اہل مدارس کو وقتی طور پر حکمتِ عملی تبدیل کرنے کی ضرورت، اظہارالحق بستوی

42

اہل مدارس کو وقتی طور پر حکمتِ عملی تبدیل کرنے کی ضرورت،
اظہارالحق بستوی
استاذ: مدرسہ عربیہ قرآنیہ، اٹاوہ، یوپی
izhar.azaan@gmail.com
#8686691311

کورونا وبا کا دوسرا سال چل رہا ہے اور یہ وبا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ بل کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں اضافہ اور اس کی شکلوں میں تنوع آتا جا رہا ہے۔ ہر دن کورونا کی نئی شکل دریافت ہو رہی ہے جو اپنی گزشتہ شکل سے زیادہ خطرناک معلوم ہو رہی ہے۔

دوسری طرف اہل مدارس کا گزشتہ ایک سال مدارس کھلنے کے انتظار میں گزر گیا۔ دوسرے اداروں، اسکولوں اور تعلیم گاہوں نے آن لائن تعلیم کے ذریعے کچھ حد تک تعلیمی نقصان کی بھرپائی کرلی اور اپنے طلبہ کا سال ضائع ہونے سے بچا لیا۔ مگر ہمارے مدارس کے طلبہ کا مکمل سال ضائع ہوگیا۔

اہل مدارس پورے سال منتظر رہے کہ شاید اب، شاید تب مدارس کھولنے کی اجازت مل جائے مگر سب کچھ کھلنے اور کھولنے کے باوجود مدارس نہ کھل سکے۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ چھوٹے مدارس نے چپکے سے کچھ دن مدرسہ چلا لیا یا صرف مقامی چند طلبہ کو لے کر پڑھ پڑھا لیا مگر نوے فی صد طلبہ مدارس کا سال برباد ہوگیا۔

جس کے نتیجے میں طلبہ کا مزاج پڑھنے سے کافی دور چلا گیا ہے اور وہ اپنی خواندہ کتابوں کو بھی ذہنوں سے محو کر چکے ہیں۔ اطلاع یہ بھی ہے کہ بے شمار طلبہ اب ضروریات خانہ کی تکمیل کے لیے چھوٹی موٹی ملازمتوں اور کاروبار میں لگ چکے ہیں اور پڑھائی سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ سمجھا جا سکتا ہے کہ سوا سال تک تسلسل کے ساتھ کتابوں سے دوری اور حالات کی مار طلبہ کو کیا گل کھلائے گی۔ جن طلبہ کو ایک دن کتاب سے دوری پر بتلایا جاتا تھا کہ وہ کئی روز تک اس کا نقصان اٹھائیں گے ان کا پندرہ مہینے اپنی کتابوں سے دوری پر کیا حال ہوگا سمجھا جا سکتا ہے۔

کورونا کی وبا ابھی کب تک رہے گی کچھ واضح نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا کے بعد کی دنیا اب پہلے کے جیسی کبھی نہیں ہوگی۔ بعضوں کا کہنا ہے کہ یہ بیماری اب دو سو سال رہے گی۔ چار پانچ سال اس کا باقی رہنا یقینی بتایا جا رہا ہے۔ پھر کورونا کی تیسری لہر کے بارے میں پیش گوئیاں کی جا چکی ہیں کہ وہ اب تک سب سے خطرناک لہر ہوگی جس سے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

ایسی صورت حال میں (خدا نہ کرے) مدارس کا اپنی اصلی حالت پر جلد لوٹ پانا آسان نہیں لگ رہا ہے۔ پھر جب کہ شر پسند عناصر مدارس کو اپنی آنکھ کا کانٹا سمجھتے ہیں تو وہ ہر ممکن کوشش سے مدارس کے کھلنے میں رکاوٹ پیدا کریں گے۔

جب صورت حال ایسی ہے تو کیا مدارس والوں کو ابھی بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے حالات کے نارمل ہونے کا انتظار کرنا چاہیے اور چاہے جتنا وقت گزر جائے مگر مدارس کو اپنی قدیم شکل کے علاوہ کسی شکل میں چلانے پر غور نہیں کرنا چاہیے یا اس صورت میں وقتی طور پر اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرکے اپنے طلبہ کی تعلیم کی فکر کرنی چاہیے اور ان کے مزید سال ضائع ہونے اور انھیں علم سے محروم رہنے سے بچانا چاہیے۔

سوال یہ ہے کہ ایسے حالات میں مدارس کو کیا کرنا چاہیے کہ بچوں کو بآسانی پڑھایا جا سکے اور ان کا وقت ضائع نہ ہو اور باطل، مدارس کو بے کار بنانے کے مشن میں کامیاب بھی نہ ہو۔

ایسے میں سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اہل مدارس خود اس مسئلے پر سر جوڑ کر بیٹھیں اور کسی حل تک پہونچنے کی کوشش کریں۔ نئی تبدیلیوں کو قبول کرنے کے لیے خود کو تیار کریں۔ امت کو درپیش چیلنج سے نکالنے کے لیے پرعزم ہوں۔

