موجودہ حالات میں مدارس اسلامیہ کاتعاون انتہائی ضروری! انوارالحق قاسمی ،نیپالی

31

موجودہ حالات میں مدارس اسلامیہ کاتعاون انتہائی ضروری!
انوارالحق قاسمی ،نیپالی
واٹس ایپ نمبر :98111076882
یقینا ملک کی موجودہ صورت حال ہر محب وطن کےلیے نہایت ہی غمگینی کا سامان ہے ہر خوردو کلاں ،خاص وعام اورہمہ شمہ انسان موجودہ دور میں سخت آزمائش کی منازل طے کر رہا ہے، عالمی وبا ‘کرونا وائرس’ سے قبل جو لوگ سکون و راحت کی زندگی گذار رہے تھے، اب وہ اس وائرس کی زد میں آکر پس وپیش کی زندگی جینے پر مجبور ہیں، یقینا انسانی وہم و گمان سے بھی زیادہ لوگ اس مہلک اور خطرناک مرض سے متاثر ہیں، اور اس بات سے بھی کسی فرد بشر کو انکار نہیں ،کہ موجودہ وائرس سے دنیا بھر میں قائم بے شمار مدارس اسلامیہ کا غیر متلافی نقصان ہوا ہے، اگر اس سال کو مدارس اسلامیہ کےلیے عام الحزن ً کا سال قرار دے دیا جائے، تو کوئی غلط نہیں ہوگا۔
یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ دینی مدارس ہی کے ذریعے، آج مسلمانوں میں دینی شعور بیدار ہے، بالفرض اگر اس صفحہ ہستی سے دینی مدارس کا خاتمہ اور استیصال ہو جائے ،تو پھر ہندو مسلم کے مابین فرق و امتیاز کرنا بھی ایک پیچیدہ مسئلہ ہو جائے گا؛ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ ہر چھوٹے بڑے مدرسہ اور ان کے منتظمین و مدرسین اور ملازمین کی خوب خوب عزت وتوقیر کریں، اور گاہے بگاہے ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتے رہیں، تاکہ ان کے اندر مزید دینی خدمات کرنے کا شوق و جذبہ روز افزوں ہوتا رہے۔
مدرسہ دراصل احیائےاسلام ،تبلیغ دین، بقا ئےاسلام کا دوسرا نام ہے، اس میں صبح وشام ،رات ودن قال اللہ وقال الرسول کی صدائیں بلند ہوتی رہتی ہیں، اور اس کا مقصد ہی صرف ایسے افراد تیار کرنا ہوتا ہے، جو پوری طرح علوم دینیہ سے بہرہ ور اور لیس ہوکر عالم کے گوشے گوشے میں کماحقہٗ دینی خدمات کےفرائض بحسن و خوبی انجام دینے پر قادر ہوں ،تاکہ ہر دور میں اسلام زندہ رہے اور معاندین اسلام کی شرانگیزیاں مذہب اسلام پر اثرانداز نہ ہوسکیں،اور اسلام خوب پھیلتا رہے، باطل دبتارہے، اور یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں اور آشکارا ہے، کہ مدارس اسلامیہ کا قیام مسلمانوں کے تعاون ہی پر موقوف ہے، یعنی مدارس اسلامیہ کا مکمل انتظام و انصرام مسلمانوں کے عطیات کے ذریعے ہی کیا جاتا ہے ؛چوں کہ عامتہ وہی بچہ مدرسہ کے اندر حصول علم اور کسب علم کے لئے جاتا ہے، جو غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے، جن کے والدین ماہانہ خوراکی دینے پر قادر نہیں ہوتے ہیں، بعض کے والدین کی مالی پوزیشن تواتنی خراب ہوتی ہے ،کہ خود دانے دانے کے لئے ترستے ہیں، تو بھلا آپ ہی بتلائیں، کہ اگر مدارس اسلامیہ کے ارباب حل وعقد ان کے سر ماہانہ خوراکی لازم کریں گے ،تو پھر دینے کی بات، تو دگر ہے ،وہ پہلے ہی فرصت میں ،اپنے بچہ کو مدرسے سے نکال کر مجبورا کاٹھمانڈو ،دلی ،ممبئی اورگجرات کے کسی بیگ کارخانے میں کام کرنے کے لئے بھیج دیں گے ،ابتدائی دور میں کچھ کما کر دے یا نہ دے؛ مگر کم از کم وہ اپنا پیٹ تو بھر لے گا ،اگر اس طرح کیاجائے،تو پھر حصول علم کی خاطرمدارس اسلامیہ میں بچوں کی آمد ہی نہیں ہوں گی، جب بچوں کی ہی کی آمد نہیں ہوں گی ،توپھر تعلیم کا آغاز ہی نہیں ہوگا، اور جب تعلیم کی ابتدا نہیں ہوگی، تو پھر دین کے داعی اور اسلام کے سپاہی تیار نہیں ہوں گے، اور جب دین کے داعی اور اسلام کے سپاہی تیار نہیں ہوں گے، تو پھر دین کی تبلیغ و ترویج کون کریں گے ؟