"ہمیں  زمانے کے ساتھ ہی چلنا پڑے گا ”
از قلم :   شیبا کوثر (بہار )۔
جب سے دنیا وجود میں آئ ہے اس کا ارتقا ئی سفر جاری ہے ۔وقت کے ساتھ بہت سارے  تغیر اور تبدیلی کے نشانا ت ملتے ہیں ۔کل جہاں پر ندیا ں بہتی تھیں وہاں آج شہر آباد ہے جہاں گھنے جنگل تھے آج چمکتا دمکتا خوبصورت شہر آباد ہے ،جہاں دور دور تک ریت ہی ریت تھا وہاں پر آج بلند و بالا عمار تیں نظر آتی ہیں ،جہاں پر زندگی کی کوئی سہو لیا ت میسر نہیں تھیں اور زندگی بڑی کٹھن تھی وہاں پر اب لوگ آرام و آسائش کی  زندگی گزار  رہے ہیں ۔جہاں پر بھوک اور  قحط سے لوگ اکثر جو جھتے تھے وہاں پر اب کھانے کی کوئی کمی نہیں بلکہ اکثر و بیشتر کھانے کی برباد ی کا نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔ایک دور تھا  ایک کتاب کو منظر عام پر آنے میں سالوں  لگ جاتا تھا لیکن  اب معا ملہ یہ ہے کہ سال میں ہزاروں کتابیں منظر عام پر آجاتی ہیں اور صرف منظر عام پر ہی نہیں آتی ہیں بلکہ آسانی سے دنیا میں کہیں بھی دستیاب ہو جاتی ہیں ۔کسی خبر کو ایک ملک سے دوسرے ملک میں پہنچنے میں مہینوں اور سالوں لگ جاتا تھا ۔مگر آج کے موا صلاتی نظام میں  دنیا سمٹ گئی ہے ساری دنیا مانو  ایک گاؤں میں تبدیل ہو گئی ہے ۔جس کی پنچا یت بھی ایک ہے اور اس پنچا یت کا فیصلہ ہی آج کی بدلتی دنیا کے لئے آخری فیصلہ ہوتا ہے
کرونا کے اس وبا میں ہم سب کو اس کا احساس بہتر ڈھنگ سے ہوا ہے(W.H. O ) ڈبلو ۔ایچ ۔ا و ۔جو ایک عالمی ادارہ ہے اس کے گائیڈ لائن کو دنیا کے لگ بھگ ہر ملک نے مانا اور کرونا کے خلاف اس عالمی جنگ میں اس کے اصولوں پر اور اس کی رہنمائی میں  آج بھی دنیا کے لگ بھگ سارے ممالک اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔اسی طرح دنیا کا کوئی بھی بڑا سیاسی مسئلہ ہو اس کا فیصلہ  یو ۔این ۔ا و ۔(U.N.O) جیسے ادارہ  میں طئے پاتا ہے ۔دنیا میں بچوں کے  لئے کوئی پالیسی تیار ہوتی ہے تو اس میں یو نیسف جیسے ادارہ کا خاص رول ہوتا ہے ۔معاشیات پر نظر رکھنے کیلئے آئ ۔ایم ۔ایف (I.M.F) اور ورلڈ بینک موجود ہیں،انسانی حقوق کے لئے یو مین را ئٹس کمیشن موجود ہے ۔اس لئے اگر کوئی ملک چاہے کہ ہم اپنے ملک میں جو چاہیں کریں یہ ممکن نہیں ہے بلکہ عالمی سماج کو ساتھ لیکر ہی کو ئی فیصلہ کیا جا سکتا ہے جو کامیاب ہو سکتا ہے ۔
