تعلیمی میدان میں مفکرِ اسلام مولانا سید محمد ولی رحمانی کے تجدیدی کارنامے ـ عبد العلیم رحمانی،

41

ارریہ (توصیف عالم مصوریہ) نوائے ملت
جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر
مفکر اسلام ، امیرشریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نور اللہ مرقدہ نام ہے ایک تحریک کا ، جن کی زندگی قابل رشک، لائق تقلید اور سراپا تحسین ہے۔جامعہ رحمانی کی تعلیمی اورتعمیری ترقی،خانقاہ رحمانی کے حلقے کی توسیع ،امارت شرعیہ کا استحکام اوراس کے دائرۂ کارکی توسیع،مسلم پرسنل لابورڈکی تحریک ،قوم کے نونہالوں کے لیے رحمانی تھرٹی جیسے عدیم المثال ادارہ کاقیام اوررفاہی اورتعلیمی خدمات کے لیے رحمانی فاﺅنڈیشن کی سرگرمیاں امیرشریعت سابع حضرت مولانامحمدولی رحمانیؒ کی تحریکی،علمی،فکری زندگی کے وہ سرمائے ہیں جوان شاءاللہ آپ کے لیے بلندی درجات کاباعث ہوں گے۔آپؒ کے کارہائے نمایاں تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جائیں گے، آپ کی مختلف الجہات خدمات کو ہمیشہ سراہا جائے گا، آپ کا عزم و استقلال ، جرأت و ہمت، حق گوئی و بیباکی امت کے نوجوانوں کے لیے بہترین راہ عمل ہے اور آپ کے مشن کو پورا کرنا آپ کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت ہے۔
امیرشریعت سابعؒ کا مشن ملت کو متحد رکھنا، تعلیم کو فروغ دینااور امت کی حفاظت کے لیے ہمیشہ سینہ سپر رہنا تھا اور یہ خصوصیات آپ کو اپنے آبا و اجداد سے وراثت میں ملی تھیں۔ جس طرح آپ کے دادا فاتح قادیانیت، قطب عالم حضرت مولانا محمد علی مونگیری رحمة اللہ علیہ نے امت کو دارالعلوم ندوة العلما جیسا علمی ادارہ دیا، آپ کے والد ماجد امیر شریعت حضرت مولانا منت اللہ رحمانی نوراللہ مرقدہ نے ملت اسلامیہ ہندیہ کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ جیسامتحد پلیٹ فارم دیا جامعہ رحمانی کو ترقی دی، نصاب تعلیم متعین کیے، صوبہ بہار میں حدیث کی تعلیم کی نشاة ثانیہ فرمائی، امارت شرعیہ کو پروان چڑھایا، اسی طرح امیرشریعت سابع حضرت مولانامحمدولی رحمانی ؒ نے بھی اپنی پوری زندگی کو ملک وملت کی ترقی کے لیے وقف کردیا اور آپ نے جہاں دیگر کارہائے نمایاں انجام دیے، وہیں تعلیمی میدان میں آپ کے کارنامے تجدیدی ہیں ، خواہ وہ جامعہ رحمانی کی تعلیمی ترقی ہو، یا رحمانی فاؤنڈیشن کا قیام یا رحمانی 30 جیسا معیاری عصری ادارہ یا دارالحکمت کی شکل میں عربی تعلیم کی ترویج و اشاعت ہو یا امارت پبلک اسکول کی شکل میں منظم عصری تعلیم کا بندو بست۔یہ وہ تعلیمی ادارے ہیں جن کو باقی رکھنا اور ان کی ترقی کے لیے فکرمند اور کوشاں رہنا ملت کے ہر فرد کا لازمی فریضہ ہے۔
مجھے خوب یاد ہے کہ رمضان المبارک کے موقعے سے ایک مرتبہ حالت اعتکاف میں آپ نے فجر کی نماز کے بعد ہم لوگوں سے باتوں باتوں میں فرمایا تھاکہ والد ماجد رحمة اللہ علیہ اپنی وفات سے قبل ہمیشہ یہ سوچتے تھے کہ میرے بعد ان اداروں کا کیا ہوگا؟ پھر فرماتے کہ ان شاءاللہ اچھا چلے گا، اچھا ہوگا اور دیکھو الحمدللہ کہ آج جامعہ رحمانی کا تعلیمی معیار بلند ہوا ہے اور یہ ادارہ ترقی کررہاہے۔