اور جب عالم کے اندر دین کی تبلیغ و ترویج نہیں ہوگی ،تو پھراس کرہ ارضی کے اندر کام کا تو ‘دین’ چھوڑیے ،بطور شوبوائے بھی پایاجانامشکل ہے، اور جب اس کائنات ہستی میں دین کا کام نہیں ہوگا ،تو پھر اس روئے زمین پر کافرین ،معاندین اسلام اور سرکش شیاطین کا غلغلہ ہوجائے گا، اور جب یہ دنیا اللہ کے نیک بندوں سے خالی ہوجائے گی ،تو پھر کیا باری تعالی یہ دنیا ختم کرکے قیامت قائم نہیں کریں گے؟ بلکہ ضرورایساکریں گے، او مالدار حضرات تو اپنے مال کے نشے میں مخمور ہو کر، مزید مال کے حصول کے لیے اپنی اولادوں کو کالجوں اور یونیورسٹیوں کا رخ کرائیں گے؟یا مدارس اسلامیہ کا، جہاں پیسوں کا نام و نشان تک بھی نہیں ہوتا ہے، پیسا ایک ایسی چیز ہے ،کہ اس کی کثرت اپنے صاحب کے لیے مزید کثرت کا تقاضہ کرتا ہے، اور کثرت مدارس دینیہ میں کسب علوم دینیہ کے ذریعے ممکن ہی نہیں؛ اس لیے صاحب ثروت حضرات اپنی اولادوں کو بڑے بڑے کالجوں اور یونیورسٹیوں کا رخ کراتے ہیں، تاکہ حصول علم کے بعد بیش قرار مال و زر فراہم کرسکے، اور یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کا قیام ہی حصول مال و زر کی خاطر ہوتا ہے، انہیں کیا معلوم کہ رضائے الٰہی کس چیز کا نام ہے؟ اور کن علوم کےاکتساب کے ذریعے معرفت خداوندی حاصل ہوتی ہے، ان کا مقصد ہی دنیا کی طلب ہے، اور دنیاوی نعمتوں کا حصول یونیورسیٹیوں کی تعلیم ہی سے ممکن ہے۔
آمدم برسر مطلب: کرونا وائرس کی اس مہاماری میں، مدارس اسلامیہ بہت بری طرح پھنس چکی ہیں، عام روش تو یہی تھی،کہ مدارس اسلامیہ کے منتظمین و مدرسین اور ملازمین رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں، حفاظت دین اور اشاعت اسلام کی خاطر ،روزہ کی حالت میں تبرعات مالیہ اور صدقات واجبہ ،نافلہ کے حصول کے لیے، اپنی اولاد ،والدین اور بیوی سے مفارقت اور جدائی اختیار کرکے، محض علوم دینیہ کےطالب علموں کی خاطر دور دراز کا سفر کرتے تھے، اور پھر کافی محنت وتگ دوکے ذریعے صدقاتِ واجبہ، نافلہ وصول کرتے تھے، اگر منت سماجی کی ضرورت پڑتی ،تو منت سماجی بھی کرتے، اور بعض بخت خفتہ انسان تو انہیں حقارت کی نظر سے دیکھتا اور کچھ تلخ سُنا بھی دیتا؛ مگر پھر بھی یہ دین کے داعی اور اسلام کے سپاہی ان کی تلخ بیانیوں کو نظر انداز کرکے اپنے کام میں مصروف ہوجاتے تھے ، اس طرح یعنی خوب محنت کرکے مدارس اسلامیہ کے منتظمین ومدرسین اموال صدقات لاتے تھے اور پھر انہیں اموال کے ذریعے پورے سال مدارس اسلامیہ کا انتظام و انصرام کیا جاتا تھا، یعنی انہیں کے ذریعہ بچوں کے کھانے، پینے، روشنی، حالت مرض میں دوائیوں کا انتظام ،اور اساتذہ و ملازمین کے مشاہرات کا مکمل انتظام کیا جاتا تھا، اور اس سال’ کرونا وائرس’ کی لپیٹ میں آکر مدارس اسلامیہ کا نقصان ، انسانی وہم و گمان سے بھی زیادہ ہوا ہے اور ہر مدرسہ کے ارباب اختیار سال رواں کے اخراجات کے تئیں بےحد متفکر ہیں، کہ عید بعد کس طرح باضابطہ تعلیمی سلسلے کا آغاز کیا جائے ،اتنابڑا نقصان مدارس اسلامیہ کے حق میں ،شاید پہلی دفعہ صرف اس’ ماہ رمضان المبارک’ میں ہوا ہے۔
ایسے نامساعد حالات میں امت مسلمہ کے ہر فرد کی، مزید ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، کہ پہلے سے بھی بڑھ چڑھ کر مدارس اسلامیہ کا خوب خوب اپنے صدقات واجبہ، نافلہ کے ذریعہ تعاون کرکے ،احیائے اسلام اور اشاعت دین میں، اپنا اپنا نام مندرج فرمائیں ،اور ان کی ترقی و فلاح و بہبودی کے لیے کوشاں رہنا، اپنادینی ،مذہبی اور اخلاقی فریضہ سمجھیں۔
اخیر میں ناچیز دعاگو ہے ،کہ رب العالمین مدارس اسلامیہ کی حفاظت فرمائے، اور اس مہلک مرض ‘کرونا وائرس’ کو جلد از جلد ختم فرمائے ،آمین۔