سپریم کورٹ کا فیصلہ صرف مراٹھا ریزرویشن کے خلاف نہیں بلکہ ریزرویشن سسٹم کے خلاف ہے۔ ایس ڈی پی آئی

30

نئی دہلی۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ ریزرویشن سے متعلق سپریم کورٹ کا تازہ ترین فیصلہ غیر منصفانہ اور مایوس کن ہے کیونکہ اس سے معاشرے کے سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات کے موجودہ ریزرویشن سسٹم کے مستقبل کو خطرہ ہے۔ فیضی نے کہا ہے کہ مراٹھا ریز رویشن قانون کو مسترد کرتے ہوئے اور یہ فیصلہ کہ ریزرویشن 50فیصد سے تجاوز نہیں کرسکتے ہیں تو یہ ریزرویشن کے دائرہ کار میں آنے والی برادریوں کیلئے مایوس کن ہے۔ سماعت کے دوران بینچ کا مشاہدہ کہ”تمام تحفظات جاسکتے ہیں اور صرف EWSباقی رہ سکتے ہیں "کو صرف ایک ذاتی رائے شمار نہیں کیا جاسکتا، بلکہ اس کا سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات کیلئے ریز رویشن کے آئینی حق پر دور رس اثر پڑ سکتا ہے۔ یہ تبصرہ حکمرانوں کیلئے سود مند ہے جو ذات پات پر مبنی موجودہ ریزرویشن سے چھٹکار اپانا چاہتے ہیں۔ بینچ کا 50فیصد حد میں تبدیلی لانے کا بیان، ایک ایسا سماج کا ہونا جس کی بنیاد مساوات پر نہیں بلکہ ذات پات کی حکمرانی پر مبنی ہے۔ اس کے نتیجے میں پسماندہ طبقات اور ایس سی اور ایس ٹی کو مواقع سے انکار کیا جائے گا، جنہیں اقتصادی پسماندگی کی بجائے سماجی پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن دیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے 102ویں آئینی ترمیم کی توثیق کی ہے اور اس ترمیم کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کو مسترد کردیاہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ” 102ویں آئینی ترمیم کے بعد ریاستوں کو سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات کی شناخت کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ 102ویں ترمیم نے پسماندہ طبقات کی شناخت کیلئے ریاستوں کا حق چھین لیا ہے اور اب اسے سپریم کورٹ نے گرین سگنل دے دیا ہے۔ وہ برادریاں جو کچھ ریاستوں میں پسماندہ ہیں وہ دوسری ریاستوں میں پسماندہ نہیں ہیں، لہذا، ریاستیں ہی ہیں جو خصوصی طور پر سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات کی واضح طور پر شناخت کرنے کے قابل ہیں۔ اس ترمیم سے ملک کی وفاقی نوعیت کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور ریاستوں سے ان کے آئینی حق کو چھینا جارہا ہے اور موجودہ سیاسی منظر نامہ میں مرکزی حکومت اقلیتی طبقہ کے خلاف بھی اس طاقت کا غلط استعمال کرسکے گی۔چونکہ موجودہ فیصلہ ریزرویشن کے تحت آنے والی برادریوں کیلئے نقصاندہ ہے ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے پسماندہ طبقات اور ان کی تنظیموں سے کہا ہے کہ وہ ریزرویشن سسٹم کے مستقبل کیلئے ان خطرات پر قابو پانے کے طریقوں اور ذرائع کے بارے میں اجتماعی طور پر سوچیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ایس ڈی پی آئی اس اقدام کیلئے پہل کرے گی۔