حضرت امیر شریعت رابع رحمة اللہ علیہ کے بعدجب جامعہ رحمانی کی سرپرستی آپ کے ذمے آئی توآپ نے جزوی ترمیم کے ساتھ طلبہ کی صلاحیت کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف شعبے قائم فرمائے، انجمن نادیة الادب کے تحت طلبہ میں زبان و ادب کی چاشنی اور شعری ذوق پیدا کرنے کے لیے آپ نے بیت بازی (شعری مسابقہ)، قرآنی معلومات میں اضافے کے لیے قرآنی کوئز اور تاریخ و سیر میں مہارت پیدا کرنے کے لیے سیرت کوئز اور تحریری صلاحیت کو نکھارنے اور پروان چڑھانے کے لیے آپ نے خوش خطی کے مسابقہ کا انعقاد فرمایا۔
برملا تقریری استعداد پیدا کرنے کے لیے ارتجالی مسابقہ جیسی اہم روایت شروع کی جس کی نوعیت یہ ہے کہ طلبہ کے سامنے چند پرچیاں رکھی رہتی ہیں جن میں مختلف عناوین لکھے رہتے ہیں ۔طلبہ ان میں سے ایک کا انتخاب کرتے ہیں جو عنوان ان کی قسمت میں آجائے اس پر ان کو برملا تقریر کرنی ہوتی ہے ، ایک عام انسان کے لیے یہ مرحلہ بڑا دشوار گزار ہوتا ہے ، لیکن الحمدللہ کہ طلبہ جامعہ کے حوصلے اس سے بلند ہوئے اوران کی تقریری صلاحیت میں کافی نکھارآیااوراتنااعتمادآگیاکہ کسی بھی موضوع پربرملااظہارخیال کرسکیں۔
جامعہ رحمانی میں حافظ قرار دیے جانے کے لیے چھ یوم میں مکمل قرآن مجید سنانے کو لازمی قرار دیا اور طلبہ کی دستاربندی کے لیے بھی یہی شرط قرار پائی ۔ساتھ ہی آپ نے ان طلبہ کے لیے نقد انعامات کا بھی نظم فرمایا جو ایک / دو / تین ایام میں مکمل قرآن مجید سنادیں ، یہ تجربات بتاتے ہیں کہ آپ کی فکر کتنی معیاری اور بلندتھی۔
بات ہے 1998ءکی، جب کہ ٹیکنالوجی سے لوگوں کو بہت ہی کم سروکار تھا ، بہتیرے لوگ اس سے ناواقف تھے؛ لیکن آپ نے ضرورت کو محسوس کیا اور رحمانی فاونڈیشن کی داغ بیل رکھی،جس کے تحت بلا تفریق مذہب طلبہ کو کمپیوٹر کی بہتر تعلیم دی جاتی ہے ۔ یہ ادارہ جہاں تعلیمی ہے تو اس کی دوسری حیثیت رفاہی تنظیمی ادارہ کی بھی ہے۔ اس کے تحت مفت طبی کیمپ بھی لگائے جاتے ہیں، لوگوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے، سال میں ایک مرتبہ آنکھوں کا کامیاب آپریشن کیا جاتا ہے، موتیابند کے مریضوں کی آنکھوں میں مفت میں لینس لگایا جاتاہے۔
اسی رحمانی فاونڈیشن کے تحت فروغ تعلیم کے لیے رحمانی مکتب کا قیام عمل میں آیا جس کے تحت غریب و نادار طلبہ کو دینی و عصری تعلیم سے آراستہ کیا جاتا ہے۔موجودہ حالات کے پیشِ نظر 2014ءمیں اس کے تحت مونگیر اور اطراف مونگیر کے طلبہ کے لیے رحمانی بی ایڈ کالج بھی قائم کیا گیا جو ضلع مونگیر کے طلبہ کو تعلیمی میدان میں خدمات کے مواقع فراہم کررہا ہے اور طلبہ برسر روزگار ہو رہے ہیں۔
