سحری اور افطاری کی فضیلت ازقلم، مفتی محمد ضیاءالحق فیض آبادی

36
سحری اور افطاری کی فضیلت
رمضان رحمتوں و برکتوں کا مہینہ ، رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے روزہ ہر مسلمان مرد و عورت عاقل و بالغ پر فرض ہے رمضان المبارک میں نفل عبادت کا ثواب فرض عبادت کے برابر ملتا ہے اس میں افطاری و سحری کی خاص فضیلت ہے رمضان المبارک کا پہلا رحمت والا عشرہ ہمارے درمیان سے رخصت ہو گیا دوسرا مغفرت والا عشرہ ہمارے مابین بڑے تزک و احتشام کے ساتھ رواں و دواں ہے لیکن کورنا وائریس کی وجہ سے  جو رونقیں ہونی چاہیے وہ دیکھائی نہیں دے رہیں ہیں لوگ اپنے گھروں میں زیادہ تر محصور ہو کر عبادت و ریاضت میں مصروف عمل  ہیں ۔ رمضان المبارک میں افطار اور سحری کے اوقات میں سب سے زیادہ رونقیں ہوتی ہیں۔ اس کے لئے خاص انتظام و انصرام کیا جاتا ہے آئیے جانتے ہیں رمضان المبارک میں افطاری و سحری کی کیا فضیلت ہے
اللہ تعالی کا ارشاد ہے
*اور کھاتے پیتے رہا کرو یہاں تک کہ تم پر صبح کا سفید ڈورا (رات کے)سیاہ ڈورے سے (الگ ہو کر)نمایاں ہو جاے پھر روزہ رات (کی آمد )تک پورا کرو*
*حدیث شریف میں ہے*
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی رحمت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے۔
*دوسری حدیث شریف میں ہے*
حضرت سہل بن سعد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی علیہ وسلم نے فرمایا ، لوگ اس وقت تک خیر پر ہونگے جب تک افطاری میں جلدی کرتے  رہیں گے ۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا کہ
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اور حضرت زید بن ثابت نے سحری کھائی جب دونوں اپنی سحری سے فارغ ہوے تو حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے نماز کے لئے کھڑے ہوگئے، اور نماز پڑھی ہم نے حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے کہا کہ ان کی سحری سے فارغ ہونے اور نماز میں شامل ہونے میں کتنا وقفہ تھا فرمایا کہ جتنی دیر میں کوئی آدمی پچاس آیتیں پڑھے۔
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی علیہ وسلم نے فرمایا سحری کرو کیونکہ سحری کے کھانے میں برکت ہے
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے جب سحری ہوتی تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم مجھے فرمایا کرتے ہمارے لیے صبح کا بابرکت کھانا لاو۔
(النسائی کتاب الصوم )
آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک میں سحری تناول فرماتے ہیں اور اسے غذا مبارک صبح کا برکت والا کھانا قرار دیتے
سحری کے کھانے میں برکت سے مراد یہ ہے کہ اس سے اپ کو اللہ کے حکم کی بجا آوری میں سہولت ہوتی ہے اس کا حکم یہ ہے کہ فجر کے وقت سے روزہ شروع کرو اور غروب آفتاب کے وقت ختم کرو اب جس وقت سے روزہ شروع ہوتا ہے اس سے پہلے اگر آپ اللہ تعالی کی دی ہوئی اجازت سے فائدہ اٹھا کر کھا پی لیتے ہیں تو کھایا پیا دن میں آپ کے کام اے گا لیکن اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو اس سے لازما اپ کو کمزوری لاحق ہو جاے گی
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے رسول الله صلی علیہ وسلم نے مجھے سحری کے وقت فرمایا کھانے کے لئے کچھ لاو میں نے آپ کی خدمت اقدس میں کھجور اور پانی پیش کیا ۔
حضرت عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ رسول اللہ  نے فرمایا کہ ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق ہے سحری کا لقم آیا سحری کا کھانا۔
یاد رہے کہ اہل کتاب کا روزہ سحری کے بغیر ہوتا ہے اور مسلمانوں کا روزہ سحری کے ساتھ ہوتا ہے یہی سحری مسلمانوں اور اہل کتاب  میں فرق پیدا کرتا ہے اہل کتاب کا تصور یہ ہے کہ روزہ خود کو تکلیف دینے کے لئے ہے جب کہ مسلمانوں کا تصور یہ ہے کہ روزہ حکم خداوندی بجا لانے کا نام ہے اور ہم فرمانبرداری کے ذریعے اللہ کا تقرب چاہتے ہیں تاکہ ہمیں خدا کا قرب حاصل  ہو جاے۔
ایک صحابی سے مروی ہے میں آپ صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں سحری کے وقت گیا ۔جب میں آپ صلی الله علیہ وسلم کے حجرہ میں داخل ہوا تو اپ سحری فرما رہے تھے ، فرمانے لگے سحری سراپا برکت ہے اللہ تعالی نے خصوصا یہ تمہیں عطاء فرمائی ہے اسے ترک نہ کیا کرو ۔
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے مجھے آپ صلی الله علیہ وسلم نے رمضان کی سحری میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا آو بابرکت کھانے میں شریک ہو جاو ۔
(مسند احمد ج۴ ص ۱۲۶)
حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق سحری فقط کھانا نہیں ہے بلکہ ایک مبارک ناشتہ ہے یہودی یہ سمجھتے تھے کہ اگر سحری کھا کر روزہ رکھا تو کیا رکھا لیکن اسلامی شریعت میں اس تصور کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم افطاری کی طرح سحری بھی کھجور سے فرماتے اور وہ بھی زیادہ نہیں ہوا کرتیں تھیں بلکہ اکثر فقط دو کھجوریں اور پانی ہوتا ۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی الله عنہا کا بیان ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں جو سحری پیش کی جاتی تھی وہ اکثر دو کھجوریں ہوا کرتیں تھیں
(مع رسول فی رمضان ۲۶)
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول خدا نے فرمایا مومن کی بہترین سحری کھجور ہے
(ابودواؤد شریف)
مذکورہ بالا احادیث سے یہ پتا چلتا ہے کہ مومن کے لئے بہترین سحری کھجور ہے اس لئے کھجور میں انسان کی تمام غذائی ضرورت پائی جاتی ہے اگر انسان کو کوئی غذا نہ مل سکے لیکن اگر کھجور حاصل ہو تو یہ اس کے لئے کافی غذا ہے
موجودہ تحقیق کے مطابق انسان کو اپنی توانائی برقرار رکھنے کے لئے غذا کی جتنی کیلوریز درکار ہوتی ہیں وہ کھجور میں موجود ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں جب فوج کو کسی صحرائی علاقے میں لمبے عرصے تک قیام کرنا پڑتا تھا تو وہاں غذا مہیا کرنے کے عام مواقع موجود نہیں ہوتے تھے ، تو کھجور کو بہترین سحری قرار دیا ۔سحری کے وقت میں گنجائش رکھی گئی ہے جس کا پتا ہمیں اس حدیث مبارکہ میں ملتا ہے کہ اپ نے فرمایا تم میں کوئی شخص جب آذان کی آواز سنے اور اس وقت برتن ابھی اس کے ہاتھ میں ہو تو وہ برتن کو اپنے ہاتھ سے نہ رکھے ، جب تک کہ وہ اپنی حاجت پوری نہ کر لے ، نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اس فرمان کے بارے میں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ آپ کے زمانے میں سحری کے وقت نقارے اور سائزن نہیں بجتے تھے بلکہ لوگوں کو آذان کی آواز سن کر یہ معلوم ہو جاتا تھا کہ سحری کا وقت ختم ہو گیا ہے
جس طرح سحری کھانا باعث حصول و برکت و رحمت ہے اسی طرح ماہ صیام میں مومن کا روزہ افطار کرنا اور دوسروں کو روزہ افطار کروانا بھی غیر معمولی اجر و ثواب اور فضیلت کا حامل ہے ترمذی شریف کے ایک حدیث کے مطابق افطار میں جلدی کرنے والے  اللہ کو محبوب ہیں ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ہے اپ صلی الله عليه وسلم نے اس عمل پر اللہ تعالی کی پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے مجھے وہ بندہ محبوب ہے جو افطار میں جلدی کرتا ہے
(ترمذی شریف کتاب الصوم)
روزہ کھولنے کے لئے صحیح وقت کے بارے میں حدیث مبارکہ ہے کہ جب حضرت ابو درداء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا میری امت اس وقت تک میرے طریقہ پر رہے گی جب تک وہ افطار کے لئے ستاروں کے طلوع ہونے کا انتظار نہیں کرے گی ۔
افطار کے لئے سب سے افضل چیز کھجور ہے
حدیث مبارکہ ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو اسے چاہئے کہ کھجور سے افطار کرے کیونکہ اس میں برکت ہوتی ہے اگر کھجور نہ ملے تو اسے چاہئے کہ پانی سے افطار کرے کیونکہ وہ پاک ہے (ترمذی شریف)
رسول پاک کا معمول یہ تھا کہ اپ پہلے روزہ افطار کرتے تھے اور پھر نماز ادا فرماتے تھے افطار میں اپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور یہ تھا کہ آپ تازہ کھجور سے افطار کرتے تھے ۔ اگر کھجور نہ ملتی تو پھر چھوہارے سے روزہ کھولتے تھے اور اگر کبھی اتفاق سے وہ بھی نہ ہوتے تو پانی کے ایک دو گھونٹ پی کر روزہ افطار فرماتے تھے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ دین نمایاں اور غالب رہے گا جب تک کہ لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہود و نصاری افطار کرنے میں تاخیر کرتے ہیں ۔ روزہ افطار کروانے کا اجر و ثواب اور فضیلت اس قدر زیادہ ہے کہ حدیث مبارکہ کے الفاظ کے مطابق جھنم کی آگ سے نجات کا آسان ترین ذریعہ  ہی اس عمل خیر کو قرار دے دیا گیا ہے
حدیث شریف کے الفاظ ہیں کہ جس نے رمضان میں کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو اس کے گناہوں کی بخشش اور اس کی گردن کو آگ سے چھڑانے کا ذریعہ ہوگا اور اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس روزہ دار کو روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا بغیر اس کے روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی ہو ۔
صحابہ کرام نے نبی اکرم صلی الله عليه وسلم سے عرض کیا کہ ہم سے کوئی بھی اتنی استطاعت نہیں رکھتا کہ کسی دوسرے کو روزہ افطار کرا سکے آپ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا افطاری کرا دینے سے مراد پیٹ بھر کر کھلا دینا نہیں بلکہ ایک کھجور ایک گلاس دودھ سے روزہ افطار کرا دینا بھی ویسے ہی اجر و ثواب کا حامل ہے جیسے پیٹ بھر کر کھلا دینے کا ثواب ہے
ایک شخص بارگاہ حسینان عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں عرض گزار ہوتا ہے کہ ہم اپنا مال خرچ کرتے ہیں اس لیے کہ ہمارا نام بلند ہو کیا اس پر ہمیں کوئی اجر ملے گا حضور حسینان عالم صلی اللہ عليه وسلم نے فرمایا  نہیں ۔
 اگر اللہ عزوجل سے اجر اور ناموں نمود دونوں کی نیت ہو آپ نے فرمایا اللہ تعالی کوئی بھی عمل قبول نہیں کرتا جب تک کہ وہ خالصا اس کے رضا کے لئے نہ ہو ۔ واللہ تعالی اعلم
*اجتماعی افطاری*
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی کبھی اجتماعی افطاری بھی ہوا کرتی تھی ۔
حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ہم نے ایک دفعہ رسول اللہ صلی الله عليه وسلم کے ساتھ روزہ افطار کیا آپ کی خدمت اقدس میں زیتون پیش کیا گیا ۔آپ نے اسے تناول فرمایا اور ہم نے بھی ۔
*مساکین کے ساتھ افطار*
یہ آپ صلی الله عليه وسلم کی مبارک تربیت ہی کا اعجاز تھا کہ آپ کے صحابہ افطار تنہا نہ کرتے بلکہ اپنے ساتھ معاشرے کے فقراء و مساکین کو بھی شامل کر لیتے،
حضرت عبد اللہ بن عمر رضى الله عنہما کے بارے میں مروی ہے
مساکین کے بغیر افطار نہ فرماتے ،اگر گھر والے اسے محسوس کرتے تو اس رات کھانا ہی نہ کھاتے ،
بلکہ ان کا یہ بھی معمول تھا کہ اگر وہ کھانا کھا رہے ہوتے کوئی سائل آ جاتا، تو کھانے کا اپنا حصہ اٹھا کر فی الفور سائل کو دے دیتے جب واپس آتے تو بقیہ کھانا گھر والے کھا چکے ہوتے بغیر کھاے رات بسر کر لیتے بلکہ صبح روزہ رکھ لیتے۔
(لطائف المعارف ۳۱۴)
لھذا رمضان المبارک میں صدقہ خیرات اور روزہ افطار کروانے والے اس جیسے  افضل اعمال خالصا اللہ عزوجل کے لئے کئے جائیں ،نہ کہ قربت و روابط کے لئے یا نئے سلسلے بنانے اور ان سے دنیوی اغراض و مقاصد حاصل کرنے کی نیت کے تحت کئے جائیں نیز افطاری کے کھانے کو سادہ رکھا جاے انواع و اقسام کی مرغن غذائیں اور قسم قسم کی دستر خوان میزبان کے اعلی ذوق اور سخاوت کا اظہار تو ہوسکتی ہیں۔ لیکن دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق نیکی کے روح کے منافی ہیں ۔ اس لیے کہ روزہ کا مقصد نفس کو مرغوبات و لزات سے روکنے کی تربیت دینا ہے نہ کہ لزت پرستی میں اضافہ کا ایک نیا در کھولنا نیز ایسے موقع پر کھانے پینے کی اشیاء کے ضائعے ہونے اور کچرے کے ڈھیرے پر پڑے رہنے سے رزق کی بے حرمتی کا اندیشہ زیادہ پایا جاتا ہے ۔ لھذا تمامی حضرات کو چاہیے کہ روزہ افطار میں رزق کی بے حرمتی سے بچیں اور ایک دوسرے کو بھی بچائیں ۔
اللہ پاک سرکار  مدینہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقے میں افطاری کرانے اور امت مسلمہ کو رزق کے قدر کی توفیق بخشے ۔امین یا رب العالمین