استاذی حضرت مولاناوقاری محمد عثمان صاحب رح کی یادمیں ، دل چاک ہو گیا ہے گریباں کے ساتھ ساتھ ،

41

استاذی حضرت مولاناوقاری محمد عثمان صاحب رح کی یادمیں ،
دل چاک ہو گیا ہے گریباں کے ساتھ ساتھ ،
اظہار الحق قاسمی
مدرسہ عربیہ قرآنیہ اٹاوہ
ہفتے عشرے کی علالت کے بعد اور تمام ممکنہ ظاہری تدبیروں کے اپنانے اور برتنے کے بعد بالآخر استاذ محترم حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب کی روح کو قرار آگیا، جب قاری صاحب نے اس دار فانی سے منھ موڑتے ہوئے سیدالایام میں عین جمعے کے وقت اپنے رب کے بلاوے پر لبیک کہہ دیا اور ہم جیسے ہزاروں لاکھوں اپنے چاہنے والوں کو حسرت ویاس کے عالم میں چھوڑ گئے۔ اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے ، قبر کو نورانی بنائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔
قاری عثمان صاحب اپنے علم فضل، زہد و تقویٰ، عبادت وریاضت، نجابت و شرافت اور خدمت قوم و ملت کے حوالے سے یکتائے روزگار شخصیت تھے۔ ان کے جانے سے دارالعلوم اور ملت اسلامیہ ہندیہ کا جو نقصان ہوا ہے دیر تک اس کی بھر پائی مشکل ہوگی۔
قاری عثمان صاحب سے اس ناچیز نے دارالعلوم دیوبند میں رہتے ہوئے عربی ہفتم میں مشکات شریف، دورہ حدیث میں موطا امام مالک اور تکمیلِ ادبِ عربی میں اسالیب الانشاء پڑھی ہے۔ گویا دارالعلوم میں سال کے اعتبار سے ان سے سب سے زیادہ کتابیں پڑھی؛ کیوں کہ چار سالہ قیام میں کسی دیگر استاذ سے تین سال تک استفادہ کا موقع نہیں ملا ۔ اس اعتبار سے بندے کو ان کا مستفید خاص ہونے کا شرف حاصل ہے۔

*قاری صاحب کا مختصر آئینہ حیات*

قاری صاحب کی پیدائش 12/ اگست 1944 کی تھی۔ وہ ضلع مظفر نگر کے مشہور گاؤں منصور پور کے خاندانی سید تھے۔ حفظ قرآن اپنے والد نواب عیسی صاحب رح کے پاس مکمل کرنے کے بعد عالمیت کی مکمل تعلیم دارالعلوم دیوبند سے حاصل کی ۔ بخاری بافیض محدث حضرت مولانافخرالدین صاحب مرادآبادی سے اور عربی ادب، نابغہ روزگار ادیب مولانا وحیدالزماں کیرانوی رح سے پڑھی۔ 1965/1385 میں اول پوزیشن کے ساتھ دورہ حدیث فراغت حاصل کی۔ پھر اگلے سال کچھ علوم پڑھے اور باقاعدہ فن قراءت پڑھی۔

تدریسی زندگی کا آغاز بہار کی علمی وادبی سرزمین گیا کے جامعہ قاسمیہ سے کی۔ پھر ایک دہائی سے کچھ زیادہ عرصہ جامع مسجد امروہہ میں مسند درس کو زینت بخشا۔ پھر 1982 میں دارالعلوم دیوبند آگئے ۔ یہاں چالیس سال تک تشنگان علم وادب کی پیاس بجھاتے ہوئے جان جاں آفریں کے سپرد کردی۔

