آہ!…..آپ بھی ہمیں چھوڑ گئے.

حضرت امیر شریعت رحمہ اللہ کی مشکوک حالات میں وفات کے بعد دل ہی بجھ گیا, پھر یکے بعد دیگرے کئی اہم شخصیات کی فوتگی نے دل میں غم ہی غم بھر دیا اور ایسی وحشت بپا کی کہ بس زیر لب دعاء اور اندر ہی اندر گھلنے کی عادت سی ہوگئ, مگر ابھی تو کچھ اور خون کے آنسو رونا مقدر ہے کہ جن محبوب ترین ہستیوں کو ہم زمین کی رونق سمجھتے تھے ان میں سے ایک اور بڑی دل آویز ہستی نے بھی ہمیں داغ مفارقت دے دیا. آہ!….مولانا نورعالم خلیل الامینی……
یقیناََ یہ بڑی جانکاہ خبر ہے کہ بہار کی مردم خیز سرزمین سے تعلق رکھنے والے, عربی زبان و ادب کے عالمی سطح پر معروف ادیب ومصنف, مجلہ الداعی کے مقبول رئیس التحریر اور ام المدارس جامعہ اسلامیہ دارالعلوم دیوبند کے محبوب ترین استاذ حضرت العلامہ و مولانا نور عالم خلیل الامینی صاحب بھی مولائے حقیقی سے جاملے.انا للہ وانا الیہ راجعون.
حضرت مولانا کی وفات سے جہاں دارالعلوم دیوبند آج یتیمی محسوس کر رہاہے وہیں بہار کی گود بھی اجڑی ہوئی لگتی ہے,ابھی ٹھیک ایک ماہ قبل 03 اپریل کو مرشد الملت امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب رحمہ اللہ کی اچانک وفات ہوگئی اور کل پرسوں میں مخلص سیاسی قائد ڈاکٹر شہاب الدین صاحب سیوانی کی موت کا معاملہ پیش آیا ہے علاوہ ازیں کئ اور چوٹی کی علمی ادبی وسیاسی شخصیات سے بہار کی گود حالیہ چند ہفتے میں خالی ہوگئ, یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے اور بہار ہی نہیں عالم روحانیت,عالم انسانیت اور دنیائے علم وادب کا ناقابل تلافی خسارہ ہے.
مولانا مرحوم ومغفور آزادئ ہند کے محض پانچ سال چار ماہ تین دن بعد 18 دسمبر 1952 میں پیدا ہوئے …بہار کے تاریخی دینی ادارہ مدرسہ امدادالعلوم دربھنگہ, ایک وقت مشرقی یوپی کا "دارالعلوم دیوبند” کہے جانے والے مدرسہ دارالعلوم مئو ,جامعہ اسلامیہ دارالعلوم دیوبند اور مدرسہ امینیہ دہلی میں تعلیم حاصل کی. ان کی عربی انشاء پردازی کے دیوانے خود اہل زبان عرب بھی ہیں, تاہم مولانا اردو کے بھی صاحبِ اسلوب نثر نگار تھے, عربی واردو میں آپ کی درجن بھر سے زیادہ کتابیں طبع ہوکر قارئین کے ذہنوں پر لافانی نقوش قائم کرچکی ہیں, "فلسطین فی انتظار صلاح الدین” پر تو آسام یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ایک ریسرچ اسکالر نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی, "حرف شیریں” سے لاتعداد نئے لکھنے والوں کو لکھنے کے قواعد وضوابط معلوم ہوئے, "کیا اسلام پسپا ہورہا ہے؟” بین الاقوامی حالات کے درست تجزیہ پر مبنی ایک چشم کشا اور حوصلہ بخش کتاب ہے, اپنے استاذ گرامی قدر, عظیم المرتبت مربی حضرت مولانا وحید الزماں کیرانوی رحمہ اللہ کی حیات وخدمات اور علمی و عملی عظمتوں کا تذکرہ مولانا نے ” وہ کوہکن کی بات” میں بڑےہی نرالے اسلوب میں کیا ہے, عربی تعلیم کی مفید ترین کتاب "مفتاح العربیہ” کے کئ حصے دارالعلوم دیوبند سے نسبت رکھنے والے تقریبا تمام مدرسوں میں داخل نصاب ہیں. گویا آپ کی تمام عربی واردو تصنیفات آپ ہی کی خوبصورت شخصیت کی طرح خوب مقبول ومحبوب ہوئیں,جن کی بناء پر 2017ء میں آپ کو "Presidential Certificate of Honour” ( صدارتی سر ٹیفکیٹ آف آنر )
کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔
حضرت مولانا کے انتقال سے دل بوجھل ہورہاہے اور انگلیاں بھی جواب دے رہی ہیں.اب مزید لکھا نہیں جاتا, بس دعاء کیجئے کہ اللہ ہم گنہگاروں پر علمائے ربانیین کا سایہ تادیر قائم رکھیں,جانے والوں کے آنے کا دستور تو نہیں ان کا بدل ہی عطا فرمادیں,حضرت مولانا مرحوم کو جواررحمت میں مقام عطا فرمائیں, اور سوگواروں کو صبرو سکون عطا کریں .آمین یا ارحم الراحمین.
والسلام
حسین احمد ہمدم.ارریہ
6200781496