اس لئے اس بات کو ہر حال میں سمجھنا پڑے گا کہ آج کی دنیا میں علم کی اہمیت اور بھی زیادہ ہو گئی ہے وہی ملک ترقی کے اس دور میں آگے نکل سکتا ہے اور اسی کا سکہ چل سکتا ہے جو سائنس اور ٹیکنا لو جی  میں آگے ہو اور جس کی معیشت مستحکم ہو ۔دنیا کے جتنے بھی ترقی یافتہ ملک ہیں اس کی کامیابی کی کلید یہی  ہے ۔ملکی معیشت بہتر ہوگی تو ہم اپنے انسانی وسائل کی اچھی طرح تعلیم و تربیت کر سکتے ہیں اور انہیں جدید تعلیم سے سے آ راستہ کر سکتے ہیں ۔اگر ہمیں دوسرے ملک کے شہر یوں سے بھی خدمت لینی پڑے تو ہم ان کو اچھا معا و ضہ اور بہتر  شہری سہولیات دیکر اپنے ملک میں ان کی خدمت لے سکتے ہیں ۔
امریکہ اسکی ایک مثال ہے۔جس نے دنیا کے سارے ممالک کے کامیاب شہری کو اپنے یہاں عزت بخشی اور ان کو رہنے اور  کا حق دیا اور انہیں بہتر شہری سہو لیا ت کو مہیا کرایا ۔جس وجہ کر دنیا کا با شعور اور علمی طبقہ وہاں جا کر بس گیا اور ملک کی ترقی میں اپنا حصّہ پیش کیا ہے ۔ہمارے ملک ہندوستان سے بھی بہت سارے کامیاب لوگ وہاں جاکر بس گئے اور اپنی صلاحیت سے اس ملک کو استحکام بخشا ۔بڑے بڑے ڈاکٹر ،انجینئر، پرو فیشنل اور دیگر میدانوں کی اہم شخصیت کی ایک بڑی تعداد وہاں موجود ہے ۔اور آج بھی ہمارے ملک کے بہت سارے نوجوان وہاں کی یونیورسٹیوں  میں اپنی تعلیم مکمل کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور خواہش یہی رکھتے ہیں کہ اسی ملک میں اپنا مستقبل تلاش کریں ۔اگر ویسے نوجوان کو اپنے ہی ملک میں بہتر مستقبل کی گا ر نٹی ہو تو ہمارے خیال سے کوئی بھی اپنے ملک میں   رہنا ہی پسند کرے گا ۔مگر اگر صلاحیتوں کو نظر انداز کیا جائے گا تو ویسی حالت میں کوئی بھی کہیں جانے کو مجبور ہوتا ہے ۔
۔اس لئے چاہئے کہ ایک ایسے سماج کی  تشکیل ہو جہاں پر انسان کی صلاحیت کی عزت ہو جس کے لئے  کر پشن کو سماج سے ختم کرنا پڑے گا ۔ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ ہماری حکومت تو بہت ساری بہتر اسکیم بناتی ہے مگر زمینی سطح پر اسے بروئے کار لانے میں بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔وجہ یہ ہے کہ عوام کا بہت بڑا طبقہ آج بھی جہالت اور پسماندگی کا شکار ہے ۔جس کی وجہ کر پہلے تو انہیں سرکاری اسکیم کا پتہ ہی نہیں چل پاتا ہے اور اگر انہیں معلوم بھی ہو جاتا ہے تو آج کے اس ڈیجیٹل دور میں کاغذی عمل  کوصحیح ڈھنگ سے پورا نہیں کر پاتے ہیں ۔بہت سارے پڑھے لکھے لوگ بھی کمپیوٹر اور موبائل فون کو صحیح ڈھنگ سے نہیں استعمال کر پاتے ہیں جس کی وجہ کر دوسرے لوگوں کی مدد لینی پڑتی ہے ۔اور پھر عام طور سے یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ چھوٹےسے  چھوٹے کام کے لئے اچھی خاصی رقم دینی پڑتی ہے ۔اور کبھی کبھی اس کے باوجود بھی کام نہیں ہو پاتا ہے ۔اس لئے ضروری ہے کہ ہر فرد اس ڈیجیٹل ورلڈ کا حصّہ بنے اور اس کے لئے ضروری علم کو سیکھے  ورنہ پڑھ لکھ کر بھی  آپ جاہلوں کی صف میں ہی رہیں گے ۔ اس بات کو سمجھنا پڑیگا کہ اب دور بدل چکا ہے اور اس بدلے حالات میں اپنے آپ کو حالات کے مطابق اپ گریڈ کرنا ہی پڑے گا ۔
