قضیۂ فلسطین اور مسلم ممالک
سبحن الذی اسریٰ بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی الذی برکنا حولہ لنریہ من آیتنا۔بیت المقدس کی اہمیت و فضیلت قرآن وحدیث میں متعدد جگہوں میں بیان کی گئی ہے جسے پڑھ کر ایک ادنیٰ طالب علم بھی اس کی اہمیت سے بخوبی واقف ہو سکتا ہے فلسطین کے شہر یروشلم کو دنیا کے تین بڑے مذاہب اسلام یہودیت اور نصرانیت کے مقدس مقامات کے طور پر جانا جاتا ہے یہاں یہودیوں کا دیوار گریہ نصرانیوں کا مقدس چرچ ہولی سپلکر اور مسلمانوں کا حرمین شریفین کے بعد سب سے مقدس مقام قبلہ اول بیت المقدس ہے بیت المقدس کو قبلہ اول ہونے کا حق حاصل ہے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تقریباً سترہ مہینوں تک بیت المقدس کے طرف رخ کرکے نماز ادا کیا اور یہی وہ مقدس جگہ ہے جہاں سے ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سفر معراج کے لیے تشریف لے گئے اتنا محترم و مقدس ہونے کے بعد بھی جب باطل قوتیں فلسطین پر قبضہ کرنے کی ناکام کوششیں کر رہی ہیں اور بے قصور و بے گناہ ان گنت مسلمانوں کو تباہ کن میزائلوں کے ذریعے بے دردی سے شہید کرکے ان کے گلستاں جیسے شہر کو تباہ برباد کر کے ویران کرنے کی کوششو میں لگی ہیں امت مسلمہ کی خاموشی قابل افسوس ہے اور ان تمام اسلامی ممالک پر حیرت ہے جن کے مردہ دل کو فلسطین کے روتے سسکتے بچوں کی آہ و بکا بھی نہیں جگا پائی ایسا نہیں ہے کہ مسلم ممالک کمزور و ناتواں ہے یا ان کے پاس کچھ ہے ہی نہیں یا وہ فلسطین یا جہاں کہیں بھی مسلمان پریشان ہیں ان کی مدد نہ کر پائیں بلکہ چند مسلم ممالک تو شان و شوکت میں پوری دنیا میں سر فہرست ہے جیسے قطر قطر دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شمار کیا جاتا ہے اور دبئی دنیاوی عیش و عشرت میں اس کا کوئی ثانی نہیں اور سعودی وغیرہ بہت سے اسلامی ممالک ایسے ہیں کہ اگر وہ مدد کا ارادہ کر لیں تو پوری دنیا کے مسلمان امن و امان کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں OIC organization of islamic cooperation نے قضیہ فلسطین پر ہنگامی میٹنگ بلوائی لیکن خاطر خواہ کوئی عملی اقدام نہیں ہو سکا حالاں کہ OIC اگر اپنی قوت کا استعمال کرتا تو اسرائیل فوراً اپنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتا اسرائیل نے اگر چہ غیر مشروط جنگ بندی کا اعلان مصر کی ثالثی میں کیا ہے لیکن اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ دوبارہ اس طرح کی مذموم حرکت نہیں کرے گا کیوں کہ1948 کے بعد سے جب سے اسرائیل کا مستقل طور پر وجود عمل میں آیا ہے تب سے اس طرح کے واردات ہوتے رہے ہیں اور اس میں فائدہ اسرائیل نے فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کر کے اٹھایا ہے اسرائیل کے جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے تعلیم یافتہ اعتدال پسند لوگوں میں خوشی کی لہر ہے لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ آخر یہ جنگ بندی کب تک رہے گی ؟ کیا اس طرح کے واقعات پھر مستقبل میں پیش نہیں آئیں گے ؟ کہیں اس جنگ بندی میں ان کی کوئی سازش تو نہیں؟ اس طرح کے کئی سوالات ہیں جس کا جواب کسی کے پاس نہیں اس لیے بہتر و مناسب یہی ہے کہ OIC کوئی عملی اقدام کرے تاکہ اسرائیل مستقبل میں اس طرح کی مذموم حرکت کرنے کی کوشش نہ کرے اور بات صرف فلسطین کے مسلمانوں کو جبر کا نشانہ بنانے کی نہیں ہے کیوں کہ صرف فلسطین ہی نہیں دنیا کے اور بھی کئی ممالک ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کو ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان پر طرح طرح کے  مصائب و آلام ذلت و تکلیف کی خبر سن کر دل مجروح ہو رہا ہے چاہے وہ فلسطین کے مسلمان ہوں یا روہنگیا کے مسلمان ہوں یا چین کے مسلمان ہوں اتنا ہی نہیں اقوام متحدہ نے روہنگیائی مسلمانوں پر ڈھاۓ جانے والے ظلم و بربریت کو دیکھ انہیں دنیا کا سب سے مظلوم افراد قرار دے دیا اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس دنیا میں کچھ مسلمانوں کا کیا حال ہے لیکن اس کے باوجود بعض احمق افراد اسلام کو دہشت گرد سے جوڑنے کی مذموم کوشش کرتے ہیں جب کہ اسلام امن و امان کا درس دیتا ہے ایک وقت تھا جب فقط ایک مسلمان کی عزت و ناموس کے خاطر مسلمان پوری دنیا کے باطل قوتوں سے ٹکرانے کے لیے تیار ہو جاتے تھے خود حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فقط حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے کافروں کے خلاف پندرہ سو صحابہ کرام سے بیعت لیا تھا لیکن آج لاکھوں بے قصور مسلمان موت کے گھاٹ اتارے جا رہے ہیں اور مضبوط طاقتور اسلامی ممالک کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگ رہا جو کہ قابل حیرت و افسوس ہے۔
اس پر آشوب حالات میں اسلامی ممالک کو چاہیے کہOIC کو مضبوط کریں اور جہاں کہیں بھی مسلمانوں کو پریشان کیا جا رہا ہو یا انہیں ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہو ان کے خلاف عملی اقدام کریں نہ کہ صرف اظہار ہمدردی کیوں کہ صرف اظہار ہمدردی سے کچھ  ہونے والا نہیں اگر تمام اسلامی ممالک یکجا ہو کر ظالموں کے خلاف سخت قدم اٹھائیں تو کہیں بھی اس طرح کے واردات رونما نہیں ہوں گے اور پوری دنیا کے مسلمان امن و امان کے ساتھ زندگی بسر کریں گے۔خیر ان سب میں فلسطینی مسلمانوں نے ایک چیز واضح کر دیا اور پوری دنیا کے لوگوں کو بتا دیا کہ حالات کتنے ہی خراب اور بد سے بدتر کیوں نہ ہو باطل طاقتیں ہمیں زیر نہیں کر سکتی اور تن تنہا ہم باطل قوتوں سے مقابلے کا ہنر رکھتے ہیں
باطل سے ڈرنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا
محمد اظہر شمشاد مصباحی
برن پور بنگال