قاری صاحب دارالعلوم میں صرف استاذہی نہیں رہے بل کہ دس سال سے زیادہ عرصہ اس کے باتوفیق نائب مہتمم رہے۔ قاری صاحب کے نیابت اہتمام کا زمانہ دارالعلوم کے خوب صورت ترین انتظام وانصرام کا زمانہ سمجھا جاتاہے۔ جہاں ایک طرف نیابت اہتمام قاری صاحب کے ہاتھ میں تھی تو نظامت تعلیم کی باگ ڈوراستاذ محترم حضرت مولاناسید ارشد مدنی صاحب کے ہاتھ میں۔ سال 2020 کی شوری میں پھر سے جب انھیں معاون و کارگزار مہتمم کی ذمہ داری تفویض کی گئی اور حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب کو دارالعلوم دیوبند کا صدرالمدرسین طے کیا گیا تو دارالعلوم کے خیرخواہان و فیض یافتگان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور سب کو دارالعلوم میں ایک نیا عہد دیکھنے کی امید جگی مگر افسوس!!!

قاری صاحب دارالعلوم دیوبند کے شعبہ *کل ہندتحفظ ختم نبوت* کے ناظم اعلی بھی تھے۔ یہ شعبہ قاری صاحب کی زندگی کا نہایت خاص حصہ تھا۔ قاری صاحب نے اس شعبے کو اپنے خون جگر سے سینچا اور سیراب کیاہے۔ رسول اللہ ﷺ کی خاتمیت پر معمولی نشان بھی قاری صاحب کو برداشت نہیں تھا۔ وہ قادیانیت کی بیخ کنی کے لیے ہمہ وقت تیار اور بے تاب رہتے اور ان کے لیے شمشیر برہنہ رہتے۔

قاری صاحب نہایت باحوصلہ اور علمی وجاہت کی شخصیت تھے۔ فن حدیث سے آپ کا خصوصی لگاؤ تھا۔ اسی وجہ سے آپ منصب اہتمام پھر جمعیۃ علما کی ذمہ داریوں کے ساتھ بھی اپنی کتابوں کے ساتھ انصاف کرتے ۔ جم کر پڑھاتے۔ عزم واستقلال میں آپ طاق شخص تھے۔ گھنٹوں سکون کے ساتھ سننا اور سنانا ان کی طبیعت کے لیے بار نہ ہوتا تھا۔

ذاتی و خاندانی وجاہت کے ساتھ آپ کی سسرال بھی اولوالمرتبت اصحاب فکر ودانش کی تھی۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رح کے آپ داماد تھے۔ مولانااسعد مدنی رح اور مولاناارشدمدنی دام ظلہ کے بہنوئی تھے۔ اور عہد حاضر میں ہندوستان کے افق علمی کے آفتاب و ماہتاب مفتی سلمان منصور پوری اور مفتی عفان منصور پوری ادام اللہ ظلالھما کے والد گرامی تھے۔

*کچھ یادیں کچھ باتیں*

2007 میں جب ہمارا دارالعلوم دیوبند میں عربی ہفتم اولی میں داخلہ ہوا تو پہلا گھنٹہ مشکات کتاب الزکاۃ کا تھا جو قاری صاحب پڑھاتے تھے۔ عربی ہفتم اولی کی جماعت کو قدیم دارالحدیث بھی کہاجاتاہے۔ قاری صاحب کے درس میں تسلسل کے ساتھ حاضری رہتی۔ البتہ ہم چوں کہ قدرے چھوٹے مدرسے سے گئے تھے اور وہاں ہر وقت استاذ کی نگاہ میں رہنے کے عادی تھے؛ اس لیے جب ہفتم میں پڑھنے جاتے تو پیچھے بیٹھنا پڑتا کیوں کہ قدیم طلبہ اگلی نشستوں پر قابض رہتے اور جدید کو اپنا مقام بنانے میں اچھا خاصا وقت درکار ہوتا۔ اس لیے درس گاہ میں کچھ خاص دل نہ لگتا۔ استاذ محترم کی آواز قدرے پست ہوتی اور اس سے زیادہ مائک کی آواز ہلکی ہونے کی وجہ سے پھر پیچھے اور استاذ سے دور بیٹھنے کی وجہ سے سماعت درس میں قدرے دشواری ہوتی ۔ مگر قاری صاحب کا انداز چوں کہ نہایت شستہ اور ٹھہر ٹھہر کر درس دینے کا تھا اس لیے بات اچھے سے سمجھ میں آجاتی۔ قاری صاحب ہرحدیث کے مضمون کو اچھی طرح واضح کرتے اور اختلافی مسائل میں ائمہ فقہ کے مسالک اور ان کے مستدلات کی بھی وضاحت کرتے۔ کبھی کبھار کسی خاص حدیث کی تفہیم کے لیے جیب سے پرچی بھی نکالتے۔ دورہ کے سال مؤطا امام مالک میں بھی ایک عمومی طالب کی طرح ہم نے استفادہ کیا۔