مسلم طلبہ کے لیے کبھی یہ خواب ہوا کرتا تھا کہ وہ بھی آئی آئی ٹی ( جے ای ای) جیسے مقابلہ جاتی امتحان میں شریک ہوں اور بین الاقوامی سطح پر ملک و ملت کا نام روشن کریں ۔سنہ 2008ءمیں اس مرد قلندر نے امت کے نونہالوں کے اس خواب کوبھی پورا کردیا اور رحمانی 30 جیسا کامیاب، متحرک اور فعال ادارہ قائم کیا، جو روز اول سے ہی مسلم طلبہ کے لیے بہت ہی مفید تر ثابت ہوا اور ہر سال یہ ادارہ ایک اچھی تعداد کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کررہا ہے اور آج چہار دانگ عالم میں اس ادارہ اور اس کے قائم کرنے والے اللہ کے مخلص بندے کانام روشن ہورہا ہے۔اس ادارہ کے پروان چڑھانے میں آپ کے ہونہار فرزندان نے بھی انتھک محنت کی اور کررہے ہیں۔ ادارے ایسے ہی ترقی نہیں کرتے کچھ پانے کے لیے بہت کچھ کھونا پڑتا ہے ، سب کچھ لٹانا پڑتا ہے، یہ بات رحمانی 30 پر بھی صادق آتی ہے اس ادارہ کے بانی اور ان کے فرزندان نے بھی اپنا سب کچھ لٹا دیا ، شاید یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگی کہ رحمانی 30 پر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ حضرت رحمة اللہ علیہ نے اس کوباقی رکھنے کے لیے اپنی اور اپنے لائق صاحبزادگان کی زمینیں بیچ دیں، لیکن اس ادارہ کو باقی رکھا:
پھونک کر اپنے آشیانے کو
بخش دی روشنی زمانے کو
مزید یہ کہ آپ کے چھوٹے فرزند ارجمند جناب ڈاکٹر حامد ولی فہد رحمانی نے اپنی لاکھوں کی نوکری کو تیاگ دیا۔ رمضان المبارک کے موقعے سے حضرت رحمة اللہ علیہ نے ایثار و قربانی کی مثال دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ” دیکھ لیجیے میں نے اپنے چھوٹے فرزند سے کہا کہ اب میری عمر اس لائق نہیں کہ اتنی ساری ذمے داریاں بیک وقت انجام دے سکوں ، تم رحمانی 30 کی دیکھ بھال کرو! وہ اپنی لاکھوں کی نوکری چھوڑ کر آگئے اور رحمانی 30 کو چلارہے ہیں “۔یہ کوئی معمولی قربانی نہیں ہے۔
الحمدللہ اب یہ ایک شجر سایہ دار بن چکا ہے،جس کی شاخیں ملک کے متعدد صوبے میں پھیل چکی ہیں اور اس کے تعلیم یافتہ طلبہ ملک اور بیرون ملک میں ملک و ملت کا نام روشن کررہے ہیں۔رحمانی 30 نے اپنے تعلیمی دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے آئی آئی ٹی کے علاوہ میڈیکل ، سی اے اور لا وغیرہ کی بھی تیاری شروع کردی ہے اور الحمدللہ کہ تمام شعبوں میں یہ ادارہ نمایاں کامیابی کی طرف گامزن ہے۔اللہ تعالیٰ اس شجر سایہ دار کو ہمیشہ پھل دار رکھے اور کامیابیوں سے ہم کنار فرماتا رہے آمین

حضرت رحمة اللہ علیہ کا ذوق عربی زبان و ادب میں بھی بڑا معیاری تھا، آپ اچھی عربی بولنے کے ساتھ لکھنے پر بھی بڑی قدرت اور ملکہ رکھتے تھے ۔اس لیے آپ نے سنہ 2012 ءمیں جامعہ رحمانی میں ایک ایسا شعبہ قائم فرمایا جس کا مقصد ہی عربی زبان و ادب کو فروغ دینا ہے ، آپ نے اس کی ذمہ داری اپنے بڑے صاحبزادہ موجودہ سجادہ نشیں جانشین مفکر اسلام حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کو دی، وجہ یہ تھی کہ دیگر علوم وفنون میں مہارت کے ساتھ ساتھ حضرت سجادہ نشیں کا عربی زبان و ادب کاذوق بھی بہت ہی بلندہے۔اس شعبہ کے قیام کا مقصد بھی ایک اچھا حافظ اور عالم تیار کرنا ہے ، جس کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی تدریسی زبان عربی ہے ، اس میں حفظ کے طلبہ کو حفظ قرآن مجید کے ساتھ عربی زبان کی بھی تعلیم دی جاتی ہے، ساتھ ہی ساتھ اردو، انگریزی، حساب اور سائنس بھی پڑھایا جاتا ہے، یہ شعبہ کل بارہ صفوف ( درجات) پر مشتمل ہے جس کے ابتدائی پانچ سال حفظ قرآن مجیدکے لیے اور اخیر کے سات سال عالمیت کے کورس کے لیے ہیں۔ اخیر کے سات سالوں میں تفسیر، حدیث، فقہ، عقائد، سیر اور تاریخ وغیرہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس شعبہ میں ہندوستانی اساتذہ کے ساتھ ساتھ جامعہ ازہر مصر کے اساتذہ بھی اپنی گرانقدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

 

