گلوبل وارمنگ کی قیمت نہ چکانی پڑتی تو انڈیا کا جی ڈی پی ہوتا 25 فیصد زیادہ

31

 

رپورٹ: نشانت سکسینہ
ترجمہ: محمد علی نعیم

کلائمیٹ چینج ہندوستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے لئے کتنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان کو سیلاب سے 3 بلین ڈالر کا اقتصادی نقصان ہوا جو سیلاب سے عالمی سطح پر ہونے والے نقصان کا دس فیصد ہے
سال 2020 میں امفان طوفان نے 13 ملین لوگوں کو متاثر کیا اور مغربی بنگال سے ٹکرانے کے بعد اس طوفان سے 13 بلین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ، اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اس طرح کی آفات میں کم آمدنی والے طبقے کو زیادہ آمدنی والے طبقے کے بالمقابل زیادہ نقصان ہوتا ہے
اس لئے یہ کہنا بالکل غلط نہیں ہوگا کہ ہندوستان کے لئے کلائمیٹ چینج کے نتیجے میں واقع یہ ایمرجنسی انسانیت اور اقتصادیت کے لئے تباہ کن ثابت ہوگی
کورونا کی دوسری لہر کے دوران طوفان توکتے اور یاس کا آنا اسی تباہی کی ایک جھلک ہے
دنیا کے ایک بڑے تھنک ٹینک یا محققین کی ایک جماعت او ڈی آئی کے ذریعے کی گئی ایک جائزہ رپورٹ(https://odi.org/en/publications/the-costs-of-climate-change-in-india-a-review-of-the-climate-related-risks-facing-india-and-their-economic-and-social-costs/) میں ہندوستان پر کلائمیٹ چینج کے اثرات کا خاکہ مرتب کیا گیا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافہ کیسے ہندوستان کی اقتصادی ترقی کو نقصان پہنچائے گا یہ نقصانات کھیتی کی پیداوار میں گراوٹ، صحت عامہ کو متأثر کرنا، لیبر پروڈکٹیویٹی میں کمی اور سمندری سطح میں اضافہ جیسی شکلوں میں سامنے آسکتے ہیں
اپنی نوعیت کی اس پہلی تحقیق میں کلائمیٹ چینج سے ہندوستانی معیشت پر واقع اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں پایا گیا کہ اگر گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں تخفیف کے لئے فوری طور پر کاروائی نہ کی گئی تو اسکا انسانی و اقتصادی نقصان آنیوالے سالوں میں یقینی طور پر بڑھتی چلا جائے گا
اسکا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ تحقیق کے مطابق اگر عالمی درجہ حرارت 3 ڈگری سیلسیس تک پہنچ جاتا ہے تو سال 2100 میں ہندوستان کے جی ڈی پی میں 90 فیصد کمی واقع ہوجائے گی
اس جائزہ پر او آئی ڈی کے سینئر ریسرچ آفیسر اینجیلا پیکیاریلو کا کہنا ہے کہ ہندوستان پہلے ہی کلائمیٹ چینج کی لاگتوں کو محسوس کررہا ہے اور سال 2020 میں کئی شہروں میں 48 ڈگری سیلسیس سے زائد درجہ حرارت درج کیا گیا اور سال کے کم سے کم ایک مہینے کے لئے ایک ارب لوگوں کو پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا ، اگر عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود کرنے کے لئے گیس کے اخراج میں تخفیف کے لئے مطلوبہ کاروائی نہیں کی گئی تو اسکی انسانی اور اقتصادی قیمت اور زیادہ بڑھ جائے گی
انڈین انسٹیٹیوٹ فار ہیومن سیٹلمینٹ کے سینئر لیڈ پریکٹس امیر بزاز کہتے ہیں کہ ہم نے طوفان توکتے اور یاس کے دوران دیکھا کہ کیسے کم آمدنی والا اور حاشیے کی زندگی گزارنے والا طبقہ کلائمیٹ چینج کے اثرات سے سب سے زیادہ غیر محفوظ ہے وہ اکثر ایسی گنجان بستیوں میں رہتے ہیں جہاں تکلیف کو کم کرنے والی بنیادی ضروریات اور انفراسٹرکچر کی خاصی کمی ہوتی ہے، انمیں بڑی تعداد تو کھڑی ڈھلان اور سیلاب کے میدانوں جیسی خطرناک جگہوں پر رہنے کو مجبور ہیں، اس لئے کلائمیٹ اور انسانی ترقی کے اہداف کو آپس میں جوڑنا بیحد ضروری ہے
اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ اگر ہندوستان کو گلوبل وارمنگ کی قیمت نہ چکانی پڑتی تو اسکی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) آج تقریبا 25 فیصد زیادہ ہوتا
محققین نے ان تمام بنیادوں کا تجزیہ کیا ہے جنکے ذریعے کلائمیٹ چینج ہندوستان کی معیشت کو متاثر کریگا انہوں نے پیش گوئی بھی کی ہے کہ 2100 میں مجموعی گھریلو پیداوار اور زیادہ کم ہوسکتی ہے لیکن کم کاربن والے نظام تیار کرنے سے نہ صرف اس تخمینی نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ اور بھی اقتصادی فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں
او آئی ڈی میں مینیجنگ ڈائریکٹر (ریسرچ اور پالیسی) راتھن رائے کہتے ہیں کہ ترقی کے لئے کم کاربن والے نظام پر عمل پیرا ہونے کی صورت میں اقتصادی سدھار کو فروغ مل سکتا ہے اور مستقبل میں ملک کی خوشحالی کو یقینی بنانے میں مدد مل سکتی ہے
کم کاربن والے متبادل زیادہ مؤثر اور کم آلودگی پھیلانے والے ہوتے ہیں اور اس سے صاف ہوا، زیادہ توانائی کی بچت اور تیزی سے روزگار کی پیداوار جیسے فوائد حاصل ہوتے ہیں
آنیوالی دہائی میں ہندوستان کی پالیسی، سرمایہ کاری اور سفارتی معاملات پر بہت کچھ منحصر ہے اچھی بات یہ ہے کہ فی الحال جی 20 ملکوں میں سے صرف ہندوستان ہی ایسا ملک ہے جو 2 ڈگری کے ہدف کے مطابق قومی سطح پر مشترکہ تعاون (این ڈی سی ) کو پورا کر پارہا ہے لیکن منزلیں ابھی اور بھی ہیں
او ڈی آئی کی کلائمیٹ اینڈ سسٹینبلٹی ڈائریکٹر سارا کولنبرینڈر کہتی ہے کہ اگرچہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ایمیٹر ہے لیکن لیکن ہندوستان میں فی کس ایمیشن عالمی اوسط سے کافی نیچے ہے لہذا ہندوستان کے لوگوں کو اس کلائمیٹ بحران میں تخفیف کا خرچ نہیں اٹھانا چاہئے جو انکا پیدا کردہ نہیں ہے