کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے عارف حسین طیبی

46

کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے

عارف حسین طیبی

arifhusainshab@gmail.com

جمہوریت میں وزیر اعظم کا کردار مثبت افکار و خیالات کا آئینہ دار ہوتا ہے انکی شخصیت کا گہرہ نقش قائدانہ صلاحیتوں سے لبریز ملک کی سماجی ، سیاسی ، ثقافتی اور تہذیبی عوامل پر ایک مضبوط پتھر کیطرح ہے انکا دائرہ اثرو رسوخ بلا تفریق مذہب و ملّت ہر فردبشر کے لئے ایک غیر معمولی حیثیت کا حامل ہوتا ہے جو ملک کی فرامین اور جمہوری ڈھانچے کی سالمیت اور بقا لئے آخری وقت تک اپنے وجود کو جزلاینفک سمجھتا ہے اور کیوں نہ ہو حلف برداری میں انہیں اسی بات کا احساس دلایا جاتا ہے کہ آپ اپنی پارٹی سے پہلے اس ملک کے وزیراعظم ہیں جنکی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی دور حکومت میں قانون کی بالا دستی اور جمہوریت کے اعلی اقدار کی پاسبانی کے لئے ملک کے عوام نے انہیں ذمہ سونپی ہے آپ کس پارٹی سے ہیں اس پارٹی کا سیاسی بساط اس ملک میں کیا ہے اس بات سے کوئی غرض نہیں ہونا چاہیئے وزیر اعظم کی ذمہ داری بہت واضح ہے ملک کی تعمیر و ترقی کیساتھ جملہ مذاہب کے لوگوں کو عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کی ضمانت دے پیار و محبت کی بات سے اپنائیت کا احساس دلانے میں انکا موقف بہت واضح ہو نفرت انگیزی اور فرقہ واریت نہ خود اپنے وجود میں سرایت کرے اور نہ ہی اس طرح کے واویلا مچانے والوں کو برادشت گنجائش پیدا کی جائے بلکہ جمہوریت میں ہر مذاہب کے ساتھ انصاف اور انکے حقوق کی پرواہ کسی بھی ورزیر اعظم کے لئے اولین ترجیحات شامل ہونا چاہئے
اگر ہم بات کریں ہندوستان کی ہم بات کریں وزیر اعظم نریندر مودی کی تو انکی کوشش صرف ایک قوم اور ایم پارٹی کی برتری اور اسکو عوج ثریا تک پہونچانے کی بات تک محدود ہے انکے قول عمل سے بآسانی یہ کشید کیجاسکتی ہے کہ وہ صرف ایک مشن میں کام کررہے ہیں جن کا مقصد اپنی پارٹی کو ملک کے ہر ریاست میں اقتدار سونپنا ہے آج ملک میں ہندوتوا کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کا آئے دن سیاسی اور سماجی استحصال کیا جاتا ہے اور اسکے وقار کو مجروح کے کر نے لئے بھگوا بریگیڈ کی ٹولی ہر دم سرگرم رہتی ہے الگ الگ زاویے سے اقلیتوں میں ڈر اور خوف کا ماحول پیدا کیا جاتا ہے کچھ لوگوں کو مودی اور شاہ نام پر مذہنی منافرت پھیلانے لائسنس بانٹ رہے ہیں لیکن وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر اعظم نریند مودی خاموشی کی دبیز چادر میں لپٹے اس دن کا انتظار کر رہے ہیں کہ کب اس ملک میں عوام مذہب کے نام پر فساد برپا کرے اور ہماری سیاسی امیج کو مزید چار چاند لگے اورایک خاص مذہبی شناخت رکھنے والے افراد کو بغیر تحقیق کے جیل کی سلاخوں میں ڈھکیلنے کی پوری تیاری کیجائے
