مدرسہ عربیہ مصباح العلوم روضہ کے بانی مولانا مقبول احمد جونپوری، اپنے آبائی وطن موضع( برنگی )ضلع جونپور کی قبرستان میں سپرد خاک،

64

مدرسہ عربیہ مصباح العلوم روضہ کے بانی مولانا مقبول احمد جونپوری، اپنے آبائی وطن موضع( برنگی )ضلع جونپور کی قبرستان میں سپرد خاک،
دھن گھٹا ( سنت کبیر نگر)
(عقیل احمد خان)
دنیا کا ہر متنفس اپنا وقت متعین لے کر آیا ہے اور یہاں نہ کسی کو سکون ہے اور نہ ہی کسی کو قرار نہ ہی بقا ودوام ،دنیا ایک مسافر خانہ ہے تھوڑی دیر آرام کے بعد اگلی منزل کی طرف جانا ہے،یہ ایسی حقیقت ہے جس کا ہر کوئی معترف ہے ،دنیا دار الاعمال اور آخرت دار الجزاء ہے،یہاں انسان جو بھی خیر وشر کرے گا آخرت میں اس کا بدلہ اسے ضرور ملے گا ،دنیا میں ہمیشہ جینے پر پابندی اور آخرت میں مرنے پر پابندی ہے،اس فانی دنیا میں ہر ایک کو جانا ہی ہے،لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے جانے سے قلبی تکلیف کا احساس ہوتا ہے اور دل رنجیدہ ہوجاتا ہے،انہیں میں ایک عظیم بزرگ عالم دین مولانا مقبول احمد جونپوری بانی مدرسہ عربیہ مصباح العلوم روضہ بھی تھے جہاں گزشتہ 4مئی بروز منگل کو اس دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کر گئے انا للہ وانا الہ راجعون مولانا مرحوم مہولی واطراف میں اپنی پچاس سالہ زندگی دین اور خدمت دین اور علم کے چراغ روشن کرنےمیں اپنی پوری زندگی صرف کردی مولانا مقبول احمد جونپوری رحمت اللہ علیہ
تحصیل دھن گھٹا حلقہ واقع مدرسہ عربیہ مصباح العلوم روضہ کی بنیاد رکھ کر علم کی شمع روشن کرکے قوم کے بچوں کو بنیادی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرکے دلوں میں ایمان راسخ کرنے کی حتی المقدور کوشش کی،اور اس کا خاطر خواہ فائدہ بھی ظاہر ہوا، مولانا مقبول احمد جونپوری نے آج کے تقریبا 50 سال قبل مدرسہ سراج العلوم مڑہا میں درس وتدریس کے فرائض انجام دئیے اس کے بعد مدرسہ عربیہ مصباح العلوم کے نام سے روضہ میں ایک مدرسہ قائم کرکے علاقے کو علم کی روشنی سے فیضیاب کیا،جس کا فیض علاقہ واطراف میں بڑی تیزی سے پھیل رہا تھا، اس موقع پر
مولانا مفتی محبوب احمد قاسمی نے کہا کہ مولانا نے علم کی شمع کو مہولی علاقہ میں روضہ میں جلایا اور اس کی لو کو تیز تر کرتے گئیے اور کئی مدارس ومکاتب کا قیام بھی عمل میں لایا گیا،اور یہ کام واقعی انہوں نے دلجمعی سے کیا، اور ان کے ہر کام میں اخلاص اور للہیت کی خوشبو آتی تھی،
مولانا محمد حسان ندوی ناظم مدرسہ عربیہ مصباح العلوم مہولی نے کہا کہ مولانا مرحوم نے اپنی زندگی کا قیمتی حصہ اس علاقے کے لئے صرف کردیا،اور پورے علاقے کے لوگوں کو سیراب اور فیضیاب کرتے رہے،خدا نے انہیں انتظامی صلاحیت کے ساتھ ساتھ صالحیت سے بھی نوازا تھا،اور ان کا کام خالص اللہ رب العزت کے لئے ہوتا تھا دنیاوی اغراض اس میں بالکل شامل نہیں ہوتے تھے، اس موقع پر مدرسہ عربیہ ریاض العلوم گورینی کے ناظم مولانا عبدالرحیم، مولانا عبد الحیلم رح کے نواسے مولانا محمد عثمان قاسمی،
مولانا ابوالکلام حماد مظاہری، مولانا محمد وسیم قاسمی ندوی،
مولانا مبشر حسین ندوی منیجر مولانا علی میاں ندوی پبلک اسکول خلیل آباد ،مولانا حسان احمد قاسمی خطیب جامع مسجد مہولی،مولانا نیاز احمد مظاہری مانپوری، مولانا محمد مستقیم قاسمی بلرامپوری ناظم مدرسہ عربیہ معراج العلوم چھتہی،مولانا ابو الحسن مظاہری مدرسہ مڑھا،مولانا ندیم احمد ثاقبی مہولی،مفتی حفیظ اللہ قاسمی ناظم تنظیم جمیعۃ العلماء مہاراشٹر،نمائندہ عقیل احمد خان،مولانا ،مولانا حبیب اللہ حلیمی،حافظ عبدالرشید،مولانا مفتی احتشام الحق مظاھری
عبد الاحد چتوڑی، قاری وہاب احمد،
سمیت سیکڑوں لوگوں نے اظہار تعزیت پیش کر تے ہو ئے ان کے حق میں دعائیں کی ہے اور نماز جنازہ میں شرکت کی ، مولانا مقبول احمد جونپوری رح کی نماز جنازہ
مرحوم کے نواسے مفتی فخراالدین نے پڑھائی اور آج 5مئی بروز بدھ بوقت 10بجے صبح مولانا کے آبائی وطن موضع برنگی ضلع جونپور کی قبرستان میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد کئے گئے ہیں،