آج انسانیت کہاں ہے؟؟؟ کوئی تو انسان کو انسانیت سے ملا دے!!!!

119

آج انسانیت کہاں ہے؟؟؟
کوئی تو انسان کو انسانیت سے ملا دے!!!!

ہمارے استاد، ہمارے ماں باپ بچپن میں ہمیں حضور پاکﷺ کی انسانی ہمدردی پر مبنی واقعات سناتے تھے۔ طائف کے نوجوانوں نے اس طرح حضور پاکﷺ پر پتھر برسائے تھےکہ حضور پاکﷺ لہولہان ہوچکے تھے مگر پھر بھی حضور پاکﷺ نے ان نوجوانوں کے لئے غلط نہیں سوچا۔
ایک عورت حضور پاکﷺ پر روزانہ کچرا ڈالتی تھی ۔مگر جب اس نے کچھ دنوں تک آپ پر کچرا نہیں پھینکا تو اس عورت کے گھر آپ تشریف لے گئے۔آپ کے اپنے لوگ آپ کو ستاتے تھے۔کئی لوگ گالیاں دیتے مگر آپ گالیاں سن کر بھی دعائیں دیتے۔ حضور پاکﷺ وہ شخصیت ہیں جن کے لئے یہ دنیا وجود میں آئی۔ایک مرتبہ ایک شخص حضور پاک ﷺکے سامنے حاضر ہوا اس نے گفتگو کے دوران حضور پاکﷺ کو گلے سے پکڑا جس کی وجہ سے آپ کا گلا سرخ ہوگیا ۔صحابہ جب جواب دینے کے لئے آگے بڑھے تو حضور پاک ﷺنے صحابہ کو منع کیا ۔ان واقعات کا آپ سب کو ہم سے زیادہ علم ہوگا۔ ہم سب ایسا انسانیت کا جذبہ رکھنے والی ہستی کی امت ہیں۔
ہاں مگر دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے۔ ہمارے اعمال اس کی گواہی بالکل بھی نہیں دیتے۔ہم اپنے برے کرموں کے باوجود اشرف المخلوقات ہیں۔ہم اشرف المخلوقات کے لقب پر قابض ضرور ہیں مگر ہم اس قابل نہیں ہیں۔ ہمارے اعمال ہمارا خود ساختہ مہذب معاشرہ جس میں ہم خدا بنے بیٹھے ہیں اور سینہ تانے اس بات کا اعادہ بھی کرتے ہیں کہ ہم کالے اور گورے کے مالک ہیں۔ ہم یہ بھول چکے ہیں کہ ایک خدا ہمارے اوپر بھی ہے جس کی لاٹھی بے آواز ہے۔ جانے وہ کب چلے گی لیکن چلے گی ضرور اور انصاف بھی ہوگا۔
ہم اچھے گھروں میں پیدا ہوئے ۔دین کی تعلیم اپنے بزرگوں سے حاصل کیں اور مسلمان کہلائے۔ اور اب اس پر نازاں ہیں کہ جنت کے بھی حقدار ہم ہی ہوں گے ۔ہم یہ بھی بھول بیٹھے ہیں کہ جنت اور جہنم کا تعلق ہماری اس محدود اور مختصر عرصے کی زندگانی میں کہیں نا کہیں موجود ہے ۔یہ بات تو طے ہے کہ ہماری موت کے بعد کا ایک جہاں ہے جو انصاف کے دن سے شروع ہوگا۔ جہاں ہماری جزا و سزا کا تعین ہونے کے بعد ہم جنت یا جہنم میں جائیں گے ۔لیکن ایک جہاں یہ بھی ہے جو موت سے پہلے کا جہاں ہے۔ جہاں اللہ نے ہمیں بھیجا ہے زندگی دے کے ۔نیک سلوک کا رویہ اپنانے اور انسان بننے کا موقع دیا ہے۔
ہمیں جس سبق کو سب سے زیادہ پڑھنے کی ضرورت ہے وہ انسانیت ہے۔ انسانیت ایک عام سا لفظ ہے مگر اس کو آس پاس کے ماحول کے مطابق سمجھا جائے تو یہ ایک سچائی کے کڑوے گھونٹ کی مانند ہے۔ آج دنیا تعلیم یافتہ لوگوں سے بھر گئی ہے۔ بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انسانیت سے خالی ہوگئی ہے ۔پہلے دو لوگ لڑتے تھے تو تیسرا صلح کراتا تھا مگر آج وہ تیسرا انسان ویڈیو بنا کر پھیلاتا ہے۔ کوئی راستے میں زخمی پڑتا ہے اسے اسپتال پہنچانے کی بجائے پہلے ویڈیو بنائی جاتی ہے۔ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل سمجھا جاتا مگر اب ہر روز کئی قتل ہورہے ہیں اورکسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لوگوں کے دلوں سے پیار محبت احساس ختم ہوچکا ہے۔
