حضرت قاری عثمان صاحب کی وفات ایک عظیم حادثہ: حضرت نائب امیر شریعت

78

(پھلواری شریف، پریس ریلیز 21مئی 2021) پورے ملک کے لیے یہ خبر صاعقۂ آسمانی سے کم نہیں کہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر، دار العلوم دیوبند کے کارگزار مہتمم اور مایہ ناز استاذ حدیث حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری کا آج بتاریخ 21 مئی 2021 مطابق 8 شوا ل المکرم 1442ھجری بروزِ جمعہ تقریبا سوا ایک بجے 76سا ل کی عمر میں میدانتا ہاسپٹل گڑگاؤں میں انتقال ہوگیا ، انا للہ و انا الیہ راجعون!حضرت قاری صاحب کے انتقال سے پورا ملک سوگوار ہے اور ملک کی اہم ترین شخصیات نے اظہار تعزیت کیا ہے ۔امارت شرعیہ میں جیسے ہی حضرت قاری صاحب نور اللہ مرقدہ کے سانحہ ارتحال کی خبر پہونچی ہر شخص رنج و غم میں ڈوب گیا۔نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی صاحب کی صدارت میں امار ت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ میں ایک تعزیتی نشست کا بھی انعقاد کیا گیا ، جس میں امارت شرعیہ کے کارکنان و ذمہ داران نے شرکت کی ۔ اس تعزیتی نشست میں اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ و جھارکھنڈ کے نائب امیر شریعت حضر ت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی صاحب نے حضرت مولانا قاری عثمان صاحب منصور پوری کی وفات کوپوری ملت کے لیے ایک عظیم حادثہ قرار دیا ہے ، آپ نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ آپ کے انتقال سے دار العلوم دیوبند اور جمعیۃ علماءے ہند ہی نہیں بلکہ پوری ملت ایک عظیم استاذ،با بصیرت قائد ، دور اندیش مدبراور قابل منتظم سے محروم ہو گئی ہے۔آپ نے نہایت پاکیزگی اور دیانت و امانت کے ساتھ ایک مثالی اور اصولی زندگی گزاری۔آپ طلبہ کے ساتھ انتہائی شفقت اور محبت سے پیش آتے ،اپنی نرم گفتاری، منکسر المزاجی ، خوش اخلاقی ، طلبہ کے ساتھ ہمدردی اور مشفقانہ رویہ کی وجہ سے امتیازی شان رکھتے تھے ۔آپ ہمہ جہت شخصیت کے حامل اور بے مثا ل ملی قائد تھے ، جمعیۃ علماء ہند کے صدر کی حیثیت سے آپ نے ملک کے مسلمانوں کی رہنمائی اور قیادت کے فرائض بہت ہی حسن و خوبی سے انجام دیے ، قدرتی آفات میں ریلیف کی بات ہو ، بے قصور مسلم نوجوانوں کی رہائی کا مسئلہ ہو ، یا مسلمانوں کا کوئی بھی دینی ، شرعی یا سماجی مسئلہ ہو آپ کی قیادت میں جمعیۃ علماء ہند نے حسن تدبیر کے ساتھ ان مسائل کے حل کی کوششیں کیں۔ اپنے قول و عمل اور نشست و برخواست میں آپ سلف صالحین کے یادگار تھے۔آپ امیر شریعت سابع مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نور اللہ مرقدہ کے درسی ساتھی تھے،اور دونوں کے مراسم بہت ہی گہرے تھے ،ایک دوسرے کا آپس میں احترام قابل رشک تھا ، امار ت شرعیہ سے بھی ان کی قلبی وابستگی تھی ،اللہ پاک بال بال مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، اپنے شایان شان جزائ عطا فرمائے اورآپ کے صاحبزادگان حضرت مولانا مفتی محمد سلمان صاحب منصور پوری استاذ حدیث و مفتی جامعہ قاسمیہ شاہی مراد آباد و حضرت مولانا مفتی عفان صاحب منصور پوری استاذ حدیث و ناظم تعلیمات جامع مسجد امروہہ اور دیگرتمام پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمود مدنی صاحب زید مجدہم اور دیگر ذمہ داروں کے لیے بھی یہ بہت بڑا حادثہ ہے ، ان کی خدمت میں بھی میں تعزیت مسنونہ پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جمعیۃ علماء ہند کو حضرت قاری صاحب ؒ کا نعم البدل عطا کرے۔
جناب مولانا محمد شبلی القاسمی قائم مقام ناظم امار ت شرعیہ نے کہا کہ آپ دار العلوم دیوبند کے مقبول اساتذہ میں سے تھے ، زہد و تقویٰ ، سادگی ، خشیت الٰہی ، حسن اخلاق، طلبہ کے ساتھ شفقت و مہربانی ، انتظامی صلاحیت میں یکتا تھے، آپ کی رحلت ملت اسلامیہ کا عظیم خسارہ ہے ۔اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے ، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام مرحمت فرمائے ، دار العلوم دیوبند اور جمعیۃ علماء ہند کو ان کا نعم البدل عطا کرے اوران کے پسماندگان کے علاوہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ان کے ہزاروں شاگردوںکو صبر و ثبات کی توفیق دے ، آمین ۔ مولانا مفتی سعید الرحمن قاسمی مفتی امارت شرعیہ نے کہا کہ حضرت قاری صاحب نہ صرف فن حدیث کے متبحر عالم تھے بلکہ با بصیرت قائد ، بے مثال منتظم ، صاحب تقویٰ اور بلند پایہ انسان تھے۔ان کے انتقا ل سے نہ صرف مادر علمی دار العلوم دیوبندبے مثال منتظم و مدبر اور متبحر استاذ سے محروم ہوا بلکہ ملت ایک عظیم قائد سے محروم ہو گئی ہے، اللہ تعالیٰ دار العلوم دیوبند، جمعیۃ علماء ہند اور ملت اسلامیہ کو ان کا نعم البدل عطا کرے ۔اس تعزیتی نشست میں جناب سمیع الحق صاحب نائب انچارج بیت المال ،مولانا ارشد رحمانی آفس سکریٹری ، مفتی عبد الماجد رحمانی قاسمی صاحب، مولانا منہاج عالم ندوی اور مولانامحمد عمران قاسمی نے بھی شرکت کی ۔آخر میں یہ نشست حضرت نائب امیر شریعت صاحب کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