مگر جب ہم تکمیل ادب کے سال میں پہونچے اور چوتھی گھنٹی میں حضرت قاری صاحب سے ہمیں اسالیب الانشاء پڑھنے کی سعادت ملی تو ہم نے قاری صاحب کو قریب سے دیکھا تو ان کی شخصیت، ان کے بھاری پن، ان کی نجابت و شرافت اور ان کے انداز تدریس سے بہت متاثر ہوئے۔ ادب کے ہمارے رفیق درس بھائی سید محمد زید جو کہ قاری صاحب کے بھائی لگتے تھے کےتوسط سے قاری صاحب سے مزید قریب ہونے کا موقع ملا۔ دھیرے دھیرے ہم قاری صاحب کی سحرانگیز شخصیت کے اسیر ہوتے گئے اور انھیں اپنے لیے آئیڈیل بناتے گئے۔ 2010 سے آج تک ہم قاری صاحب کی شخصیت کے گرویدہ واسیر ہیں۔
قاری صاحب کا سراپا حسن و جمال ، شرافت و نجابت، سنجیدگی ومتانت، رسوخ وپختگی کا پیکر تھا۔ ان کو دیکھ کر نگہ کو سکون اور قلب کو مسرت وشادمانی حاصل ہوتی۔ وہ ہمیشہ وقت پر درس گاہ میں حاضر ہوتے اور پورا ایک گھنٹہ بیٹھتے۔ مستقل مزاجی ان کی طبیعت ثانیہ تھی۔ درس گا ہ میں ان کی نشست ایسی متین و سنجیدہ ہوتی کہ پورے گھنٹے بے جا ہلنا، کھجانا، چیخناچلانااور چنگھاڑنا جیسی کوئی بات نہ ہوتی۔ وہ بالکل تازہ دم ہوکر درس گاہ میں آتے اور بافیض انداز میں سبق سنتے اور پڑھاتے۔