انسانیت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو انسان سے وابستہ رکھتا ہے اور اگر یہ احساس دلوں سے ختم ہو جائے تو معاشرہ ،قوم اور تخت و تاج سب تباہ اور برباد ہو جاتے ہیں۔ دور حاضر میں اپنی خرابیوں اور برائیوں کو نظر انداز کر کے ہر انسان کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہر انسان کے دل سے انسانیت اور احساس ختم ہو چکا ہے، انسانیت مر چکی ہے۔ہمارے معاشرے میں انسانیت دم توڑ چکی ہے ،انسانیت کا جنازہ اٹھ رہا ہے۔پہلے جب کسی کا قتل ہوتا تھا تو دور تک سناٹا چھا جاتا تھا۔ دل خون کے آنسو روتا تھا۔ لیکن آج ہر طرف خون کی نہریں بہہ رہی ہیں‘ کسی کی لاش ندی سے ملتی ہے تو کسی کی گٹر سے، تو کسی کی جنگل سے ۔ کسی کے ہاتھ کٹےکسی کے پیر، کسی کا سر۔ آج انسان نے اپنے اندر سے انسانیت کو اس طرح نکال پھینکا ہے جیسے ایک پودے کو جڑ سے اکھاڑ دیا ہو ۔آج انسان صرف اپنے لئے جی رہا ہے۔ اس کی زندگی کا مقصد صرف اس کی اپنی ذات ہے۔ صرف اپنے لئے جی رہا ہے۔ سب کو اپنی کرسی، اپنی شہرت، اپنا عہدہ اور دولت چاہئے ۔پھر چاہئے کچھ بھی کرنا پڑے۔ کسی کو کسی کی نہ فکر ہے نہ پرواہ۔ جیسے انہوں نے آب حیات پیاہو ،انہیں مرنا ہی نہیں ہے۔
وہ زمانہ کب کا ختم ہو گیا جب لوگوں کے دلوں میں دوسروں کے لئے احساس تھا۔  آج انسانیت کی چڑیا اڑ چکی۔ اب یہ لوٹ کر کبھی نہیں آنے کی۔کیا ہم انسان ہیں ؟ کیا ہمارے اندر انسانیت ہے؟انسانیت کے خوبصورت لبادے میں ملبوس، درحقیقت انسانیت کی تمام حدیں پھاند کر حیوانیت کی عملی تفسیر بتائیں۔ انسانیت کہاں دفن کردی گئی ہے آخر؟ لوگوں کے اندر انسانیت کا فقدان نظر آرہا ہے۔
آج اصل میں انسان خوفناک درندوں سے بھی بڑھ کر حیوانیت کے پیکر، جن کی رگ رگ میں حیوانیت اور بربریت کا خون دوڑتا ہے، جن کی آنکھوں سے حیوانیت ٹپکتی نظر آتی ہے، جب ظلم کرنے پر آتے ہیں تو بھول جاتے ہیں کہ جن پر ہم ظُلم وبربریت کی داستانیں رقم کررہے ہیں وہ بھی ہماری ہی طرح کے انسان ہیں۔آج انسان نے ایک ایسے خوفناک وحشی درندے کا روپ دھار لیا ہے جو حیوانیت اور بربریت کی ایسی خوفناک ظالمانہ منظر کشی کرتا نظر آتا ہے کہ جس کے بعد بے اختیار منہ سے نکلتا ہے کہ انسانیت کہاں مر گئی؟ کوئی تو انسان کو انسانیت سے ملا دے!!!!
انسان نے ایسی نئی نئی اور حیران کن ایجادات کر ڈالی ہیں، جن کو دیکھ کر عقل دنگ ہے۔ جنگلات میں رہنے والے جانوروں سے لے کر زمین پر رینگتے ہوئے کیڑوں مکوڑوں تک کوئی بھی چیز انسان کی نظروں سے اوجھل نہیں رہی ہے، اور زمین ہی نہیں، انسان نے تو چاند پر بھی اپنے قدم جما لیے ہیں اور سمندر کی تہہ میں رہنے والی مخلوقات پر بھی دسترس حاصل کر لی ہے۔ یہ سب کچھ بہت بڑا کمال ضرور ہے، لیکن افسوس ! خلاؤں کو قابو کرنے اور زمین کی تہوں میں جھانکنے والا انسان تمام جدید اور انوکھی چیزوں کو ایجاد کرنے میں تو کامیاب ہوگیا، لیکن انسانیت کو بچانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ انسان دن بہ دن انسانیت سے دور ہو کر درندگی کے اس قدر قریب ہو رہا ہے کہ اب یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ دل کی جگہ پتھر تو نہیں ہے انسان کے سینے میں!!!