اس کڑی کو مزید مضبوط اور ثمر آور بنانے کے لیے حضرت رحمة اللہ علیہ نے جامعہ رحمانی کا جامعہ ازہر مصر سے معادلہ(الحاق) کروایا تاکہ جامعہ رحمانی کے طلبہ فراغت کے بعد ازہر یونیورسٹی جاکر دیگر علوم وفنون کے ساتھ عربی زبان و ادب کی معیاری تعلیم حاصل کریں۔
حضرت رحمة اللہ علیہ کا دور امارت بھی بڑے سنہرے حروف سے لکھا جائے گا، جس اخلاص و للہیت اور عزم و حوصلہ کے ساتھ آپ نے امارت شرعیہ کے کاموں کو آگے بڑھایا، اس کو ترقی دی، دارالقضا کے نظام کو وسعت دی، قضاة بحال کیے، تنظیم کے کاموں کو مضبوط اور مستحکم کیا، امارت شرعیہ کا اپنا ٹرسٹ بنوایا، امارت کی تمام زمینوں کے کاغذات کو امارت میں محفوظ کروایا ، غرض کہ امارت شرعیہ کے تمام شعبوں میں ایک حرکت پیدا کردی، جس سے آج بہار ، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے تمام لوگ امارت شرعیہ اور اس کے مقاصد سے بخوبی واقف ہیں۔ساتھ ہی ساتھ آپ نے اس مضبوط و مستحکم پلیٹ فارم سے تعلیمی ادارے قائم فرمائے، بنیادی دینی تعلیم کے لیے جگہ جگہ مکاتب کا نظم کیا، اس کے لیے نصاب تیار کروائے، امارت پبلک اسکول کا قیام ہوا، جس کے تحت مسلم بچے (سی بی ایس سی) بورڈ کے نصاب کو پڑھ سکیں ، ان کا تعلیمی معیار بلند ہوسکے، اردو زبان کے تحفظ اور اس کے فروغ کے لیے کاروان اردو کمیٹی کی تشکیل کی اور ایسی عمر میں ان تحریکات کے لیے آواز بلند کی جو عمر آرام کرنے کی ہوتی ہے ، لیکن جن کے اندر کچھ کرنے کا جذبہ ہوتا ہے، جن کے قلوب میں امت کا درد ہوتا ہے، وہ راحت و سکون کی پرواہ نہیں کرتے اور قوم و ملت کی خدمت ہی کو اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں ، وہ اپنی حیات کاایک ایک لمحہ خداکے بندوں کوفائدہ پہنچانے میں لگاتے ہیں۔ ان کاموں کی انجام دہی میں بھی اللہ کی رضا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی تبلیغ و اشاعت مقصود ہوتی ہے ، جس کا اللہ تعالیٰ دونوں جہان میں بدلہ عطا کرتا ہے۔
آج امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نور اللہ مرقدہ ہمارے بیچ نہیں رہے؛ لیکن ان کی تحریکات، ان کے لگائے ہوئے باغات، ان کے چھوڑے ہوئے ادارے ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ اگرہم آپ کی تحریکات کو زندہ رکھیں گے، آپ کے کاموں کو آگے بڑھائیں گے تو یہی ہم سبھوں کی طرف آپ کو حقیقی خراج عقیدت ہوگا اور آپ کی روح کو سکون پہنچے گا ۔اخیر میں رب ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں اس عاجز کی التجا ہے کہ رب کریم آپ کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور جنت الفردوس میں اپنے شایان شان جگہ عطا فرمائے۔آمین یارب العالمین۔