امیر الہند قاری عثمان منصور پوری کی وفات ملت اسلامیہ ہند کے لئے ناقابل تلافی نقصان:صادق قاسمی

53
پچھلے دو سالوں میں تسلسل کے ساتھ ہمارے درمیان سے علماء کرام کا انتقال ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے-
پورنیہ-24/مئی(نوائے ملت) بہت ساری خوبیوں اور کمالات کی حامل شخصیت نمونہ سلف جمعیتہ علماء ہند کے باوقار صدر اور ایشیاء کا عظیم مرکز دارالعلوم دیوبند کے کارگزار مہتمم امیرالھند حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری رحمۃ اللہ علیہ کی وفات ملت اسلامیہ ہند کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے-گزشتہ روز جمعہ کے دن تقریباً سوا ایک بجے ان کی وفات کی خبر سن کر ملک بھر میں بالعموم علمی و ادبی حلقوں اور بالخصوص جمعیتہ علماء(م) کے حلقہ ادارت میں غم کی لہر طاری ہے-ان کی وفات پر اظہار رنج و غم کرتے ہوئے جمعیتہ علماء ضلع پورنیہ کے نائب صدر اور جامعہ صدیقیہ للبنات کے مہتمم مولانا صادق قاسمی دھرم باڑی بائسی ضلع پورنیہ بہار نے کہا کہ امیر الہند حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری ایک باکمال استاذ حدیث ہونے کے ساتھ اعلیٰ انتظامی و تحریکی صلاحیتوں کے مالک تھے-ان کی وفات سے ملت اسلامیہ ہند بالخصوص جمعیتہ علماء ہند اور ایشیا کا عظیم مرکز دارالعلوم دیوبند اپنے ایک محسن و مربی سے محروم ہو گیا-قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ ملت اسلامیہ ہند کے لئے ایک عظیم سرمایہ اور سنہرا باب تھے جو دارالعلوم دیوبند میں مسند درس و تدریس پر فائز ہو کر ایک طویل عرصہ تقریباً 36/سال تک تدریسی خدمات انجام دئیے-ان کے ہزاروں کی تعداد میں شاگرد ملک اور بیرون ملک دین اسلام کی خدمت میں مصروف ہیں جو قاری صاحب کے لئے صدقہ جاریہ ہے-امیر الہند قاری عثمان صاحب منصورپوری رحمتہ اللہ علیہ مجاہد آزادی شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی نوراللہ مرقدہ کے داماد تھے-مولانا صادق قاسمی دھرم باڑی نائب صدر جمعیت علماء ضلع پورنیہ بہار نے کہا کہ امیر الہند حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری رحمۃ اللہ علیہ ازہر ہند دارالعلوم دیوبند کے کارگزار مہتمم اور استاد حدیث ہونے کے ساتھ ساتھ دارالعلوم دیوبند کے مختلف علمی و تحریکی شعبوں کے سرپرست رہے،دارالعلوم دیوبند میں شعبہ تحفظ ختم نبوت کے قیام سے لے کر وفات تک آپ ہی سرپرست اعلیٰ رہے، اس شعبہ کے ذریعہ ملک کے کونے کونے اور دیہی علاقوں تک کا سفر کرکے ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ ارتداد سے مسلمانوں کو بچانے کی کامیاب کوشش کی-وہ ہندوستانی مسلمانوں کی قدیم اور سرگرم تنظیم جمعیتہ علماء ہند کے باوقار صدر بھی رہے اور اس منصب کے ذریعہ بھی ملک و ملت کی قابل لحاظ خدمت انجام دئیے، ان کے دور صدارت کی خصوصیت یہ رہی کہ مختلف مسالک کے علماء و ذمہ داران بھی جمعیتہ کے اسٹیج پر نظر آتے تھے،وہ ملک ہندوستان میں سبھی طبقوں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے بھی کوشاں رہے-واضح رہے کہ قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے دو فرزند مفتی سید محمد سلمان منصور پوری مرادآباد شاہی میں اور چھوٹے فرزند مفتی سید محمد عفان صاحب منصورپوری جامع مسجد امروہہ میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں-مولانا قاسمی نے کہا کہ درس و تدریس کے دنوں میں قاری صاحب کی بےپناہ محبت و شفقت ہمارے سروں پر رہا کرتی تھی، قاری صاحب ہمیشہ فروغ انسانیت اور خدمت انسانیت کی تعلیم دیا کرتے اور سیاسی امور پر بھی کھل کر باتیں کرتے ان کی وفات سے علمی دنیا میں جو خلا پیدا ہوا ہے اسے بھرنے میں بہت وقت لگے گا-اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کامل مغفرت فرمائے،جنت الفردوس میں اعلی سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور وارثین،پسماندگان اور متعلقین و متوسلین کو صبر جمیل عطا فرمائے-آمین یا رب العالمین