مفتی محفوظ الرحمن عثمانی۔—-یاد تیری پل پل ستاۓ گی

64

مفتی محفوظ الرحمن عثمانی۔—-یاد تیری پل پل ستاۓ گی

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار و اڈیشہ و جھارکھنڈ

مولانا مفتی ڈاکٹر محفوظ الرحمن عثمانی نے بھی ٢٣/مئ ٢٠٢١ء بروز اتوار بوقت ساڑھے پانچ بجے شام میداز ہوسپٹل پٹنہ میں آخری سانس لی، ڈاکٹر زیڈ آزاد کی مسلسل محنت اور مولانا مفتی محفوظ الرحمن صاحب کی قوت مدافعت کام نہیں آسکی اور اللہ رب العزت کے مقرر فرشتے نے اپنا کام کردیا، دل خون کے آنسو روتا ہے، دماغ پریشان ہے؛لیکن زبان پر نہ کوئی شکوہ ہے اور نہ شکایت۔شکوہ کروں بھی تو کس سے، اس اللہ سے جو رحمنٰ و رحیم ہے، ربّ العالمین ہے،میں تو غم کی اس کیفیت کے ساتھ رنج کے لفظ کے استعمال کو بھی درست نہیں سمجھتا؛حالانکہ لوگ ایسے موقع سے رنج و غم کو مترادف کے طور پر استعمال کرتے ہیں، بندہ کی شان راضی برضاۓ الہی میں ہے، اور میں اس غم کے موقع سے اناللہ کے علاوہ للہ ما اخذ ولہ ما اعطی و کل شئی عندہ لاجل مسمی سے زیادہ کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں، اللہ ہی نے دیا، اللہ ہی نے لے لیا اور ہر چیز کے لیے اس کے نزدیک ایک وقت مقررہے۔
مولانا ڈاکٹر مفتی محمد محفوظ الرحمن عثمانی رح بن مولانا محمد ایوب رحمانی بن منشی مظہر حسین بن طریب اللہ بن شیخ سیف علی بن حسن اللہ صدیقی کی ولادت ١٥/اگست ١٩٦٠ء کو موجودہ ضلع سوپول کے مدھوبنی میں ہوئی، ناظرہ قرآن اپنے والد محترم سے پڑھنے کے بعد فارسی کی ابتدائی تعلیم مدرسہ فیض عام رحمانی۔چین سنگھ پٹی سوپول سے اور عربی کی ابتدائی تعلیم جامعہ سراج العلوم تیل ہٹہ بازار سیوان سے حاصل کی،ایک سال کے لئے جامعہ نور الاسلام پیر گیٹ میرٹھ میں بھی داخل ہوئے، وہاں سے دارالعلوم وقف دیوبند گئے، جہاں متوسطات تک کی تعلیم حاصل کی، پھر مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور چلے گئے اور یہیں سے سند فراغت پائی۔
١٩٨٨ء میں جامعہ علوم الاسلام بھوج کچھ گجرات سے تدریسی زندگی کا آغاز کیا؛لیکن یہ سلسلہ زیادہ دن قائم نہیں رہ سکا؛البتہ گجرات کی محبت دل و دماغ میں راسخ ہوگئی، وہاں سے آنے کے بعد کچھ دن مفتی صاحب نے مادر علمی مظاہرعلوم کی مالیات کو مضبوط کرنے کا کام کیا، اور چند سال جامعہ رحمانی مونگیر کی مالیات کے لئے بھی کام کرتے رہے؛لیکن یہ سلسلہ بھی زیادہ دراز نہیں ہوسکا اور مفتی صاحب نے ١٦/شعبان ١٤٠٩ھ مطابق ٢٥/مارچ ١٩٨٩ء کو اپنے آبائی گاؤں مدھوبنی میں جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ کی بنیاد ڈالی اور پوری زندگی اس کے تعلیمی معیار اور تعمیرات کو بلند کرنے میں لگا دیا۔
ایک زمانہ میں یہ ادارہ وفاق المدارس الاسلامیہ امارت شرعیہ سے بھی ملحق تھا، بعد میں بعض خارجی وجوہات کی وجہ سے یہ الحاق باقی نہیں رہ سکا۔ مولانا مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نے مدرسہ کے ساتھ ایک عالی شان جامع مسجد کی بنیاد رکھی اور اپنی زندگی میں ہی اسے اس قدر پرشکوہ بنایا کہ عہد سلاطین کی تعمیر مساجد کی یاد تازہ کردی، پرتاب پور سے قریب شاہ راہ سے متصل واقع ہونے کی وجہ سے لوگ دور دور سے اسے دیکھنے آتے ہیں۔