اکثرساتھیوں سے عبارت خوانی کرواتے اور سبق تو سبھی سے سنتے تھے۔ کتاب کسی قدر مشکل ہونے کے سبب بعض ساتھیوں کی بے توجہی پر کبھی ناراض بھی ہوتے اور ناراضگی کا اظہار کسی قدر بلندآواز میں کرتے اور تھوڑی دیر خاموش ہوجاتے۔ پھر شفقت آمیز لب ولہجے میں کہتے: چلو، پڑھو! یہ سماں بہت پیارا لگتا اور ہم ان پر فریفتہ ہو اٹھتے۔ ڈانٹنے کے لیے رائج الفاظ کو کبھی زبان پر نہ لاتے۔ کبھی کسی پر نہ جملے کستے اور نہ کسی طرح کا مذاق اڑاتے۔ کتاب میں دیے گئے موضوعات پر مضامین لکھواتے۔ مضمون لکھنے کے لیے عناصر مضمون بھی نکلواتے اور پابندی سے مضامین جمع کرواتے۔ نہ لکھنے والوں پر خفگی کا اظہار بھی کرتے۔
بھائی زید کے واسطے سے کبھی کبھی قاری صاحب کے گھر بھی جانے لگے۔ قاری صاحب کو دیکھتے رہنے کا الگ ہی لطف تھا۔ وہ جب مجلس نشین ہوتے تو ایسا لگتا کہ ہم کسی خانقاہ میں ہیں جہاں ہمارا شیخ ہمیں دنیا واسباب دنیا سے دور روحانی وادیوں کی سیر کرا رہا ہے۔ وہ نصیحتیں کرتے۔ اچھے سے پڑھنے کی تلقین کرتے۔ ہمت افزائی بھی کرتے۔ کوئی دشواری ہوتو اسے بھی دور کرتے۔
ہمارا عربی ادب کا سال بڑا خوب صورت سال تھا اور سارے اساتذہ کے سامنے پڑھ کر بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ قاری صاحب سے زبان دانی کے ساتھ متانت واستقلال کا سبق سیکھا۔ مولانا ساجد صاحب سے زبان و قلم کی باریکیاں اور اس کے درست سیکھنے کا جذبہ سیکھا۔ مولانانورعالم صاحب سے زبان کے اسرار و رموز کے ساتھ ساتھ ایک باسلیقہ انسان بننا سیکھا۔مولانانسیم صاحب سے شفقت ورحمت کے دروس لیے۔ مولاناشوکت صاحب سے زبان کا ذوق حاصل کیا اور مولاناریاست علی صاحب سے شگفتہ بیانی اور طلاقت لسانی کے اسباق لیے۔
درسگاہ سے ہٹ کر ہم نے ردقادیانیت کے محاضرات میں بھی قاری صاحب سے استفادہ کیا اور شعبہ مناظرہ میں رکن ہونے کی وجہ سے کبھی کبھار دارالحدیث کے مناظروں میں آخری گفتگو سے بھی محظوظ ہوئے۔ قاری صاحب کسی پروگرام میں شرکت کی منظوری دینے کے بعد اس پروگرام میں ازاول تاآخر شرکت کرتے۔ اچھی پیش کش پر شاباشی دیتے اور غلطی پر وہیں نکیر کردیتے ۔ پھر کسی کو کوئی بات کہنے کی مجال نہ ہوتی۔ مناظرہ کے پروگراموں میں بھی قاری صاحب کی وجہ سے سنجیدگی بنی رہتی ورنہ بسااوقات معاملہ بے قابو ہو جاتا۔ استہزائیہ واستخفافیہ انداز کو وہ پسند نہ کرتے اور اس پر قدغن عائد کردیتے۔ مدارس میں ہونے والے مکالمے بسااوقات سنجیدگی سے نکل جاتے ہیں چناں چہ ایسی کوئی بھی صورت ہو تو قاری صاحب وہیں روک لگادیتے۔
قصہ ہماری سیٹ کا
ہم دارالعلوم میں چار سال رہے۔ عربی ہفتم ، دورہ ، ادب اور افتا۔ عربی ہفتم میں داخلے کے بعد ہم کو سولہ سیٹ والے کمرے میں جگہ ملی۔ اگلے سال دورہ میں پہونچنے کے بعد ہم نے دو/چار سیٹ والے ایک دو کمروں میں درخواست دی مگر ہمارا نام نہ آیا۔ باوجودیکہ ہمارا اوسط چھیالیس تھا (پچاس کے اعتبارسے) ۔ ہم سے کم نمبر والے کسی طالب علم کا نام نہ جانے کیوں آگیا اور ہمارا نام نہیں آیا۔ پھر ہم اسی سولہ سیٹ والے کمرے میں رہے۔ اللہ بھلا کرے بھائی زین العابدین بہرائچی کا جنھوں نے دورہ کے سال اپنا دوسیٹ والا مدنی گیٹ میں موجودکمرہ ہمارے حوالے کردیا تھا۔ پھر ادب کے سال بھی ہم نے درخواست دی مگر اس سال بھی کمرہ نہ مل سکا اور اس سال ہم 10 سیٹ والے کمرے میں نئی بلڈنگ دارجدیدکمرہ نمبر 10 میں مقیم رہے۔ اب تک دو یا چار سیٹ والا کمرہ نہ ملنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہم نے اپنی درخواست کبھی کسی استاذ کی سفارش کے ساتھ نہیں دی۔ جدید ہونے کی وجہ سے اساتذہ سے ربط ضبط بھی نہ تھا۔ پھر طبیعت بھی ایسی کچھ ناہموار تھی کہ کہیں جانے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔
افتا کے سال جب عید کے بعد ہم دارالعلوم پہونچے تو خوشی یہ حاصل تھی کہ ہماری عربی ادب میں اول پوزیشن تھی۔ نیز یہ کہ سال گزشتہ ہمیں اپنے ادب کے اساتذہ میں سے کچھ کا قرب بھی میسر آیا تھا۔ چناں چہ ہم قاری صاحب کے گھر پہونچے۔ ملاقات کی۔ قاری صاحب کو بتلایا کہ گزشتہ تین سالوں سے میں دو/چار سیٹ والے کمروں کی کوشش کررہاہوں۔ درخواستیں دیں مگر مجھے اب تک کوئی قاعدےکا کمرہ نہیں ملا۔ قاری صاحب نے فوراً اپنے ڈسک سے ایک کاغذ اٹھایا اور میرے نشان دہی کردہ ایک کمرے کے حوالے سے انھوں نےبقلم خود لکھاکہ: یہ طالب علم چند سال سے دو/چار سیٹر کمرے کی کوشش کررہا ہے اور اس کا اوسط بھی اچھا آ رہا ہے مگر اس کو اب تک مناسب کمرہ نہیں ملا۔ اس لیے اس کو مطلوبہ کمرہ دینے کی سفارش ہے۔
قاری صاحب کے اس سفارشی خط کو اس ناچیز نے متعلقہ ناظم حلقہ کے پاس جمع کرادیا اور اس کی فوٹو کاپی کرالیا۔ بالآخر اس بار ہم کو مطلوبہ کمرہ مل گیا۔ قاری صاحب کا عکس تحریر آج بھی میری فائل میں محفوظ ہے۔ اللہ تعالی اس احسان کے بدلے جنت الخلد میں قاری صاحب کو گھر عطافرمائے!
جاننا چاہیے کہ دارالعلوم دیوبند میں کچھ عمارتوں میں چھوٹے کمرے بنے ہیں جو میرٹ کی بنیاد پر معیاری طلبہ کو دیے جاتے ہیں تاکہ وہ ان میں یکسوئی کے ساتھ پڑھائی کرسکیں۔
افتا کے سال بھی کبھی کبھار قاری صاحب کے یہاں آمدو رفت رہی۔ پھر جب ہم وہاں سے 2011 میں مرکزالمعارف پہونچے ۔ پھر 2013 میں بغرض ملازمت حیدرآباد چلے گئے تو باقاعدہ آمد و رفت باقی نہ رہ سکی۔حیدرآباد میں ایک آدھ بار ملاقات وزیارت ہوئی ۔ پھر ہم 2018 میں جب یوپی واپس آگئے تب سے کئی بار قاری صاحب سے نیاز حاصل ہوا۔ حضرت مولانااسامہ کانپوری رح کے ختم نبوت کے چند پروگراموں میں حاضری ہوئی اور قاری صاحب کی دید وشنید سے مشرف ہوئے۔ ان کو دیکھ کر آنکھوں کو نور اور دل کو سرور حاصل ہوجاتا۔
مرکزالمعارف کی سلور جوبلی میں قاری صاحب کا بصیرت افروز خطاب
جب 2019 کے ماہ اکتوبر میں مرکزالمعارف ممبئی نے پچیس سالہ تعلیمی، فکری اور تربیتی سفر مکمل کرکے دہلی میں اپنا سلور جوبلی پروگرام منعقد کیا تو اس پروگرام کی افتتاحی تقریب میں حضرت قاری صاحب بھی تشریف لائے اور چالیس منٹ کا بصیرت افروز خطاب کیا۔ اپنے دلچسپ اور من موہنے اسلوب سے حاضرین کا دل جیت لیا۔ قاری صاحب نے اپنے اس خطاب میں دینی انگریزی اداروں کی تحریکی شخصیت حضرت مولانا بدرالدین اجمل صاحب دام ظلہ کی بہت حوصلہ افزائی کی اور انگریزی پڑھنے والے اپنے فضلا پر اور ان کے کارناموں پر منھ بھر کر خوشی کر اظہار کیا؛ بل کہ ان کے رزق حلال کے مقصد سے دیگردنیاوی اداروں میں کام کرنے کی بھی حوصلہ افزائی فرمائی۔ اپنے اسفار بیرون کا بھی ذکر کیا اور وہاں فضلاء مرکز کے ذریعے پیش کی جانے والی خدمات کو خوب سراہا۔ قاری صاحب نے کچھ تنگ نظروں کے اس نظریے کا بھی جم کر رد کیا کہ لڑکے انگریزی پڑھ کر دنیا دار ہو جاتے ہیں بل کہ ان کا مضبوط دفاع بھی کیا اور ہرمیدان میں رجال کار کی ضرورت کا احساس کروایا۔ قاری صاحب نے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے فضلاء مرکز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاکہ ماشاء اللہ یہاں موجود انگریزی داں علماء تو سب شیخ الحدیث دِکھ رہے ہیں۔ قاری صاحب نے شیخ الحدیث کی تشریح کرتے ہوئے اسے معروف اصطلاح کے معنی میں نہیں لیا بل کہ کسی بھی طرح کی حدیث کی تشریح کرنے والوں کو شیخ الحدیث قرار دیا اور بخاری والے شیخ الحدیث کو شیخ البخاری کہا۔

