آئینہ سخن کے زیر اہتمام عید ملن اور عالمی زوم مشاعرہ

50
کولکاتا (پریس ریلیز) : ادبی انجمن آئینہ سخن کےزیراہتمام عید ملن تقریب اور دوسرا عالمی زوم مشاعرہ  منعقد کیا گیاجس کی صدارت کہنہ مشق اور استاد شاعر جناب تنویر پھول نیو یارک نے کی جبکہ نظامت کے فرائض شارق اعجاز عباسی(دہلی) اور رئیس اعظم حیدری صاحبان (کولکاتا) نے بحسن خوبی انجام دئیے مہمانان خصوصی٘ کی حیثیت سے  سید محسن علی رضوی ( نیو یارک ),ڈاکٹر ناہید کیانی صاحبہ (جرمنی ),افضال الرحمان  افسر(شکاگو ),یوسف ندیم ( پونہ ),احمد ندیم مورسنڈوی(کٹیہار ),محمد بدایون (جد٘ہ )
صاحبان موجود تھے.جن شعراء نےاپنے کلام‌بلاغت سے سامعین کو محظوظ کیا ان کے نام مع اشعار اس طرح ہیں
ان کے رخ کی مثال کیسے دوں ؟
تجھ میں تو داغ ہے مہ تاباں !
تنویر پھول
ہمارے نوجواں گمراہ تھے مغرب  کی چالوں سے
سنا کر کلمہء حق تازہ ایماں کردیا ہم نے
احمد ندیم مورسنڈوی
تم خلافٍ ظلم میداں میں نکل آؤ بھی اب
بچ گئے تو ہوگے غازی مرگئے ہوگے شہید
رئیس اعظم حیدری
 اب ذرا آرام کرنے دیجئے
زندگی کی شام کرنے دیجئے
زیر لب  ہو بس صدا تکبیر کی
اس صدا کو عام کرنے دیجئے
ڈاکٹر اقبال نالاں علیگ
 مٹاکر نفرتیں اپنی،کریں چرچا محبت کا
چلو مل کر بناتے ہیں نیا  فرقہ محبت کا
محمد حسین ساحل ،ممبٸی
شہر کو ڈس لیا ہے سانپوں نے
زہراتراہے سب مکینوں
میں
تیرےحصے میں صرف دو
گز ہیں
اتنی ہے ملکیت زمینوں
میں
یو سف ندیم
غربت کی مرے پاؤں میں زنجیر بندھی ہے
سرپہ ترے رحمت کی ردا مانگ رہے ہیں
قیصر امام قیصر گریڈیہوی
 منظور مجھ کو سارے زمانے کی رنجشیں
لیکن گوارا ان کی کدورت نہیں مجھے
عطاؔ الرحمان عطاء
ناراض ہو بھی جائیں تو عداوت نہیں کرتے
کرتے ہیں عشق جو وہ بغاوت نہیں کرتے
ظفر اقبال ظفر
 یہ آہ و بکا اور یہ ہم  عید کے دن
ہیں اہل فلسطیںن پہ غم عید کے دن
ڈاکٹر افضال الرحمن افسر
ہم ہیں زندہ یہ زمانے کو بتایا جائے
عید کا جشن محرم میں منایاجائے
ہو پڑوسی کہ مسافر کہ سوالی کوئی
عید کا دن ہے گلے سب کو لگایا جائے
شکیل سہسرامی
اجنبی سا جو خاندان میں ہے
 کوئی مجھ سا مرے مکان میں ہے
عابد رشید
 خدا کا رزق یقینا” حرام کرتا ہے.
وہ جس بشر کو بھی انسانیت سے پیار نہیں.
ڈاکٹرناہید کیانی
انا کی جنگ میں شامل ہوئے نہ ہونا ہے
ہمیں خبر ہے کہ زیر زمین سونا ہے
کمال میرا پوری
 سلیقہ مند انا کے فرش پر سونے سے پہلے تھے
بڑے ذی ہوش ہم بھی ہوش گم ہونے سے پہلے تھے
شمشاد شاد
پھر گھٹا چھائ ہے پھر دل میں  ہمک جاگی ہے
پھر شب ہجر تیری یاد کا نشتر ہو گا
ڈاکٹر ممتاز منور
 کروناسے پریشاں آدمی سے ڈاکٹر بولا
کہاں بیکار میں مہنگی دوائیں اتنی کھائے گا
کراسن تیل لےلے ہاف لیٹر اور گھرجاکر
جلادے شام سے دیپک کرونا بھاگ جائےگا
چونچ گیاوی
واہ  کیا تم نے دل لگی   کی    ہے
مرے  دشمن  سے  دوستی  کی  ہے
اکبرچنوری
جذبہ شوق کی تکمیل تو رمضان میں ہے
زندگی کاش وہ بن جائے جو قرآن میں ہے
رشید شیخ
ہیں عرب کے سب مما لک خوف کے مارےہوئے
کوئی بھی راضی نہیں  امداد کر نے کےلئے
مبشر شہزاد
مجھ سے دشمن کی بھی بےچارگی دیکھی نہ گئی
جیتتے جیتتے خود میں نے ہزیمت لے لی
 محمد بدایون
جو حسبِ موقع بدل رہے ہیں
وہ تان کر سینہ چل رہے ہیں
 شارق اعجاز عباسی