علماء اس کے حقدار تو نہ تھے از قلم طیب ظفر

48

ان دنوں حالات خراب ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر خاص و عام آدمی پریشان ہیں۔ایسے ماحول میں جن لوگوں کو اللہ نے خدمات کے لئے قبول کیا ہے وہ بہت بہتر انداز میں خدمات انجام دے رہے ہیں ضرورت مند افراد تک ضرورت کی اشیاء پہنچا رہے ہیں یہ لوگ لسٹ بنا بنا کر کام کر رہے ہیں تاکہ کوئی ضرورت مند چھوٹ نہ جائے کہیں تنظیمیں قومی ادارے کہیں جماعتیں اپنی شایان شان خدمات انجام دے رہی ہیں لیکن مجھے حیرانی ہوئی اس بات پر ان تنظیموں کے پاس ضرورت مند افراد کی لسٹوں کے ساتھ ضرورت مند علماء کی بھی لسٹیں ہیں۔لیکن میں نے اپنی حیرانی کو قابو میں رکھتے ہوئے سوچا کہ یہ مہاماری کا دور چل رہا ہے جس میں ہر خاص و عام پریشان ہیں ہو سکتا ہے اسی وجہ سے علماء بھی پریشان ہوں، تو میں نے اپنی حیرانی کو دور کرنے کے لئے ایک تنظیم کے ذمہ دار سے پوچھا کے آپ کے پاس یہ علماء کی لسٹ بھی ہے جو ضرورت مند ہے یہ بات مجھے عجیب لگی کہ علماء اور ضرورت مند! ان صاحب نے مجھ سے کہاں یہ تو ہماری ہر سال کی لسٹ ہےاور ہم کہیں سارے ضرورت مند علماء کی کہیں سالوں سے مدد کرتے ہیں ، میں نے کہاں کئی سالوں سے! لیکن مہاماری تو پچھلے دو سال سے ہی ہے۔ تب ان صاحب نے مسکرا کر کہا کہ جناب علماء اور حفاظ ہمیشہ ضرورت مند ہوتے ہیں آخر ان کی تنخواہ ہوتی ہی کتنی ہے اگر وہ مکاتب بھی پڑھائیں تب بھی ان کی ضروریات پوری نہیں ہوسکتی اتنی کم تنخواہ پہ تو علماء کام کرتے ہیں تو آپ ہی بتائیں کہ علماء مستحق ہوئے کہ نہیں ہوئے میں نے انہیں تو کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش وہاسے نکل گیا۔لیکن میرے ذہن میں یہ کشمکش چل رہی تھی کہ علماء جو انبیاء کے وارث ہیں آخر ان کی ایسی حالت کیوں جبکہ بڑی شخصیت کا وارث اگرچہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو تب بھی بڑا ہوتا ہے اور وارث تو وارث ہوتا ہے چاہے جیسا بھی ہو اگرچہ کسی امیر ترین آدمی کا وارث کند ذہن اور لاغر ہو تب بھی وہ اس شخص کا وارث ہوتا ہے ، لوگ آمدار یا خاصدار کے بچوں کو بھی صاحب کہتے ہیں صرف اس لئے کہ اس کی نسبت آمدار یا خاصدار سے ہیں اور وہیں علماء سے سیدھے منہ بات تک نہیں کرتے جب کہ یہ انبیاء کے وارث ہیں قرآن و حدیث کی تعلیم دیتی ہے عقائد و مسائل کے سلسلے میں امت مسلمہ کی رہنمائی کرتے ہیں یہ آنے والی نسلوں کو دینی علوم سکھاتے ہیں جن کی وجہ سے بڑےبڑے مقررین اپنی مسلمان نسلوں کےتا قیامت زندہ رہنے کا دم بھرتے ہیں۔ علماء کی مثال سورج کی طرح ہے کہ جب وہ طلوع ہوتا ہے تو جہالت کے اندھیروں کو چھاٹ دیتا ہے ظلمت کو ختم کر دیتا ہے اور پورے عالم پر ایک ایسی روشنی طاری ہوتی ہے کہ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ کبھی اندھیرا بھی تھا۔ لیکن علماء کی ان دنوں حالت ایسی ہے کہ وہ زکوۃ صدقات لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اور علماء کی ایسی حالت کا ذمہ دار کون ہے جو اپنے بڑے ہونے کا دم بھرتے ہیں جنہوں نے مساجد بنانے میں تو کروڑوں لگا دیے ہے لیکن اسی مسجد کے امام کی تنخواہ چونیوں اور اٹھنیوں کے برابر ہوتی ہے جس سے وہ عالم دین اپنے اہل خانہ کی ضروریات بھی پوری نہیں کر سکتا وہ کوئی سائیڈ بزنس بھی نہیں کر سکتا اگر کوئی عالم یہ جرت کر بھی لے تب لوگ انہیں کہتے ہیں صاحب یہ آپ کا کام نہیں ہے آپ تو مسجد اور مصلہ کے لئے ہے آپ کہاں ان کاروباری چکروں میں پڑ رہے ہیں آپ تو سکون سے نماز پڑھائیں،مکتب پڑھائیں