الحاج سید ثناء اللہ رضوی نے مکتب فکر کی دوریاں کم کیں – – – مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی

46
پٹنہ8مءی ( عبدالرحیم برہولیاوی) ادارہ شرعیہ کے سرپرست الحاج سید ثناء اللہ رضوی نے بھی٧٢سال کی عمرمیں ٢٥رمضان المبارک کو صبح دس بجےداعی اجل کو لبیک کہا.  انکے پس ماندگان میں ایک لڑکا چار لڑکیاں ہیں. وہ گذشتہ کچھ دنوں سے بیمار چل رہے تھے، پارس میں  علاج چلاپھر اپنے اسپتال اس اس ہوس پیٹل میں داخل ہوئے اور وقت موعود
۔   
آگیا. انا للہ وانا الیہ راجعون.
اس المناک حادثہ پر اپنے تعزیتی بیان میں مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ
 نے فر مایا کہ الحاج سید ثناء اللہ رضوی نے مکتب فکر کی دوریاں کم کرنے اور خلیج کو پاٹنے کا کام کیا. ان کو اس کام کی وجہ سے بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑا. لیکن وہ اپنے موقف پر اٹل رہے. ماضی قریب تک وہ امارت شرعیہ کے پروگرام میں شریک ہوتے رہے. آ ور اپنی رائے مضبوطی سے پیش کرتے. ساری ملی تنظیموں کو ساتھ لے کر چلنےکا جو مزاج امارت شرعیہ کا ہے. اس کے وہ بڑے قدرداں تھے. حکومتی سطح پر بھی انکی مضبوط گرفت تھی اور وہ نتیش کمار کے قریبی سمجھے جاتے تھے.مفتی صاحب نے فرمایا کہ ہم دونوں کے نام میں بڑی مماثلت ہو نےکی وجہ سے اخبارات والے کبھی انکی جگہ پر میرا اور کبھی میری جگہ پر انکا نام لکھ دیا کرتے تھے. ایسے میں  فون پر وہ بہت دلچسپ گفتگو کیا کر تے تھے. خدمت خلق کے میدان میں ان کے اسپتال کی خدمت بھی قابل قدر رہی ہے. اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے خدمات کو قبول فرمائے لواحقین کو صبر جمیل دے
  اور ادارہ شرعیہ کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے آمین