انسانیت کیونکر مر جاتی ہے ۔یہ بات مان لیتے ہیں کہ ایک معاشرے میں رہتے ہوئے اکثر معاملات میں ہم سب الگ سوچ و نظریہ رکھتے ہیں۔ لیکن دو انسانوں کے لیے ایک دوسرے کے جذبات کی ہمیں قدر کرنا ہو گی ۔وہاں اگر ہمارے نظریات ان دونوں کے مطابق نہیں ہیں، پھر بھی اس میں کوئی درمیانہ رویہ اپنانا ہوگا۔جو چیز آپ اپنی انفرادی زندگی میں محسوس کریں وہ کوئی المیہ ہو سکتا ہے یا کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ ہو سکتا ہے آپ اسے پڑھنے اور سوچنے والوں تک ضرور پہنچائیں یہ سماج آپ کا مرہون منت ہے آپ اسے اپنے تجربات ،اپنے نقطہ ٔنظر کی صورت میں پیش کریں تاکہ سوچنے سمجھنے والاطبقہ غور کر سکے کہ انسانیت کیوں کہاں اور کب دم توڑ رہی ہے۔
سب سے آخر میں آپ ﷺ کی اُمت! اسلام تو ہےہی امن وسلامتی کا دین، اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے دنیا کا جس میں آپ ﷺ نے اپنے امتیوں کو دوسرے مذاہب کا احترام کرنے کا حکم دیا، انسانوں سے محبت کا درس دیا، انسانیت سے پیار کا حُکم دیا تو پھر کیا وہ شخص مسلمان کہلائے جانے کے لائق ہو سکتا ہے جو انسانیت کا قتل کرے؟ایک انسان کا ناجائز قتل ساری انسانیت کا قتل کہلایا جاتا ہے، کہیں لوٹ مار میں مزاحمت پر قتل کیا جاتا ہے تو کہیں چھوٹی سی لڑائی ہو جانے پر کسی کو قتل کر دیا جاتا ہے، کہیں زر زمین جائیداد کی خاطر تو کہیں زن کی خاطر انسانیت کو قتل کیا جاتا ہے اور اب تو ایسا وقت آچکا ہے کہ مارنے والے ظالم کو نہیں معلوم کہ میں اس انسان کو کیوں مار رہا ہوں اور مرنے والے کو بھی خبر نہیں ہوتی کہ مجھے کیوں مارا گیا ہے؟ یہ سب اللہ کا عذاب ہی ہے جو ہم پر نازل ہوچکا ہے۔
اللہ کے لیے اپنے اعمال درست کر لو کیونکہ اللہ کی ناراضگی ہم لوگوں سے بڑھتی چلی جارہی ہے، کہیں طاقت کے نشے میں یہ مت بھول جانا کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے جب پکڑ ہوگی تو برداشت نہ کر سکو گے، اس کی پکڑ بہت سخت ہے۔ جو کسی کو مارتا ہے وہ خود بھی اُسی وقت مرجاتا ہے تھوڑی دیر کا غصہ حیوانیت کا عروج بن کر سامنے آتا ہے۔ غصہ برداشت کرنا سیکھیں، لوگوں سے پیار کرنا سیکھیں۔ خدمت کا موقع دوبارہ نہیں ملا کرتا، خدمت کے موقع ہاتھ سے جانے مت دیں، دنیا اور آخرت میں کامیاب وہی ہے جس نے بڑھ کر خدمت کے موقع کو تھام لیا، اللہ بھی اُسی سے پیار کرتا ہے جو اُس کے بندوں سے پیار کرتا ہے،اپنے اندر تھوڑی سی ہی سہی انسانیت پیدا کریں۔

سیدہ تبسم منظور ناڈکر۔ ممبئی
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال اسٹار نیوز ٹو ڈے


9870971871