کچھ باتیں میرے ذہن میں بھی ہیں۔ چوں کہ ہم نے سال گزشتہ اپنے مدرسے میں کئی مہینے اس کا عملی اور مفید تجربہ بھی کیا ہے اس لیے ان کو بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

1۔ آن لائن تعلیم ہی آف لائن تعلیم کی متبادل ہے۔ لہذا مدرسے کی ہر جماعت کا الگ الگ واٹساپ یا ٹیلیگرام گروپ بنا لیا جائے جس میں ایک جماعت کے سارے طلبہ کو جوڑ لیا جائے تاکہ اس میں وقتاً فوقتاً طلبہ کو ہدایت دی جاسکے۔ اس گروپ میں سارے متعلق اساتذہ کو ایڈمن بنایا جائے تاکہ وہ حسب ضرورت طلبہ کو جوڑ سکیں یا اس کے نظام میں تبدیلی کر سکیں۔

2۔ آن لائن پڑھانے کی ایک شکل یہ ہے کہ طلبہ کی ہر جماعت کو زوم یا گوگل میٹ ایپ یا کسی اور ایپ پر پڑھایا جائے۔ اسکول والے عموما یہی طریقہ اپناتے ہیں۔ سبق اسی پر سنا بھی جائے اور پڑھایا بھی جائے۔ یاد داشت والی کتابوں کو بھی پڑھانے کا یہی بہتر طریقہ ہے۔

اگر زوم وغیرہ کا سبسکرپشن لے لیں تو بہت مفید رہے گا۔ مدارس اپنا جو خرچہ طلبہ کی خوراک، رہائش اور لائٹ وغیرہ پر خرچ کرتے تھے اس کا کچھ حصہ اب اس طرف موڑ دیں تو بڑی سہولت ہو جائے گی۔

تفہیم و تشریح والی کتابوں کو پڑھانے کی زیادہ بہتر شکل یہ ہے کہ اساتذہ اسباق کی اسکرین ریکارڈنگ کرلیں اور مدرسہ اسے اپنی یوٹیوب سائٹ پر اپلوڈ کردے۔ (اپلوڈ کرنے کے لیے چند لوگوں کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ تیز انٹرنیٹ کے ساتھ چند گھنٹوں میں سارے اسباق اپلوڈ ہو جائیں گے ان شاءاللہ۔) اپلوڈ ہونے کے بعد متعلقہ درجے کے گروپ میں اس کی لنک بھیج دی جائے اور طلبہ کو سبق سننے کا پابند کردیا جائے۔ اور اگلے دن زوم وغیرہ پر کچھ طلبہ سے سبق ضرور سنا جائے۔ اس طرح طلبہ جڑ بھی جائیں گے اور گِھر بھی جائیں گے اور پڑھ بھی لیں گے۔

3۔ اسکرین ریکارڈنگ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ویڈیو کے جواز کے عدم قائلین بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں کہ اسکرین پر صرف کتاب کھلی رہے گی اور استاذ کی آواز ریکارڈ ہوجائے گی۔ Xrecorder کے نام سے ایک ریکارڈر ایپ پلے اسٹور پر موجود ہے۔ اس کے لیے علاوہ ایپس کو بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

4۔ روزانہ چالیس منٹ کی زیادہ سے زیادہ چار گھنٹیاں پڑھائی جائیں۔ ہرجماعت کی صرف تین اہم ترین کتابیں باقاعدہ پڑھائی جائیں اور دیگر کتب کو دو دن اور تین دن کے حساب سے تقسیم کردیں۔

5۔ حفظ کی تعلیم عموماً مقامی طلبہ کی ہوتی ہے اس لیے انھیں استاذ مختلف اوقات میں ایک دو گھنٹے بلاتا رہے۔ اور دور کے بچوں کو بھی مقامی علماء و ائمہ سے استفادہ کرنے کے لیے کہہ دیا جائے۔ اور اساتذہ انھیں اپنے ربط میں رکھیں۔ اس میں والدین کا تعاون بھی لیا جائے۔ پارہ ختم ہونے پر جائزہ کا نظم رکھیں وغیرہ۔ حسب ضرورت گھنٹہ دو گھنٹہ زوم ایپ پر یا گوگل میٹ اور واٹساپ پر بھی پڑھا سکتے ہیں۔

6۔ آج پوری دنیا آن لائن تعلیم سے جڑ چکی ہے اس لیے اس کے اور بھی نئے طریقے ہوں گے جن کی تلاش کرکے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اس حوالے سے اساتذہ کی کسی قدر ٹریننگ کی بھی
ضرورت ہو سکتی ہے جس کے لیے کسی ماہر سے ٹریننگ بھی لی جا سکتی ہے۔