انھوں نے دارالعلوم دیوبند میں شعبہ انگریزی کے قیام کے حوالے سے باحوالہ یہ بات عرض کی کہ 1321 ہجری میں یعنی تقریبا 120 سال قبل دارالعلوم کی شوری نے کچھ فضلا کو علی گڑھ وغیرہ بھیجنے اور ان کے فضلا کو اپنے یہاں ٹریننگ دینے کی بابت فیصلہ کیاتھا مگر وہ نہ ہوسکا۔ پھر سو سال کے بعد 1421 یا 1422 میں شعبہ انگریزی کے قیام کو اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا۔ قاری صاحب کا یہ خطاب نہایت عمدہ ہے جو یوٹیوب پر بھی موجود ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر دارالعلوم سے الداعی ، ماہنامہ دارالعلوم کے ساتھ ساتھ *ایک انگریزی اور ایک ہندی ماہنامہ بھی نکلتا اور اس کے واسطے سے دفاع اسلام کا ایک مضبوط کام ہوتا کہ دارالعلوم کا ایک جملہ اور ایک تحریر ایوان باطل میں زلزلہ پیدا کردیتے ہیں*۔

قاری صاحب نے اس موقع پر حکومت کی جانب سے تیار کیے جانے والے نئی قومی تعلیمی پالیسی کے ڈرافٹ اور مستقبل کے اندیشوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ: لوگ صرف انگریزی پر واویلا کر رہے ہیں مگر مستقبل میں معاملہ اس سے بہت آگے جا سکتا ہے کہ ہمیں انگریزی کے ساتھ دیگر موضوعات بھی پڑھانے پڑ سکتے ہیں۔ اس لیے انھوں نے اس سلسلے کو محمود قرار دیا اور خوب حوصلہ افزائی کی اور ترقی کی دعائیں دیں۔ لگے ہاتھوں انھوں نے جمعیت علماء کی تاریخ اور کارناموں کا بھی ذکر کیا۔ اور پھر کسب حلال کے فضائل پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی۔ خلاصہ یہ کہ قاری صاحب کا یہ خطاب نہایت عمدہ اور بصیرت افروز تھا جس سے ہم مستفیدین مرکز کو حوصلہ ملا اور کام کی نئی جہتیں وا ہوئیں۔
اللہ تعالی حضرت الاستاذ قاری صاحب کی مغفرت فرمائے اوران کے پس ماندگان، شاگردوں اور منتسبین و متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور دارالعلوم کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے آمین،