کسی دردمند کے کام آ کسی ڈوبتے کو اچھال دے ….. کامران غنی صبا

54
تاریکی جتنی زیادہ ہوگی روشنی کی اہمیت اتنی ہی زیادہ ہوگی. آج ہمارے سماج میں مفاد پرستی، خود غرضی، تعصب اور تنگ نظری کا اندھیرا ہے. اس اندھیرے کو حرف و صوت کی روشنی نہیں مٹا سکتی. اگر ایسا ہوتا تو منبر و محراب سے اٹھنے والی صدائیں رائگاں نہیں جاتیں. قلم سے نکلے ہوئے موتی جیسے الفاظ اپنی بے وقعتی کا رونا نہیں رو رہے ہوتے.
سیرت رسول کا مطالعہ کیجیے. نبوت کا اعلان ابھی نہیں ہوا ہے. دین کی تبلیغ بھی شروع نہیں ہوئی ہے. نہ منبر و محراب کی آرائش و زیبائش ہے اور نہ ہی نصحیت اور رہنمائی کے لیے کوئی کتاب. اہل عرب بس اتنا جانتے ہیں کہ انسان کے روپ میں کوئی فرشتہ ہے جس کے پاس ہر دردمند دل کی دوا ہے. جو صادق ہے. جو امین ہے. جس کا اخلاق و کردار لاثانی ہے. جو کسی کو ضرر نہیں پہنچا سکتا. اہل عرب کے دلوں میں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت گھر کر گئی. پھر نبوت کے اعلان کے ساتھ دعوت الی اللہ کا کام شروع ہوا تو یہی محبت و عقیدت دعوت کا وسیلہ بن گئی. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ صحابیوں کی زندگی کا مطالعہ کیجیے. کوئی اگر اللہ کے لیے اپنا آدھا گھر قربان کر رہا ہے تو کوئی سارا مال و متاع اللہ اور اس کے رسول کے لیے قربان کرنے کو تیار ہے. ہجرت کا واقعہ پڑھیے. انصار اپنے مہاجر بھائیوں کو اپنی نصف جائداد بخوشی دے رہے ہیں. خلفائے راشدین کی زندگی کا مطالعہ کیجیے کوئی گشت لگا کر پریشان حال نفوس کے زخموں پر مرحم رکھ رہا ہے تو کوئی رات کی تاریکی میں بوڑھی عورت کے گھر جا کر اس کے برتن دھو رہا ہے، دودھ دوھ رہا ہے. بزرگان دین مخلوقات خدا کے لیے لنگر کھولے ہوئے ہیں. غرض خدمت کے راستے لوگوں کے دلوں پر دستک دے کر ان کے دل میں خالق کی محبت پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے.
اب ہم ذرا اپنی زندگی کا جائزہ لیں کہ مخلوقات خدا کی خدمت کے لیے ہمارا دل کس قدر بے چین ہے؟ ہم آسان راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں. بند کمرے میں بیٹھ کر نصیحتوں کی محفل آراستہ کر لینا اور تحریر و تقریر کے ذریعہ انقلابات کے خواب دیکھنا کیا ہمارا شیوہ نہیں ہے؟
ہمارا غریب اور پریشان حال پڑوسی دوسرے محلے اور شہروں میں جا کر مدد طلب کرتا ہے. بیٹی کی شادی کے لیے در در کی خاک چھاننے پر مجبور ہے اور ہم دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ مزے سے دعوتیں اڑا رہے ہوتے ہیں. اس وقت ہمارا دینی و ملی جذبہ جوش نہیں مارتا. ہاں کسی فروعی اور اختلافی معاملہ میں گفتگو کرنا ہو تو ہمارا جوش و جذبہ آزما کر دیکھ لیجیے.
ایسا ہرگز نہیں ہے کہ قوم خدمت کے جذبے سے بالکل خالی ہے. ہاں رہنمائی کی کمی ضرور ہے. نوجوانوں میں آج بھی جذبے کی کمی نہیں. ضرورت ہے بکھرے ہوئے جذبات کو منظم کرنے کی. مختلف گاؤں، محلے اور قصبوں کے چند نوجوان اگر اٹھ کھڑے ہوں کہ وہ اپنے علاقے کے کسی گھر میں فاقہ کشی کی نوبت نہیں آنے دیں گے، ہمارے علاقے کا کوئی بچہ پیسوں کی کمی کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہیں رہے گا. کسی بیمار کی جان پیسوں کی کمی کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر نہیں جانے دی جائے گی……. اگر ہر علاقے سے صرف چند نوجوان اس جزبے کے ساتھ کام کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں تو یقین جانیے ان کا یہ عمل بڑی بڑی عبادتوں پر بھاری ہوگا. ان شاء اللہ.
………………….