7۔ جس طرح آف لائن کلاس میں چار، دس، بیس، پچاس، سو، پانچ سو اور ہزار طلبہ سبق میں شریک ہو سکتے ہیں اسی طرح آن لائن میں بھی جڑ سکتے ہیں۔

8۔ اگر کوئی یہ کہے کہ اس سے طلبہ موبائل کے عادی ہو جائیں گے تو اسے یہ جاننا چاہیے کہ طلبہ ہی نہیں، پوری دنیا اس وقت موبائل کی عادی ہے۔ اچھی بات یہ ہوگی کہ یہ عادت مفید بنا دی جائے۔ پچانوے فیصد گھروں میں بڑے فون انٹرنیٹ کے ساتھ موجود ہیں۔ بقیہ پانچ فیصد بھی حسب تقاضا انتظام کرلیں گے ان شاءاللہ۔

9۔ شروع میں یہ تھوڑا اٹ پٹا ضرور لگے گا مگر یہ جاننا چاہیے کہ یہ نیو نارمل یعنی نیا معمول بہا کام ہے۔ بہت ممکن ہے کہ دنیا اب اسی ڈھرّے پر باقی رہے۔ اس لیے ہم کو بہت تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

10۔ اس سلسلے میں مہتمم و صدر مدرس حضرات کا پختہ عزم سب کو کام پر لگا دے گا۔ راہ فرار اختیار کرنے والوں کا علاج یہ ہے ان کی ٹریننگ کروائی جائے اور انھیں شوق دلایا جائے۔ چند دن میں وہ سب لوگ عادی ہو جائیں گے ان شاءاللہ۔ آج کون ہے جو ویڈیو کال نہیں کرتا! یا ویڈیو خطاب نہیں کرتا۔ یا آن لائن تعزیت نہیں کرتا۔ ٹھیک ہے کہ ویڈیو ریکارڈنگ کو بہت سے لوگ غیر جائز کہتے ہیں ایسے لوگ اسکرین ریکارڈنگ سے سبق پڑھائیں اور آن لائن سبق سن لیں۔

یہ بات مفید تر معلوم ہوتی ہے کہ موقع کی نزاکت سے اپنی پالیسی فوراً تبدیل کی جائے۔ شوال کا مہینہ بھی چل رہا ہے اس لیے اس میں مزید تاخیر سے گریز کرنا چاہیے۔ مدارس جب کھلیں گے (خدا کرے کہ وہ دن جلد آئے) تو ان شاءاللہ حسب سابق قال اللہ اور قال الرسول کی صدائیں بلند ہوں گی۔ ابھی وقت ہے کہ آن لائن اس صدا کو بلند کیا جائے تاکہ باطل ہمیں پیچھے سے پچھے تر کرنے اور رکھنے کی اپنی کوششوں میں کامیاب نہ ہو اور ہم اپنے طلبہ کو مزید نقصان سے بچا سکیں۔

عام علماء سے بھی گزارش ہے کہ کہ وہ اس حالت میں جہاں بھی ہیں تعلیم کے قدیمی نظام کو بھی زندہ کریں، یعنی اپنے مقام پر مسجد، مکان، ڈیوڑھی میں درس وتدریس کی بساط بچھائیں اور جیسے بھی ممکن ہو طالبان علم کی پیاس بجھانے کی شکلیں نکالیں۔

*چندے کے سلسلے میں بھی حکمت عملی تبدیل ہو*

گزشتہ رمضان میں مالی فراہمی نہ ہوسکنے کے سبب اکثر اہل مدارس پورا سال زبوں حالی کا شکار رہے۔ پھر امید تھی کہ سال رواں رمضان میں گزشتہ غموں کا کچھ ازالہ ہو جائے گا مگر کرونا کے عفریت نے اس رمضان ایک بار پھر اپنے پیر پسار دیے اور اہل مدارس ایک بار پھر مدارس کی ضروریات کی فراہمی نہ کرسکے۔

اس سلسلے میں بھی حکمت عملی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کہ ماہ رمضان کے علاوہ حالات کو دیکھتے ہوئے چند بڑے اداروں کا وفاق کسی مہینے کے سلسلے میں طے کردے کہ فلاں مہینے میں ملک گیر سطح پر سفراء چندہ کریں گے۔ ملکی سطح پر اس کا اعلان بھی کردیا جائے تو چھوٹے مدارس بھی زندہ رہ سکیں گے۔ اس کے کامیاب ہونے کی صورت میں مستقبل میں کسی بھی مشکل صورت میں اہل مدارس پریشان نہیں ہوں گے ان شاءاللہ۔

اللہ تعالیٰ پوری انسانیت پر اور بطور خاص ہندوستان کے اہل مدارس پر اپنا خاص رحم و کرم فرمائے اور مدارس کے طلبہ کی مزید تعلیمی نقصان سے حفاظت فرمائے اور مدارس کے جلد کھلنے کی سبیل فرمائے۔ جو آن لائن کی ہمت کرسکیں ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