مولانا نے مدرسہ کے احاطہ میں ایک خانقاہ کی بھی بنیاد ڈالی، انہیں کئی بزرگوں سے خلافت حاصل تھی، ان میں حکیم محمد اسلام انصاری خلیفہ اجل حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رح کا نام سرفہرست ہے،کہیں تزکرہ میں تو نہیں ملا ؛,لیکن مولانا عبد الستار صاحب استاذ نورالاسلام میرٹھ نے بتایا کہ تدریب افتاء کے لئے کچھ وقت انہوں نے وہاں لگایا تھا اور غالباً مفتی کی سند وہیں سے ملی تھی، بعد میں ایک یونیورسٹی نے ان کی خدمات پر اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی تو ڈاکٹر بھی ان کے نام کا جزو ہوگیا، لاک ڈاؤن کے پورے زمانہ میں کم و بیش ایک سال سے زائد سے وہ خانقاہ میں ہی قیام پذیر تھے، سفر وغیرہ سے گریز تھا، لیکن بیماری نے اس کے باوجود پکڑ لیا اللہ کی مرضی یہی تھی کہ وہ ہم سے جدا ہوجائیں۔
مولانا کے پس ماندگان میں اہلیہ کئی بچیاں اور دو لڑکے مدنی و مکی ہیں، یہ دونوں لفظ ان کے لڑکوں کےنام م کا لاحقہ ہے، اور عرف کے طور پر استعمال ہوتا ہے ، مولانا کو اللہ تعالیٰ نے صاف ستھرا تصنیفی ذوق بھی دیا تھا وہ معارف قاسم کے مدیر اعلیٰ تھے،انہوں نے قاضی مجاہد الاسلام قاسمیپر معارف قاسم کا نمبر بھی نکالا تھا. قادیانیت،ختم نبوت اور فرق باطلہ پر انہوں نے نایاب کتابوں کو دوبارہ مرتب کرکے شائع کروایا اور قادیانیوں کے تعاقب میں بھی اپنی توانائی صرف کی، خانوادہ قاسمی سے ان کی محبت، شیفتگی اور وارفتگی کے سارے مراحل طے کرچکی تھی،ان کے جامعہ میں شاید ہی کوئی ہندوستان کا مشہور و معروف عالم یا ولی اللہ ہو جن کی آمد نہ ہوچکی ہو، جامعہ میں آنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے،ان میں ملک و بیرون ملک کی نمایاں شخصیات شامل ہیں۔
مولانا کی اپنی ایک سیاسی سوچ بھی تھی، ایک زمانہ میں وہ لالو پرشاد یادوسے بہت قریب تھے، پھر وہ نتیش کمار سے قریب ہوۓ اور ہوسپیٹل کے سنگ بنیاد کے موقع سے انہیں جامعہ لے بھی گئے تھے، وہ ہر کام سلیقے سے کرتے تھے اور اس سلیقگی کے برتنے میں غیر معمولی سرمایہ خرچ کیا کرتے تھے،علماء اور اکابر کے لئے سفرخرچ اور ہدایا پر بھی ا نکےہاتھ کھلےہوےتھے، زرکثیر کے صرفہ کو لوگ تعجب کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور اسی وجہ سے حلقہ احباب میں ان کا لقب انبانی العلماء پڑ گیا تھا۔واقعہ یہ ہے کہ وہ دوستوں کے دوست تھے اور مخالفین سے مقابلہ کی غیر معمولی قوت و صلاحیت ان کے اندر تھی وہ زیر اور پس پا ہونا نہیں جانتے تھے اس کی وجہ سے کئی بار ان پر ملک و بیرون ملک میں احوال آۓ، لیکن انہوں نے اس کا مردانہ وار مقابلہ کیا، ان کے دہلی آفس کو کئی بڑے صحافی حضرات کی خدمات حاصل تھیں ، میڈیا،ذرائع ابلاغ پر ان کی گہری نظر رہا کرتی تھی، وہ اپنی پل پل کی سرگرمیوں سے لوگوں کو بھی باخبر رکھنے کی کوشش کرتے تھے، جس سے ان کے کام سے لوگوں کو واقفیت بہم پہنچتی رہتی تھی۔
مفتی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے تقریر کی اچھی صلاحیت دی تھی، ان کی زبان علماء کے دفاع میں خوب چلتی تھی،آپسی مجلس میں وہ جو کہتے رہے ہوں؛ لیکن دوسروں کے سامنے وہ علماء ہند کی خدمت کا خاص طور پر ذکر کرتے، خانوادہ قاسمی اور ولی اللہ کے تذکرے، واقعات اور ان کے زریں کارناموں کے ذکر سے اپنی تقریروں کو مزین کرتے تھے ، انہوں نے ملک و بیرون ملک کے بے شمار اسفار کیے اور سفر کو کامیاب کرنے کے لئے پوری توانائی انہوں نے لگائی،وہ اپنے مخصوص لباس ،لمبے کرتے، لنگی، سر پر پگڑی اور اس کے اوپر رومال کی وجہ سے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کراتے، بات کرنے کے اپنے مقناطیسی انداز سے جلدی لوگوں کا دل موہ لیتے تھے، ملک و بیرون ملک میں سیکڑوں علماء، صلحاء سے ان کے تعلقات تھے، بیرون ملک میں درجنوں لوگوں سے ان کی ذاتی شناسائی تھی، اور وہ ان کے مہمان ہوا کرتے تھے ان میں دبئ، پناما، جنوبی افریقہ وغیرہ کئی ایسے ممالک ہیں جہاں کے لوگوں کو ان کی آمد کا انتظار رہتا تھا۔
مفتی صاحب سے میری ملاقات کم و بیش دو دہائی کو محیط ہے، امارت شرعیہ آنے کے بعد وفد کا ایک پروگرام ان کے مدرسہ میں ہوا تھا؛ گو اس موقع سے وہ وہاں نہیں تھے، سفر پر تھے؛ لیکن پل پل کی خبر رکھتے رہتے، بار بار فون پر پرسش احوال کر تے رہے ، بعد میں جامعہ کے کئی پروگرام میں مجھے مدعو کیا، ایک دو مجلس کی صدارت بھی کرائ، ہوسپیٹل کے سنگ بنیاد میں بھی مدعو کیا، وہ امارت شرعیہ کے کاموں کے لئے بھی فکر مند رہتے تھے،میرے جنوبی افریقہ، بوٹ سوانہ اور برطانیہ کے سفر کے بھی وہی محرک تھے، جنوبی افریقہ میں امارت کا بھر پور تعارف انہوں نے کرایا، برطانیہ میں کم از کم دوسال اپنے ساتھ لیکر لوگوں سے ملواتے رہے، مسجد میں تقریر کے لیے بھی تحریک کرتے، تعارف کراتے وقت کہتے تھے کہ میرا ادارہ تو ابھی بنا ہے، امارت شرعیہ کی خدمات سو سالوں کو محیط ہیں، اس طرح تعارف کرتے اور لوگوں سےملواتے یہ طرز عمل میں نے بیرون ملک میں ان لوگوں کا بھی نہیں دیکھا جو امارت شرعیہ کے کئی وجوہات سے قریب تھے، عام طور سے لوگ انہیں امارت شرعیہ کا مخالف سمجھتے تھے، لیکن میں نے تو ان کے ساتھ سفر کیا ہے، انہیں برتا ہے، اس لیے بڑے اطمینان سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ وہ امارت شرعیہ کے مخالف نہیں تھے گو بعض خارجی وجوہات کی وجہ سے ادھر چند سالوں سے امارت شرعیہ میں ان کا آنا جانا کم ہوگیا تھا پھر بھی گاہے گاہے فون پر خیریت دریافت کرلیا کرتے تھے، بیماری کے دوران کم از کم میں نے دوبار دریافت حال کیا، فرمایا کہ طبیعت ٹھیک نہیں ہے، پھر وہ میداز ہوسپٹل میں بھرتی ہوگئے تو ان کے صاحبزادہ سے بات ہوئی کل خبر ملی کہ وہ وینٹی لیٹر پر چلے گئے،اور آج ٢٣/مئی کو ان کی کتاب زندگی کا آخری ورق الٹنے کی خبر آگئی، اللہ ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے، اور پسماندگان کو صبر جمیل اور علاقے کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے آمین یارب العالمین