے
سامنے والاآدمی صاحب حیثیت لوگوں میں شمار کیا جاتا ہے باوجود اس کےموصوف کا یہ جواب چونکادینے والا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ لاک ڈاون میں اس کے پاس جو کچھ تھا وہ گھربیٹھ کرکھاپی لیاہےجس سےاس کی صحت ٹھیک ہوگئی ہےاب وہ تنگدست ہوگیا ہےبلکہ اس کی اصل وجہ زندگی میں افراط وتفریط اور بےاعتدالی ہےجوایک صاحب ایمان کے لئے جائز ہی نہیں ہے۔
لاک ڈاون بھی اگر وجہ ہےتو وہ جزئی ہےکلی نہیں ہے۔شریعت نے ہرایمان والے کی زندگی میں ایک قسم کالاکڈاون اورمال کی نسبت پرایک پابندی کلمہ ایمان کے ساتھ نافذکردی ہے۔ اخراجات کی بابت میانہ روی اورراہ اعتدال کی تلقین ہے۔استطاعت یا آمدنی سےزیادہ خرچ وتصرف سے شریعت اسلامیہ نےمنع کردیا ہے۔قرآن میں لکھاہے؛ہاتھ کواسقدر نہ کھینچ لےاورسمیٹ لےکہ گردن سےلگ جائےاورنہ اتناکھول دےکہ کھلاکاکھلارہ جائے۔ایک مسلمان نہ وہ کنجوس اور مکھی چوس بن سکتاہےاورنہ اتناخرچ کرلےکہ محتاج کہلایاجاسکتا ہے ۔
حدیث شریف میں بھی میانہ روی کی تعلیم دی گئی ہے۔اور اس بات کی ضمانت دی گئی ہےکہ وہ محتاج نہیں ہوسکتا ہےجوزندگی میں اخراجات کے باب میں میانہ روی اختیار کر تا ہے۔
موجودہ المیہ یہ ہےکہ ایک آدمی جو ایک لمبے وقفہ سے گھر پر بیٹھا رہاہے، ذرائع آمدنی سے محروم رہاہے۔ساتھ ہی ساتھ شادی بیاہ ودیگرتقاضوں کولاک ڈاون کی پابندی کی وجہ کرانجام نہیں دےسکتا ہے۔اب وہ اس پابندی سے باہر آگیا ہےمگررفتاربےڈھنگی سےبازنہیں آیاہے۔پھروہی پرانی روش پرواپس آگیا ہے،شادی بیاہ کے نام پربےمحاباخرچ کرنےلگتاہے۔نام ونموداورجھوٹی شان وشوکت کےچکر میں اپنا پوراہاتھ کھول دیا ہےاور وہ کھلا کاکھلا رہ گیا ہے ۔نتیجہ کےطورپر خود کویہ کہنےپہ مجبور پاٹا ہے کہ” صحت ٹھیک ہے پرحالت اچھی نہیں ہے۔
ایک اور وجہ جو قرآن میں لکھی ہوئی ہے کہ جب ایک انسان مال کو پاکر اترانے لگتا ہے۔ایسے میں خداکی آفت اس مال پر آجاتی ہےپھروہ مفلوک الحال ہوجاتا ہے۔
سورہ کہف کے اندرقران میں اس آدمی کا تذکرہ موجود ہے،جوکئی باغات کامالک ہے۔اس کےپاس ہر طرح کی آسائش ہے،مگرجب وہ اسےاپنی چیز سمجھنے لگتا ہے اوراس پراتراتاہے،شکرکی جگہ پر دوسروں پراسےفخرومباہات کاذریعہ کہتاہے،توخداکی آفت کا سامنا اس کےمال کوہوجاتا ہے۔پل بھر میں سب خاک ہوجاتا ہے،وہ کف افسوس ملنےلگتا ہے۔قرآن میں اس کی غلطی کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ باغوں والا”ماشاءاللہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ” کی جگہ پریہ کہنے لگتا ہےکہ یہ میری صلاحیت کانتیجہ ہے۔یہی سب سے بڑی غلطی ایک مال والے انسان کی ہے۔مال پراترانے کامطلب بھی یہی ہے۔قارون وھامان نے اپنے اپنےوقت میں یہی کہاہےاوروہ سبھی اپنے انجام کو بھی پہونچ گئے ہیں۔
ایک صاحب ایمان کے لئے سب سے بڑی قیمتی کتاب قرآن وحدیث ہے۔اس پر زندگی گزارناہی دنیاوآخرت کی شاہ کلید یے۔ہمیں اگر مال خداکی نعمت میں ملی ہےتواس پر اترانا نہیں چاہیئے اور وقت وحالات کودیکھتے ہوئے بھی اعتدال اپنانا چاہیئے۔اوریہ نوبت نہیں آنی چاہیئے کہ کہنا پڑے۔صحت ٹھیک ہے پرحالت اچھی نہیں ہے۔
ع۰۰ کسی سےکیاشکایت کیجئے حالات خستہ کی
کیا جب غور تواپنی کمی معلوم ہوتی ہے ۔
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
رابطہ ،9973722710

spot_img

Hot Topics

Related Articles