ورنہ کیا وجہ ہے گذشتہ ڈیڑھ مہینے سے ایک نالائق کتّا ہے جو الگ الگ اسٹیجوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان گستاخی پر گستاخی کئے جارہا ہے لیکن مودی جی انکی زبان بند کرنے کے بجائے خاموشی سے کسی انہونی کے منتظر ہیں ملک بھر میں ہزاروں ایف آئی آر درج کروائے جا چکے ہیں لیکن تانا شاہ کی پولیس اسے گرفتار کرنے سے بچ رہی ہے
شاہ جانتا ہے اگر ابھی گرفتاری ہوئی تو بنگال میں ہندو کٹرتا کا سیاسی مائیلیج ہمیں نہیں مل پائیگا اس ملک میں وزیر اعظم سے لیکر وزیر داخلہ تک اپنی سیاسی زمین کو بچانے کے لئے مسلسل ایسی آوازوں اور طاقتوں کا سہارہ لے رہے ہیں جسکی آڑ میں ترقیاتی کاموں کو نظر انداز کرکے مذہبی جذبات کو بھڑیا جانے کی پوری اسکرپٹ لکھی جارہی ہے
گذشتہ چند سالوں میں بی جے پی نے پورے ملک میں ہندوتوا کی ساکھ اور اسکی بنیادی وجود کو برقرار رکھنے کے لئے جس طرح کی سیاسی حکمت عملی اور عیارانہ لائحہ عمل کو وجود میں لارہی ہے یقینا ملک کی جمہوریت کے لئے باعث تشویشناک ہے بی جے پی کئی طرح کے ہندو وادی قدیم نعروں کو نئے لیبل لگاکر مارکیٹنگ کرنے کی جی توڑ کوشش کر رہی ہے جس سے ہندوازم کی کٹرتا کی جھلک صاف نظر آتی ہے گائے ماتا ، جے شری رام ، بھارت ماتا کی جے ، مندر وہیں بنائیں گے اسطرح کے نعروں میں ہندوتوا کے نئے لیبل لگاکر سیاسی مارکٹنگ کرنے کا ایک نیا طریقہ وجود میں لایا گیا ہے تاکہ ہندووں کو پوری طرح متحد کیا جائے تاکہ یہ صرف انہیں ہی کو ووٹ کرنے کے پابند ہوں ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں انوراگ ٹھاکر ، کپل مشر نے دہلی ودھان الیکشن کے وقت کس طرح ملک میں زہریلی فضا قائم کرنے جیسا نہایت ہی غیر ذمہ دارانہ بیان دیا تھا جس کے چند دن بعد دہلی میں ہندو مسلم فساد برپا ہوگیا لیکن ابھی تک اس پر کسی بھی طرح کا قانونی ایکشن نہیں لیا گیا ہم سب جانتے ہیں مالیگاؤں بم دھماکے کا کلیدی ملزم پرگیہ سنگھ ٹھاکر پورے ملک میں مسلم دشمنی کے لئے اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہے اس نے ہزراروں بار مہاتما گاندھی کو لیکر نہایت ہی رکیک اور ہتک آمیز بیان دیکر سرخیاں بٹور چکی ہے لیکن کیا مجال کہ اس پر مودی جی بھی ایکشن لے لیں ایسے ہزاروں زہریلے بیانوں کے ذریعہ سے ملک کی فضا کو مکدر کرنے کی روزانہ کوشش کیجاتی ہے لیکن ملک کا وزیر اعظم کسی بھی طرح اس پر ایکشن لینے سے گریز کرتے نظر آتے ہیں ابھی گذشتہ کل ہی کی بات ہے گجرات کے ایک شمشان گھاٹ میں کچھ مسلمانوں نے اپنے ہندو دوست کی آخری رسومات میں شرکت کے لئے گئے لیکن بی جے پی کا ایک نا ہنجار ایم ایل اے نے مسلمانوں کی موجودگی پر سخت اعتراض جتایا ہے ایک ایسے وقت جب پورا ہندوستان کرونا مہا ماری جنگ لڑ رہی ہے ایسے میں بی جے پی