*حضرت علی المرتضی کے دریائے فیض میں علم کا فیضان* از قلم، مفتی محمد ضیاءالحق  فیض آبادی 

80
*حضرت علی المرتضی کے دریائے فیض میں علم کا فیضان*
از قلم، مفتی محمد ضیاءالحق  فیض آبادی
فون نمبر 9721009708
حضرت علی المرتضی کے دریائے فیض میں علم کا فیضان بھی وہ عظیم خزانہ ہے جس کو حاصل کرنا ہماری ذمہ داری ہے
سیرت مولائے کائنات رضی اللہ عنہ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ان کی فضیلت کا ایک باب علم ہے اللہ عزوجل اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر جو فضل وکرم فرمایا ہے اس میں علم ایک اہم وصف ہے
ہم سب نے وہ حدیث طیبہ سماعت کی ہوگی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ۔
قابل غور بات ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت کے دو اہم پہلو ہیں
1زبانی
2 عملی
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زبانی اظہار محبت اور قلبی عقیدت بھی ہمارے دل کی تسکین ہے
لیکن اگر بات کی جائے عملی پہلو کی تو در حقیقت علم دین کا حاصل کرنا قرآن مجید کی تفسیر اور احادیث طیبہ کی معرفت دین اسلام کے بنیادی مسائل کا احاطہ ہے.
یہ وہ بنیادی چیزیں ہیں جن کے حاصل کرنے کے بعد اللہ سبحانہ تعالٰی اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت میں بندہ عروج و کمال کو  پہونچتا ہے اور سبحانہ تعالٰی اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب اور معرفت پانے کا اہم وطیرہ علم دین مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم ہے اور دین کا علم ایسے افراد سے حاصل کیا جائے جس کا سلسلہ علم مولائے کائنات سے ملتا ہو اور اس دروازے سے داخل ہو کر ہی کونین کے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں پہنچنا ممکن ہے
ضرورت اس بات کی ہے کہ زبانی دعوے محبت سے آگے بڑھیں میرے علی مشکل کشا جس شہر کے لئے دروازہ ہیں اس میں داخل ہونے کی تدبیر بنائیں کیونکہ العلم نور علم نور ہے جب علم آتا ہے تو حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے جہالت دور ہو جاتی ہے معرفت کے دروازے رفتہ رفتہ کھلنے لگتے ہیں ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہ کو جہالت نہیں بلکہ علم دین پسند ہے
ضرورت اس بات کی ہے کہ رسول محتشم کی میراث جب بصورت علم دین تقسیم ہو رہی ہو تو ہمیں آگے بڑھ کر وصول کرنا چاہیے
ایئے ملکر کر یہ ذہن بنائے کہ ہم حب علی المرتضی کے معاملے میں صرف نعروں تک محدود نہیں رہیں گے  بلکہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں گے
حقیقت تو یہ ہے کہ ہم میں سے ایک بڑی تعداد سیرت علی المرتضی سے نا آشنا ہوتی ہے
آؤ ہم سب ملکر
اولیاء اللہ کا دامن تھام لیں
میرے مرشد کریم پیران پیر تاج الأولياء حضور غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ وہ مقدس ہستی ہیں جو ساری زندگی خیرات مولائے کائنات تقسیم کرتے رہے سرکار بغداد حضور غوث اعظم نے بغداد مقدسہ میں مدرسہ قائم کیا اس مدرسے میں دین کے ضروری علوم و فنون بھی پڑھاے جاتے تھے اور وہ علوم بھی سکھائے جاتے تھے جو شہنشاہ بغداد کے قلب اطہر میں مشائخ کرام سے سینہ بسینہ منتقل ہوا یا براہ راست سیدنا علی کرم اللہ وجہ سے ملا تھا ۔
حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے دربار پر انوار پر جانے لگیں تو سب سے پہلے دروازے کے دونوں طرف فریم میں لگی تختیاں زائرین کو یہ بتاتی ہیں کہ یہ وہ اکابرین ہیں جن سے حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے علوم و معرفت حاصل کی ۔
اور جس میں دروازے کے دونوں جانب لگے فریم میں دونوں شجرے لکھے ہوئے ہیں ۔
پہلا شجرہ طیبہ وہ ہے جو شجرہ قادریہ رضویہ میں مذکور ہے دوسرا شجرہ طیبہ وہ ہے جو سید التابعين امام حسن بصری رضی اللہ عنہ سے ہوتا ہوا مولائے کائنات شیر خدا علی المرتضی رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے
پہلے شجرہ طیبہ کی تفصیل
سرکار بغداد شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے خلافت و اجازت حاصل کی
امام ابو سعید المخزومی رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے
امام ابو الحسن ہکاری رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے
امام ابو الفرح طرطوس المکی رضی اللہ عنہ  سے
انہوں نے
امام شیخ عبد الواحد التمیمی رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے
امام ابو بکر الشبلي رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے
امام جنیدالبغدادی رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے
امام سری السقطی رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے
امام معروف الکرخی رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے
امام علی الرضا رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے
امام موسی کاظم رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے
جعفر الصادق رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے
امام محمد الباقر رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے
امام زین العابدین رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے
امام سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے
سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے
اور آپ نے
سلطان مدینہ خاتم الانبياء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے تاج ولایت حاصل کیا
دوسرے شجرے کی تفصیل
شہنشاہ بغداد شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے خلافت و اجازت حاصل کی
امام ابو سعید المخزومی رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے
امام ابو الحسن ہکاری رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے
امام ابو الفرج الطرطوسی رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے
امام ابو بکر الشبلي رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے
امام جنید بغدادی رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے
امام سری السقطی رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے
امام معروف کرخی رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے
امام داؤد الطائی رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے
امام حبیب عجمی رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے
امام حسن بصری رضی اللہ عنہ سے
اور انہوں نے
امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے
مخزن علم شہر علم شہنشاہ مدینہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے اکتساب فیض کیا۔
اولیاء کاملین نے حضرت مولائے کائنات رضی اللہ عنہ کے ذریعے ملنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان اور نور علم کو کس جانفشانی سے آگے پہنچانے کا سلسلہ جاری و ساری رکھا ہے
اور مولائے کائنات سے جو علم کا سر چشمہ جاری ہے اس کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کا اہتمام آج بھی جاری و ساری ہے
میں قربان جاؤں اپنے  اس امام اہلسنت فاضل بریلوی پر جو سلسلہ قادریہ کے عظیم پیشوا تھے
جن کا سلسلہ حضرت غوث اعظم سے ہوکر علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے فیض پر مبنی ہے
امام اہلسنت نے سلسلہ قادریہ کا فیضان لاکھوں کروڑوں کے دلوں میں گامزن کر دیا ہے
آپ کا وہ شہزادہ جس دنیا تاج الشریعہ کہتی ہے بلا مبالغہ جس عظیم روحانی پیشوا کے کروڑوں مریدین پائے جاتے ہیں جو کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے وابستہ ہوگئے ہیں۔تاج الشریعہ علیہ رحمہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیضان پر صرف زبانی نعرہ سکھانے اور عقیدت کا جام پلانے تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ فیضان علی المرتضی کی عملی تصویر پیش کی ہے علم مصطفی اور میراث مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم  جس کا دروازہ علی رضی اللہ عنہ ہیں ۔
اس علم کو پھیلانے کے لیے سینکڑوں مدارس اسلامیہ اور جامعات قائم کیے ہیں ۔
موجود دور میں قرآن و حدیث تفسیر و فقہ اسلامی کو سکھانے والے ادارے میں جتنی بڑی تعداد میں تاج الشریعہ علیہ رحمہ نے قائم کئے ہیں اس کی مثال موجودہ دور میں نہیں ملتی اور ان کے مریدین و خلفاء و معتقدین کی جتنی بڑی تعداد علم دین پڑھنے اور پڑھانے اور دین کی تبلیغ اشاعت کرنے پر جس تیز رفتاری کے ساتھ عمل پیرا ہیں اس کی کوئی نظیر اس قحط الرجال کے دور میں نہیں ملتی
یہ سب فیضان علی المرتضی ہے
کہ تاج الشریعہ علیہ الرحمہ سلسلہ قادریہ  کے ایک عظیم داعی اور شیخ کبیر تھے اور سلسلہ قادریہ کا شجرہ ہی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے انہوں نے اپنا رشتہ مضبوط کر لیا تھا
 یہ سلسلہ اگر مضبوط رکھنا ہے تو
علم سے محبت اور دوستی اور علم کے حصول کو یقینی بنانا ہوگا ۔ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مولائے کائنات کے صدقے احقر کے علم و عمل بے پناہ برکتیں عطاء فرما آمین ثم آمین یا رب العالمین