زندگی یوں بھی دبے پاؤں گزر جاتی اظہارالحق قاسمی بستوی

103

زندگی یوں بھی دبے پاؤں گزر جاتی
اظہارالحق قاسمی بستوی
آج سے چودہ پندرہ روز قبل آج ہی کے دن 27/ مئی کو نانی کی وفات ہوگئی تھی۔ پھر آج ماموں کے انتقال نے اہل خانہ و متعلقین کو ناقابل بیان رنج والم میں مبتلا کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ خال مکرم کی بال بال مغفرت فرمائے اور پسماندگان و متعلقین پر اپنا خاص رحم فرمائے،
ماموں انتہائی خلیق، سادہ طبیعت، ملنسار، شریف الطبع اور مہمان نواز شخصیت تھے۔ وہ سب سے محبت کرتے تھے اور سب ان سے محبت کرتے۔
ماموں کے انتقال کی داستان صرف اتنی ہے کہ وہ رات کو سوئے اور سوئے رہ گئے،
صبح اذان کے بعد جب مامی نمازِ فجر کے لیے اٹھیں تو دیکھا کہ ان کی روح اس سے قبل کی ہی چند ساعتوں میں قفس عنصری سے پرواز کر چکی تھی
اسبابِ موت میں صرف یہ ہے کہ شاید اختلاج قلب ہوا اور آنا فاناً انتقال ہوگیا۔ بظاہر ان کو کوئی بیماری نہ تھی؛ البتہ وہ سخت موٹاپے کا شکار تھے جس کو کم کرنے کی بسا اوقات مہم جوئی بھی کی۔
ماموں کل دن بھر خوش و خرم تھے اور رات بھی اپنے دوستوں سے شاداں و فرحاں بات چیت کر کے آئے تھے۔ البتہ وہ اس بات کو کہا کرتے تھے کہ اماں (نانی) کے بعد اب میرا نمبر ہے۔ وہ موت کو کثرت سے یاد کرتے تھے۔
ماموں کے پس ماندگان میں پانچ بیٹے، ایک بیٹی اور مامی ہیں۔ بڑے بیٹے کا رشتہ ابھی چند ماہ قبل ہی طے کیا تھا جس کو لے کر وہ پرجوش بھی تھے اور اگلے چند مہینوں میں شادی کا امکان بھی تھا مگر تقدیر نے انھیں مہلت نہ دی۔ ماموں اپنے پانچ بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔
نماز جنازہ مدرسہ عربیہ ہدایت العلوم کرہی، سنت کبیر نگر میں ایک جم غفیر کی موجودگی میں ان کے بھائی اور اپنے جملہ اہل خانہ اور ہم سب کے سرپرست مولانا تصدق حسین صاحب مظاہری، مہتمم مدرسہ دارالعلوم رشیدیہ نائے گاؤں، ممبئی، نے ادا کرائی جو خبرِ وفات کے بعد مرحوم ماموں کے دو صاحب زادوں کو لے کر ممبئی سے تشریف لائے ہیں۔
ماموں کے ساتھ ہماری والدہ کا جڑاو بھی نہایت خاص تھا۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ بچپن میں ماموں کی زندگی کے کئی خوب صورت سال ہماری والدہ کی زیر تربیت ہمارے گاؤں میں اور ہم لوگوں کے ساتھ گزرا تھا۔
ماموں کے اس حادثے نے اس حقیقت کو عملاً بھی پختہ کردیا کہ دنیوی زندگی صرف ایک دھوکے کا سامان ہے۔ اس واقعے نے یہ بھی ثابت کیا کہ واقعتاً عقلمند وہ ہے جو اپنی منشا کو رب کی منشا کے تابع کردے اور موت کے مابعد کی زندگی کے لیے تیاری کرے؛ بل کہ ہر وقت کوچ کے لیے تیار رہے اور لوگوں کے حقوق سے اپنی گردن کو ہلکا رکھے۔ اس سانحے نے یہ بھی دکھلا دیا کہ موت اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے جو وقت موعود پر انسان کو وہ جہاں بھی ہو اور جس عمر کا بھی ہو، آ دبوچتی ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم ماموں جان کی مغفرت فرمائے۔ غلطیوں سے درگزر فرما کر جنت الفردوس عطا فرمائے۔ ماموں کی بیوہ اور بچوں کو صبر و قرار عطا فرمائے جن میں بعض صرف پانچ سات سال کے ہیں۔ جملہ متعلقین کو بھی صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین