مولاناحسین احمدقاسمی بافیض مدرس اورکام یاب منتظم تحریر:مفتی انواراحمدقاسمی نائب صدرمدرسہ عارفیہ سنگرام

32
مولاناحسین احمدقاسمی بافیض مدرس اورکام یاب منتظم
تحریر:مفتی انواراحمدقاسمی نائب صدرمدرسہ عارفیہ سنگرام
بھاری بھرکم بدن گھنی ڈاڑھی ،متوسط قد،وجیہ چہرہ ،عاجزانہ رفتار،متواضع گفتار،سینکڑوں میں اپنی وجاہت وجسامت سےممتاز،سادگی کی پہچان اورتصنع وتکلف سےبےنیازصفات کےسراپاتھےمولاناحسین احمدقاسمی۔
۱۹۶۴؁ءمیں دربھنگہ لہیریاسرائےسےپورب پریم جیورگاؤں میں پیداہوئے،ابتدائی تعلیم اورحفظ گاؤں میں مولوی مشتاق صاحب رشیدپوری کےپاس مکمل کیا،حفظ قرآن کریم کادورمدرسہ رحمانیہ سوپول میں مکمل کیا،عربی کی ابتدائی تعلیم مدرسہ اتحادالمسلمین باگھاکسمارمدھوبنی میں پھرمدرسہ اصلاحیہ نامنگرنبٹولیہ میں حاصل کرکےدارالعلوم دیوبندمیں داخل ہوئےاور۱۹۸۷؁ء دارالعلوم دیوبندسےفراغت حاصل کئے،بعدفراغت عصری تعلیم حاصل کرکےبی اےکی سندحاصل کئے۔چندسال قلب دربھنگہ میں واقع کٹکی بازارکی مسجدمیں امام وخطیب رہے۔۱۹۹۳؁ءمیں شمالی بہارکےضلع مدھوبنی میں واقع مشہوردرس نظامی مدرسہ عارفیہ سنگرام میں صدرمدرس کےعہدہ پرفائزہوکرتعلیمی ،تدریسی وانتظامی خدمات سےمدرسہ عارفیہ کانام ضلع وملک میں روشن کیا۔پانچ سالہ دورمیں مدرسہ عارفیہ کامعیارتعلیم وتربیت بلندہوا۔طلبہ کی بڑی تعداد کی اول چاہت مدرسہ عارفیہ بن گیا۔عربی چہارم میں تعلیم حاصل کرنےکےبعدطلبہ دارالعلوم میں داخلہ لےکرآگےکی تعلیم مکمل کرتے۔مولانااپنےبارعب جسارت ،صدرات اورانتظامی اھلیت کی وجہ سے’’صدرصاحب ‘‘ سےعوام وخواص میں مشہورہوگئے،اورصدرصاحب بولنےاورسننےسےمولاناہی مرادہونےلگے،طلبہ عظام مولاناکےاندازدرس اورافہام وتفہیم سےبہت مطمئن ہوتےاورمولاناشفقت پدری کاسایہ بن کرطلبہ کوسنوارتے۔اساتذہ کرام کوبھی مولاناکی علمی لیاقت ،تقوی وطہارت اوراخلاص وللھیت پرمکمل اعتمادہوتاجس کی وجہ سےمدرسہ کےجملہ امورکی انجام دہی میں بہت مددملتی ،اورمشفقانہ جذبہ سےمحبت کےساتھ سب لوگ کام کرتے۔
مولانامزاجاکم گوتھے،ضروریات زندگی میں سادگی پسندکرتے،وہ ہمیشہ انتہائی معمولی کپڑےمیں نظرآتے،وہ کپڑوں کوپریس کرنےیاکروانےسےبالکل بےپرواتھے۔ان کی اداسےمعصومیت ٹپکتی ،وہ ایذارسانی کی صلاحیت سےعاری تھے،انہیں نہ علم کاغرورتھا،نہ کام یاب اورمقبول مدرس ہونےپرفخرتھا،اپنی ذات پردوسروں کوترجیح دیتےمدرسین وطلبہ اورمہمانوں کااکرام خوشدلی وسخاوت سےکرتے۔مدرسہ کےلیےمالی فراہمی کےسفرمیں مشقت برداشت کرنےاورطویل مسافت پیدل طےکرنےمیں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے۔مدرسہ عارفیہ کی مغربی عمارت کی دوسری منزل مولاناکی جانفشانی وقربانی کاعظیم شاہکارہے۔
مدرسہ عارفیہ کوخیربادکہہ کراپنےگاؤں میں اپنی زمین پرمدرسہ قاسمیہ کی بنیاد۱۹۹۹؁ءڈال کرتعلیم وتعلم کاسلسلہ شروع کیا۔تن تنہاپوری جانفشانی سےمدرسہ کوترقی دیتےرہے،وہ علاقہ انگریزی تعلیم یافتہ ہےوہاں دینی تعلیم کاماحول نہیں ہےاس لئےاس جگہ مدرسہ کاقائم ہوناتمام لوگوں کےلیےایک عجوبہ تھااورمولاناکوبھی ابتدائی مراحل میں اجنبیت کازیادہ احساس ہوامگرمدرسہ عارفیہ کےسابقہ تعلقات ان کےلیےمعاون ثابت ہوئے،مدرسین پرمدرسہ کوچھوڑکرخودانتظام وانصرام میں رات دن لگےرہتےبلکہ ان کاپوراگھرانہ مدرسہ کےطلبہ کوآرام پہونچانےمیں فکرمندرہتے۔درجہ حفظ کی تعلیم کوترقی دیئےاوربلاناغہ ہرسال ۱۰؍سےبارہ کی تعدادمیں حافظ قرآن کوتیارکردیتے۔سال کےآخرمیں حفاظ کرام کی دستاربندی کاایک پروقارجلسہ کرتے،جس میں صرف ایک یادوبڑےعالم کودعوت اسٹیج دیکرآدھی رات تک پروگرام ختم کردیتے۔علاقےسےجن لوگوں کومدعوکرتے تمام لوگ بڑی محبت سےجلسہ میں شریک ہوتےاورمدرسہ قاسمیہ آکراپناتعاون پیش کرنےپرفخرمحسوس کرتے،عام جلسوںکی طرح مقررین کی فہرست اورشاعروں کاجمگھٹانہیں رھتا۔بہت ہی محدود وقت میں مرتب پروگرام کرتے۔راقم آثم مدرسہ عارفیہ کےتدریسی دورسےمولاناکےہم مزاج وہم فکررہا،مولاناہرسال کےپروگرام میں نیک خوہشات کےساتھ مدعوکرتےاورمیں ان کےپرخلوص دعوت پرلبیک کہتا۔
مدرسہ قاسمیہ کی مثالی تعلیم وتربیت اورمولاناکی للھیت کی وجہ سےدورونزدیک کےعلاقےمیں دینی تعلیم کارجحان عام ہوا۔یہاں تک کہ دربھنگہ شہرکےاہل ثروت ومتدین حضرات اپنےبچوں کوشہرسےنکال کرسہولیات سےخالی گاؤں کےمدرسہ میں بھیجنےلگے،دربھنگہ شہرمیں جتنےعلماءمشائخ اورملت کےکام کرنےوالوں کااثرورسوخ ہےان میں مولاناحسین احمدقاسمی کانام بھی نمایاں ہے۔
مولانانےمدرسہ قاسمیہ کوسینچنے،اس کوپروان چڑھانےاوراس کےبام ودرکوسجانےمیں ۲۲؍سالوںسےآخری دم تک پوری ہمت ،صلاحیت اورصحت کالگادیا۔مولانانےاپنےگھروالوں سےمدرسہ کےلیےخوب محنت کرایا۔جس کی وجہ سےمولاناکی صحت خراب ہونےلگی ،دوسال قبل عابدہ زاہدہ اھلیہ مرحومہ کےانتقال سےمولاناکی کمرٹوٹ گئی ،مدرسہ کےکاموں میں ساتھ دینےوالاایک بازوٹوٹ گیا۔مولاناکی صحت پربہت برااثرپڑا۔شکراورگردہ کےمرض میں مبتلاہوگئے،ان حالات میں بھی مولانامدرسہ کی فکرمیں گھلتےاورمحنت کرتے۔پوری زندگی اپنےپرانےقدیم طرزکےبنےہوئےگھرمیں زندگی گذاردئیے۔کہنےوالےان سےاپنی اولاد کےلئےگھربنانےکےلیےکہتےتوجواب دیتے کہ پہلےمدرسہ بناؤں گامجھےمدرسہ کی فکرہے۔گھرمیں کیسےبھی رہ لیں گے۔واقعی کہنےوالےکاشعرمولاناپرمکمل صادق آتاہے۔
پھونک کراپنےآشیانےکو    روشنی بخش دی زمانےکو
مدرسہ کی تمام عمارت اورمسجدمکمل ہوچکی ہے،اب آنےوالےدن میں مدرسہ کےذمہ دارکوصرف تعلیم کی فکرکرنی پڑےگی ،تعمیرات سےمدرسہ کاچمن آبادہے۔
مولاناکااصلاحی تعلق حضرت مولانااشتیاق احمدصاحب مدظلہ العالی خلیفہ حضرت شیخ الحدیث مولانازکریاصاحب ؒسےتھا،اورمولانااپنےمدرسہ کےبارےمیں اہم مشورہ اپنےشیخ سےلیکرکام کوانجام دیتے۔اب مولاناصرف ۵۷؍سال کی عمرمیں اللہ کےپیارےہوگئے،ان کی اصلی میراث صدقہ جاریہ کی شکل میں مدرسہ قاسمیہ زندہ وتابندہ ہے۔اس کے علاوہ مولاناکےپسماند گان میں والدہ حیات سےہیں اوردوصاحبزادےحافظ ومولوی معتصم باللہ وحافظ محمدانس اورچارلڑکیاں ہیں ،مولاناکےایک روحانی بھائی مولاناامداداللہ جوان کےبچپن کےاستاذمشتاق کےلڑکےہیں ۔مولاناکےاہل خانہ کےایک فردہیں ۔اللہ تعالی مولاناکی مغفرت فرمائے،اعلی علیین میں جگہ عطافرمائےاوراولادکومولاناکےنقش قدم پرچلنےکی ہمت وصلاحیت عطافرمائے۔آمین ۔