ویسے بھی جو آثار نمایا ں ہیں اس میں ابھی دنیا کا نظام کافی تیزی سے بدل رہا ہے ۔کالجوں  اور اسکولوں میں آن لائن پڑھائی کا سلسلہ چل پڑا ہے ۔ ا ی  کا مرس کا دور دورہ ہے ،ورک ایٹ ہوم کا ماحول بن رہا ہے،بڑے بڑے پرو فیشنل لوگ آن لائن ہی اپنی خدمت انجام دے رہے ہیں گویا کہ ہر چیز ایک نئے انداز میں سامنے آ رہی ہے جسے ہم ڈیجیٹل ورلڈ کے نام سے جان رہے ہیں اور اس ڈیجیٹل ورلڈ میں رہنے کے قابل ،وہی شخص ہوگا جو کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، اینڈ را ئیڈ موبائل اور انٹر نیٹ کا استعمال کرنا جانتا ہو ۔بغیر اس کے آپ جی تو سکتے ہیں مگر دنیا کے ساتھ چل نہیں سکتے ۔
اس لئے ہمیں نئی سوچ نئے فکر اور نئے علوم کے ساتھ آرا ستہ ہو کر آگے بڑھنا پڑے گا اور نئے نئے چیلنجیز کو قبول کرنا پڑے گا بدلتے ہوئے ماحول کے مطابق زندگی کو جینا پڑے گا ۔تبدیلی قدرت کا قانون ہے اسے ماننا پڑے گا قوموں کا عروج و زوال تاریخ کا حصّہ ہے وہی قوم با م عروج پر ہوتی ہے جو وقت کی رفتار کا ساتھ دیتی ہے ۔اور جو قوم وقت کی رفتار کے ساتھ نہیں چل پاتی   ہے زوال اسکا مقدّر ہوتا ہے ۔آج ہمارا یہ معا ملہ ہے کہ جہاں کرونا جیسی وبا ء کے لئے پوری دنیا میں ویکسی نیشن کیا جا رہا ہے اور ویکسین کو اس وباء کی روک تھام  کے لیے بہتر بتایا جا رہا ہے ۔ہر ملک اپنے شہری کے لئے ویکسین مہیا کرانے میں لگی   ہوئی ہے تو ہمارے ملک میں ایک بڑا طبقہ اس بات پر منتھن کر رہا ہے کہ آیا یہ ویکسین صحیح ہے یا غلط ۔کل تک جو لوگ وائرس کے نام سے بھی واقف نہیں تھے وہ اس کا علاج بتانے میں لگے ہوئے ہیں اور عوام کا ایک بڑا طبقہ یو ٹیوب اور سو شل میڈیا پر کرونا جیسے وبا ء کا علاج ڈھونڈھنے میں لگے ہیں ۔ڈاکٹر وں پر سے لوگوں کا بھروسہ ختم ہو رہا ہے اور گھر یلو ٹوٹکے پر زیادہ بھروسہ کر رہے ہیں ۔کوئی جھاڑ پھونک میں لگا ہے تو کوئی بے وجہ خوف میں مبتلا ہے ۔اس کی بنیاد ی وجہ ہے کہ ابھی بھی ہمارا معاشرہ پرانے خیالات اور روا یا ت سے باہر نہیں آ سکا ہے اس کے ذمہ دار اہل علم بھی کم نہیں ہیں جنہوں نے علم کو اپنے آپ تک ہی محدود رکھا اور عام لوگوں کو علم سے دور رکھا ۔اس لئے اب بھی حالات کا صحیح تجزیہ کریں اور اپنے آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی
فکر کرتے ہوئے سوچ سمجھ کر پلا ننگ کرنے کی کوشش کی جائے ان کے تعلیم و تربیت کا بہتر انتظام کیا جائے ۔انکی سوچ کو صحیح زاو ئے  میں ڈھالا جائے سا ئنس اور ٹیکنا لوجی سے آراستہ کیا جائے اور ساتھ ساتھ اپنی اچھی روایات اور تہذ یب  بھی  ان کے اندر پیدا کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ ایک جدید اور مہذب معاشرہ تشکیل پا سکے جہاں دنیا وی ترقی کے ساتھ ساتھ سماجی تانا بانا بھی مضبوط ہو لوگ انسانیت کو فروغ دیں اور ظلم و جبر سے اپنے آپ کو بچائیں ،مظلوموں کا ساتھ دیں اور سب کو اس کا بنیاد ی حق بھی ملتا رہے ۔
موجودہ وقت میں جو کرونا کی وجہ کر مشکل حالات در پیش ہیں اس میں تعلیم کے ساتھ ساتھ معیشت کا بھی برا حال ہو گیا ہے ۔لاکھوں لوگوں کے سامنے روزی روٹی کا مسلہ پیدا ہو گیا ہے ۔اس کے معمو ل پر آنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے سرکاری طور پر جو کوششیں  ہو رہی ہیں وہ تو اپنی جگہ پر ہے ہی عام اور خاص لوگوں کو بھی اپنے طور پر کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔بدلتے ہوئے حالات میں اس میدان میں بھی اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ہمارا ملک ایک بڑی آبادی والا ملک ہے جس کی زیادہ تر آبادی گاؤں میں بود باش اختیار کرتی ہے گاؤں میں بنیادی سہولت کے فقدان کی وجہ کر لوگ شہر کی  طرف بھاگتے ہیں شہر کی چمک دمک انہیں اپنی طرف راغب کرتی ہے پھر وہ شہری کلچر کو اپنا نے کی کوشش کرتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گاؤں سے انکی دوری ہونے لگتی ہے اور شہر پر بوجھ بڑھنے   لگتا ہے ضرورت  سے زیادہ گھنی آبادی کی وجہ کر آلو دگی میں اضافہ ہوتا ہے جسکا اثر صحت پر ہوتا ہے ۔ہمیں اس سوچ کو بدلنا ہوگا گاؤں میں ہی رہ کر معیشت کے دروازے کھولنے پڑیں گے ۔کھیتی کو سا ئنٹیفک ڈھنگ سے کرنی پڑے گی ۔نئے اور جدید آلات کا استعمال کرنا پڑے گا جس سے کھیتی میں سہو لت پیدا ہو نئے نئے تجر بے کرنے پڑیں گے ایگری کلچرل سا ئنس  کو بڑھا وا دینا ہوگا ساتھ ساتھ گوٹ فار منگ، فش فارمنگ، اور ڈیری کی صنعت کو بڑھا وا دینا ہوگا ۔باغ لگانے ہوں گے اور پھلوں کی تجارت کی طرف قدم بڑھا نے ہونگے اس طرح ہم ایک بڑی آبادی کو گاؤں میں ہی روزگار ۔مہیا کرانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور ان سب  باتوں میں صاف صفائی کا خاص خیال کرنا پڑیگا جس کے لئے گاؤں کے کلچر کو بھی بھی بدلنے کی ضرورت ہے ہم اچھے اور صاف ستھر ے ڈھنگ کا لباس پہن کر بھی ان سارے کاموں کو بہتر ڈھنگ سے انجام دے سکتے ہیں ۔اس کے ذریعہ ہم گاؤں میں رہکر ہی معیشت کو بھی استحکام بخش سکتے ہیں اور گاؤں کے کلچر کو بھی صاف ستھرا بنا سکتے ہیں ہماری سرکار کا بھی یہی مشن ہے کہ ہر گاؤں کو پکّی سڑک سے جوڑ دیا جائے تاکہ شہر اور گاؤں کی دوری کم ہو جائے اور شہر اور گاؤں کے بیچ آمد و رفت بڑھ جائے ۔

sheebakausar35@gmail.com