منگل, جولائی 27, 2021
انڈیا میں کرونا وائرس کی صورتحال
India
31,470,893
مریض
Updated on July 27, 2021 10:39 pm
All countries
175,724,944
صحت یاب
Updated on July 27, 2021 10:39 pm
India
421,712
اموات
Updated on July 27, 2021 10:39 pm

انڈیا میں کرونا وائرس کی صورتحال

India
31,470,893
مریض
Updated on July 27, 2021 10:39 pm
India
30,634,202
صحت یاب
Updated on July 27, 2021 10:39 pm
India
421,712
اموات
Updated on July 27, 2021 10:39 pm

بابری مسجد کو مسمار کرنا ایک سازش یا قانون کا نفاذ محمد جاوید

بابری مسجد کو مسمار کرنا ایک سازش یا قانون کا نفاذ
محمد جاوید

نئ دہلی،12جون (نامہ نگار) بھارت میں کورونا کی دوسری لہر کے آغاز کے ساتھ ہی وبائی امراض کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی خبروں کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی خبروں کی سرخیاں اور ٹائم لائنز سیلاب میں آگئیں۔ عوامی رائے کے برخلاف ہندؤں اور مسلمانوں نے تکلیف کی اس گھڑی میں ایک دوسرے کی مدد کرنے میں مثالی ہمت اور عزم کا مظاہرہ کیا۔ اچانک فرقہ وارانہ چارج کردہ ماحول کی عدم موجودگی کی وجہ سے نفرت انگیز راہبوں نے دم گھٹنے کا احساس کرنا شروع کردیا۔ ساستدانوں سے قطع نظر نظریات کے باوجود نئے ملی اتحاد کو ہضم کرنا مشکل ہونا شروع ہوگیا۔ انکا سیاسی مستقبل تاریک لگتا تھا۔ عالمی برادری ایشیاء بحر الکاہل میں ہندوستان کے بڑھتے قد سے خوف زرہ ہوگئیں۔ اچانک اترپردیش کے ایک چھوٹے سے ضلع کی ایک غیر نسخہ دار مسجد کا مسئلہ بین الاقوامی پرنٹ میڈیا جیسے کارڈبن، الجزیرہ وغیرہ میں سامنے والا صفحہ چھپاتا ہوا منظر عام پر آیا تو کیا بدلا ان لوگوں کے لئے جو اپنے آقاؤں کے اقدامات کو جواز پیش کرنے میں بہت زیادہ غرق ہیں یہ جان لیں کہ حال ہی میں یوپی کے بارابنکی میں ایک مسجد کو سڑک میں رکاوٹ پیدا کرنے اور سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کرنے کے الزام میں مسمار کردیا گیا تھا مسجد انتظامیہ کمیٹی اور اور اپنی وقف بورڈ نے اس ایکٹ کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ کون صحیح ہے یہ جاننے کے لئے اس مسئلے نے تین مختلف نقطہ نظر سے جانچ کی ہے۔ بارابنکی ضلع انتظامیہ کے پاس موجود محصلات کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مسجد سرکاری اراضی پر تعمیر کی گئی تھی جس کی وجہ سے یہ غیر قانونی ہے۔ مسجد بھی ملحقہ سڑک کے قریب ہی واقع تھی اس طرح نماز کے دوران ٹریفک میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ اس کے بعد مسجد کمیٹی کو نوٹس پیش کیا گیا اور ملکیت کے کاغذات ایس ڈی ایم کے سامنے پیش کرنے کو کہا گیا۔ مسجد کمیٹی کاغذات پیش کرنے کے بجائے عدالت میں چلی گئی۔ جس نے درخواست خارج کردی۔ معاملہ ایس ڈی ایم عدالت میں بھی نمٹا گیا جس نے اس ڈھانچہ کو غیر قانونی قرار دیا۔ مسجد کو مسمار کردیا گیا۔ مقامی مسلمانوں میں سے کسی نے احتجاج نہیں کیا۔ مسجد کمیٹی یا سنی وقف بورڈ نے کوئی احتجاج نہیں کیا۔ تاہم انہدام کے بعد ہر ایک بانپر متحرک ہوگئے اور رونے لگے ۔ تین سولات پیدا ہوتے ہیں ایس ڈی ایم عدالت میں ملکیت کے کاغذات کیوں جمع نہیں کروائے گئے؟ متعلقہ افراد ملکیت کے کاغذات کے ساتھ اعلی عدالت کیوں نہیں منتقل ہوئے؟ کمیٹی اور سنی وقف بورڈ کیوں خاموش رہے۔ جبکہ وہ جانتے تھے کہ مسجد کو منہدم کیا جائے گا۔دوسرا تناظر تنازعہ میں کے بارے میں سوالات اٹھاتا ہے۔ فلسطین پر اسرائیل کے حملے کے بعد پوری دنیا دو بلاکوں میں تقسیم ہوگئی۔ اس بات کو دھیان میں رکھنا چاہئ کہ ایک مضبوط ملک ہی اپنے شہریوں کے خوشحال اور خوشحال مستقبل کو یقینی بنا سکتا ہے غیر ملکی طاقتوں کے زریعہ ایک ایسا خواب جو انتہائی قابل نفرت ہے،

spot_img

Hot Topics

Related Articles