اور سکون گھر جائیں میں نے کتنے لوگ دیکھے ہیں جو علماء پر لعن تعن کرتے ہیں اور انہی لوگوں کی وجہ سے علمائے کرام تحریکوں سے بھی نہیں جوڑ پاتے کیونکہ اگر کسی تحریک سے کوئی عالم جڑتا ہے تو یہ لوگ اسے سیاست کا نام دیتے ہیں کہ دیکھو فلاح عالم تو سیاست میں چلا گیا اور اگر علماء اپنی کوئی تنظیم بنا لیں تو کہتے ہیں کہ دیکھو مٹھی بھر مولانا ملے اور سیاسی جماعت بنا لیں آخر علماء کریں تو کریں کیا کاروبار نہیں کر سکتے، سیاست نہیں کر سکتے، خدمات نہیں کر سکتے جب کہ ہمارے کاروباری رہنما بھی علما ہونا چاہئے، ہمارے سیاسی قائدین بھی علماء ہونے چاہیے، اور مختلف محاذ پر دینی تعلیم میں دنیاوی تعلیم میں اور مسلمانوں کے قانون کے سلسلے میں علمائے کرام آگے ہونے چاہیے،لیکن نہیں چند لوگ جو اپنے آپ کو ذہین ثابت کرنے کے لئے عقلمند بتانے کے لئے علماء کو سائیڈ لائن کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے علمائے کرام نہ بڑے بزنس مین ہیں نا بڑے سیاستدان ہیں اور نہ ملت کے قائد ہے اللہ ماشاء اللہ اگر کوئی ہو، جب ہم نے علمائے کرام کو ہر طرف سے روک دیا تو وہ صرف مسجد میں نماز پڑھانے مکتب پڑھانے کے لئے ہی رہ گئے ہیں جنہوں نے رہنما ہونا تھا وہ مستحق بن گئے۔ تو یہ سوچنے کا مقام ہے کہ علمائے کرام کی ایسی حالت کا ذمہ دار کون ہے جن علماء کو ہدیہ دینا چاہیے تھا ہم ان کو زکوۃ دے رہے ہیں جن علماء کو تحفوں سے نواز نہ چاہیے تھا ہم ان کو صدقہ دے رہے ہیں کیایہ سوچنے کا مقام نہیں کہ ہم نے انبیاء کے وارثین کی کیا حالت کرتی ہے جب کہ وہ اس کے حقدار تو نہ تھے "ہاں علماء اس کے حقدار تو نہ تھے ” جب کہ ہم سب پر لازم ہے کہ علمائے کرام کا احترام کریں ، انھیں ان کا مقام دیں ، ان پر طعن و تشنیع نہ کریں ، ان کی عزت سے نہ کھیلیں ، اگر کوئی غلطی سرزد ہوتو ان کے لیے ہدایت کی دعا کریں۔ حضرت عبادہ بن صامت سے مروی ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں جو بڑوں کو بڑا نہ سمجھے ، چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور عالموں کے حق کو نہ پہچانے۔ علمائے کرام شعائر اسلام میں ایک شعار کی حیثیت رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کا احترام اسلام کا احترام ہے ، ان کی تعظیم تقویٰ کی علامت ہے ﴿وَمَن یُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللّٰہِ فَإنَّہَا مِنْ تَقْوَی القُلُوب﴾ (سورة الحج: 32) اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے یہ اس کے دل کی پرہیزگاری کی وجہ سے ہے۔ علمائے کرام کی صحبت ، ان سے تعلق خاطر ہماری دینی و دنیاوی زندگی کے لیے مفید ہے ، ان کی معیت سے علم زیادہ ہوتاہے ، آداب و اخلاق سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ آدمی کے سمجھ دار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کا چلنا پھرنا،آنا جانا اہل علم کے ساتھ ہو۔ امام محمد بن الحسن الشیبانی حضرت امام ابو حنیفہ سے ان کا قول نقل کرتے ہیں کہ امام صاحب کہتے تھے”علماء کی باتیں سننا اور ان کے ساتھ بیٹھنا میرے لیے بہت سارے فقہی مسائل سے زیادہ محبوب ہے ، کیوں کہ یہ لوگ آداب و اخلاق کے پیکر ہیں۔“ (جامع بیان العلم واہلہ) تو بس کہنا یہ ہے علماء کی قدر کریں اور انہیں اس طرح مستحقین میں شامل نہ کریں ان کی مدد ہدیوں اور تحفوں سے کرے نہ کہ زکات و صدقات سے یہ مجھے نہیں لگتا کہ ان کے شایان شان ہے اگرچہ دینا جائز بھی ہو مگر وہ انبیاء کے وارثین ہیں ہمیں خیال رکھنا چاہیے۔ جزاکم اللہ خیر