لکشدیپ کے ایڈمنسٹریٹر پرفل پٹیل کو فوری عہدے سے ہٹایاجائے انڈین یونین مسلم لیگ کے اراکین پارلیمان کا صدر ہند کو مکتوب

59
لکشدیپ کے ایڈمنسٹریٹر پرفل پٹیل کو فوری عہدے سے ہٹایاجائے
انڈین یونین مسلم لیگ کے اراکین پارلیمان کا صدر ہند کو مکتوب
نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)۔ انڈین یونین مسلم لیگ (IUML) کے لوک سبھا رکن ای ٹی محمد بشیر، ایم پی عبدالصمد صمدانی اور راجیہ سبھا رکن پی وی عبدالوہاب نے مشترکہ طور پر عزت مآب صدر ہند رام ناتھ کووندکو ایک مکتوب روانہ کیا ہے۔ جس میں اراکین پارلیمان نے صدر ہند سے درخواست کیا ہے کہ وہ لکشدیپ کے ایڈمنسٹریٹر پرفل کھوڈا پٹیل کو فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹائیں جو لکشدیپ میں غیر جمہوری اور سخت قوانین میں اصلاحات اور ایگزیکٹوایکشن پر عمل کررہے ہیں۔ مکتوب میں یہ بھی درخواست کیا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے ممبران پارلیمان بشمول کیرلا اراکین پارلیمان کے ایک وفد کو لکشدیپ روانہ کیا جائے۔ لکشدیپ ایڈمنسٹریٹر کے غیر جمہوری، سخت قانونی اصلاحت کی وجہ سے لکشدیپ کے غریب شہریوں کو بدنظمی اور پریشان کن تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لکشدیپ کے غریب شہریوں پر ظلم کرنے والے پرفل کھوڈا پٹیل جو گجرات کے ایک سیاستدان ہیں جزیرے میں مقیم ہیں وہ 6/12/2020کوایڈمنسٹریٹر کے عہدے کا چارج سنبھالا تھا۔ انہوں نے عوام کے مفاد اور آئینی اصولوں کے خلاف جزیرے میں نئے قواعد و ضوابط متعارف کروانا شروع کردیا ہے۔ لکشدیپ پنچایت ریگولیشن 2021کو فروری 2021میں متعارف کرایا گیا ہے جس کے ذریعہ منتخب پنچایت باڈیس کے اختیار اور افعال واپس لے لئے گئے ہیں۔ ایڈمنسٹریٹر کو بلدیاتی اداروں سے بالا تر بالادستی عطا کی گئی ہے اور یہاں تک کہ بلدیاتی اداروں کے ذریعہ فلاحی اقدامات سے متعلق کاموں کیلئے ایڈمنسٹریٹر کو اختیار دیا گیا ہے۔ جن افراد کے 2سے زیادہ بچے ہیں ان کو نئے ضابطے میں دفعہ 14(1) (n) کو شامل کرکے الیکشن لڑنے سے نااہل قرارد یا گیا ہے۔ مذکورہ بالا تمام اقدامات غیر جمہوری اور غیر آئینی ہیں اور مکمل طور پر دستور ہند کی73ویں ترمیم کی روح کے خلاف ہے۔ ایڈمنسٹریٹر نے لکشدیپ جانوروں کے تحفظ سے متعلقہ قانون 2021کے نفاذ کے ذریعہ نئے قانونی اصلاحات کو متعارف کروایا ہے۔ مذکورہ بالا ایکٹ کا سیکشن 5میں اس ریاست میں گائے کے گوشت پر پابندی ہے جہاں 100%فیصد آبادی غیر سبزی خور ہے۔ مزید یہ کہ لکشدیپ میں اب شراب نوشی کی اجازت ہے۔ یہ تمام قانونی اصلاحات جزیرے میں مقسیم شہریوں کے ثقافتی اور مذہبی رواج اور حقوق کے خاتمے کیلئے متعارف کرائی گئی ہیں۔ لکشدیپ میں ایک اور قانونی اصلاح کی گئی ہے اور غنڈہ ایکٹ متعارف کیا گیا ہے۔ حقیقت میں لکشدیپ ایک یونین پردیس ہے جہاں مجرمانہ مقدمات صفر ہیں۔ غیر جمہوری قوانین کے نفاذ کے خلاف احتجاجات پر قابو پانے کیلئے غنڈہ ایکٹ متعارف کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لکشدیپ میں مقامی ملازمین کو ایڈمنسٹریٹر کے ذریعہ سرکاری خدمات سے برخاست کردیا گیا ہے اور ریاستی انتظامیہ ماہی گیروں اور دیگر کے خلاف فوجداری مقدمات درج کررہی ہے۔ ایڈمنسٹریٹر کی سرگرمیاں آزادی سے قبل کے دورانیے میں برطانوی طرز انتظامیہ کا اعادہ کرتی ہیں۔ لکشدیپ واحد یونین علاقہ ہے جہاں 18/01/2021تک کوئی کوویڈ کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا۔ نئے ایڈمنسٹریٹر پرفل پٹیل نے کوویڈ کی تمام پابندیوں میں نرمی کی ہے جو وباء کے تیزی سے پھیلاؤ کا باعث بنی۔ 23/05/2021تک لکشدیپ میں آبادی کا تقریبا77فیصد کوویڈ سے متاثر ہوا ہے اور کل 24اموات کا معاملہ سامنے آیا ہے اور ٹیسٹ مثبت ہونے کی شرح 68فیصد سے زیادہ ہے۔ لکشدیپ ایک جزیزہ ہے جہاں کافی طبی سہولیات میسر نہیں ہیں، لہذا دیگر ریاستوں اور یونین پردیسوں کی نسبت زیادہ پریشانیوں کا سامنا ہے۔ یہ سب ایڈمنسٹریٹر کے ناجائز مقاصد اور خراب انتظامیہ کے نتیجہ ہے۔ لکشدیپ کے لوگ ملیالم بولنے والے ہیں اور ان کا سفر مقام اور انتظامیہ کے دفاتر کیرلا میں واقع ہیں۔ دیکھا جارہا ہے کہ سفر مقام اور دیگر دفاتر کو منگلور کرناٹک منتقل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایڈمنسٹریٹر کا پوشیدہ ایجنڈا بہت اچھی طرح سے تیار کیا ہے جسے وہ لکشدیپ میں لاگو کرنا چاہتے ہیں۔ ایڈمنسٹریٹر کے ذریعہ کئے جانے والے اقدامات آئین ہند کے تحت محفوظ جمہوری اصولوں اور حقوق آزادی پر حملہ ہیں۔ اس ضمن میں رکن پارلیمان ای ٹی محمد بشیر نے ابتدائی مرحلے کے دوران ہی لوک سبھا کے ممبر کی حیثیت سے 13/02/2021کو پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا۔