ایم ایل اے کا ہندو مسلم تھیوڑی کو اچھالنا یقینا اس ملک کی جمہوری ڈھانچے اور بھائی چارگی کی مضبوط دیوار کو ڈھانے جیسا ہے اگر ملک کو صحیح پٹری پر لانا ہے تو صرف لمبی چوڑی تقریروں سے کچھ نہیں ہوگا سماجی اور جمہوری ڈھانچے کو بچانے کے لئے وزیر اعظم کو اپنی پارٹی کے سمبل سے نکل کر سب کا ساتھ سب وکاس اور سب وشواش کی ٹریک پر چل اپنی حکومت طاقت و قوت زمام اقتدار کی اہمیت اور قانون و فرامین بالا دستی قائم کرنے میں کھل کر اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرنا ہوگا
بار بار اقلیتوں کو ڈرانے دھمکانے والے بد طینت نیتاؤں کو انکی اوقات یاد دلانے کی ضرورت ہے اگر ان سب میں وزیر اعظم نریند مودی میں اپنی امپاورمینٹ کی بالادستی قائم کرنے مین ناکام ہوتے ہیں اور ملک اقلیتوں اور انکے مذہبی رہنماؤں کے خلاف گستاخیاں بدستور جاری اور ساری رہتی ہیں تو یہ سمجھا جائیگا دینا کو سب سے پاور فل بتانے والا پردھان منتری در اصل ملک کے نہیں بلکہ بی جے پی کے لئے ایک سیاسی مہرہ ہیں جنہیں اپنے ملک کے عوام یا یہاں کی جمہوریت سے محبت نہیں بلکہ صرف اقتدار کی کرسی سے بے انتہا محبت ہے جو اس ملک کی رنگا رنگ تہذیب و ثقافت کے منافی ہے اگر ایسا ہی چلتا رہا تو ملک جلد ہی فرقہ واریت کی شاہراہ پر چل تباہ و برباد ہونے کی آخری کنارے پر پہونچ جائیگا
عوام من کی بات سن سن کر اوب گئی موجودہ وقت میں اسپتالوں کی کیا حالت ہے جگ ظاہر ہے روزانہ کووڈ کے مریض اوکسیجن کی عدم دستیابی کی وجہ دم توڑ رہے ہیں مرنے والوں میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جو مودی جی کو خوشحال بھارت بنانے کے لئے ووٹ تو دیا لیکن مودی جی آج اپنے ناکارے پن کی وجہ بے بس غریب مزدور عوام کو مرنے کے لئے کھلے آسمان نیچے چھوڑ دیئے ہیں بلکتی اور سسکتی انسانیت کا کوئی پرسان حال نہیں ہے شہر سے لیکر گاؤں تک ازلی سناٹوں کے حصار میں ہے لیکن وزیر اعظم اور انکے حلیف ملک میں انسانوں کے موت پر سیاست کرنے سے نہیں چونک رہے ہیں خود غرض اور بے مروّت سرکاری کی انداز حکمرانی پر کون نہ اپنی جان نچھاور کردے کائنات کا دستور ہے جب زبان خاموش ہوجائے تو آنکھیں بولنا شروع کردیتی ہیں اور جب آنکھیں ایک بار دل کے درد میں ڈوبے الفاظ بولنا شروع کردیں تو پوری دنیا خاموش اور ویران نظر آتی آج وہی ہورہا ہے ہر شخص چیخ چیخ کر وزیر اعظم نریندر مودی کو پکار رہا ہے سر مجھے بچا لیجئے سر مجھے بچا لیجئے لیکن ان بے بسوں کی آواز مودی جی کی بنگال اور آسام کی سیاسی ریلیوں میں دب کر نہ جانے کب موت میں تبدیل ہوجاتی ہے کسی کو نہیں پتا چلتا اور یہ بھیانک تصویر اس بھارت کی ہے جو وشو گرو بننے کے لئے چھٹپٹا ہے

کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے
کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے