آہ! ڈاکٹرممتازاحمدخاں بھی چل بسے محمدصدرعالم ندوی مہوا ویشالی

36

آہ! ڈاکٹرممتازاحمدخاں بھی چل بسے
محمدصدرعالم ندوی مہوا ویشالی
9661819412
موت کی خبروں نےجسم وجان کونڈھال بنادیاہے آۓدن کسی نہ کسی کی موت کی خبرآرہی ہے اوریہ خبر سننے کےبعدایسامحسوس ہورہاہےکہ اب پتانہیں کس کی باری ہے ،ڈراورخوف طاری ہے اسی بیچ دس رمضان بروز جمعہ کومغرب سےتھوڑی دیر پہلےڈاکٹرممتازاحمدخاں سابق پروفیسربہاریونیورسٹی مظفر پورکےانتقال کی خبرآٸ،اناللہ واناالیہ راجعون پڑھا،بدن سہم گیا ،چونکہ ڈاکٹر صاحب کوٸ خاص بیمار نہیں تھے ،لکھ پڑھ رہےتھے ،خویش واقارب ،عزیز وں ودوستوں کاحال معلوم کررہےتھے ،ابھی چنددن پہلےکی بات ہےکہ میرےبھاٸ جان مولانا محمدقمرعالم ندوی استاد مدرسہ احمدیہ ابابکرپورویشالی نےکہاکہ ڈاکٹر صاحب فون نہیں اٹها رہےہیں ،میں نےایک نمبر دیا، لیجیےاس نمبر پربات ہوجاۓگی ،پھراس نمبرپربات ہوٸ،میں نےخیریت پوچھی،توکہاکہ ڈاکٹر صاحب بیمارچل رہے ہیں ،ابھی گھرہی پرہیں ،اورتمہارانام لےکربولیں ہیں کہ ،مولانا صدرعالم صاحب کوکہیےکہ میرے لیے دعاکریں ،میں نےاسی وقت کہا ،اللہ خیرکامعاملہ کرے،گھرپرجاکرعیادت کےلیے سوچ ہی رہاتھا کہ وفات کی خبربجلی بن کرگڑی ،
جمعہ کوشام میں انتقال کی خبرآٸ ،اورسنیچر کودن کےدوبجےاردومڈل اسکول باغملی حاجی پورکےمیدان میں نمازجنازہ مولانا سیف الاسلام امام جامع مسجد مروت پورمہنارنےپڑھاٸ ،اورباغملی کےقبرستان میں ہی سپردخاک ہوۓ ،لاک ڈاٶن کےباوجودمحبت کرنےوالوں کی بڑی تعداد تھی ،ڈاکٹر ریحان غنی ،سابق جج عبدالرحیم انصاری ،انوارالحسن وسطوی،ماسٹر عظیم الدین انصاری ،پروفیسرواعظ الحق،عارف حسن وسطوی،مولانا محمدقمرعالم ندوی،راقم الحروف محمدصدرعالم ندوی،پروفیسرجمال،سیدمصباح الدین احمد،ڈاکٹر ذاکرحسین،ماسٹر نسیم،ماسٹرعبدالقادر،وغیرہ کےنام ذہن میں ہیں،
ڈاکٹرصاحب غضب کےانسان تھے ان کی اپنی دنیاتھی ،پڑھنےپڑھانےسےشغف تھا،پڑھنےوالےطلبا کوبےانتہاچاہتےتھے ،میں نےباضابطہ ان سےنہیں پڑھا،لیکن بہت کچھ سیکھاہے جب بھی فون پربات ہوتی ،باتوں باتوں میں کچھ سکھاتے ،مشورہ بھی دیتے،وفات سےدس بارہ روزپہلےبات ہوٸ ،بہت دیرتک بات ہوتی رہی ،میں نے باتوں بات میں کہاکہ ،آپ کےایک شاگردہ نے جمیل احمد خاں جمیل سلطان پوری کےاوپرپی ایچ ڈی کیاہے ،اس مقالہ کی ضرورت ہے ،انہوں نےکہاکہ آپ عربی والےہیں ،شاگرد سےشاگردہ کہ رہےہیں شاگرد فارسی لفظ ہے ،فارسی میں اس طرح سےمٶنث نہیں بنتا ہے،اب تولوگ اردوکی چندکتابیں پڑھ کر اردوزبان کوبھی توڑ مرورکرپیش کررہےہیں پھرانہوں نےایک دوکتاب کانام بھی لیا اورکہاکہ اردووالوں کو یہ کتاب پڑھنی چاہیے،پھرکہاکہ میری کتاب ”قندیلیں“آپ نےپڑھی یا نہیں ،میں نےکہاکہ کچھ پڑھاہوں ،کہاکہ اس کتاب میں جہاں بڑےبڑےلوگ ہیں وہیں پرمیرےگاٶں کےچھوٹےچھوٹےلوگ بھی ہیں عام طورسے چھوٹےلوگ پردھیان نہیں دیتےہیں ،بہت دیرتک بات ہوتی رہی ،پھرانہوں نےمیرےوالدمحترم مولانا عبدالقیوم شمسی کاموباٸل نمبر مانگا،میں نےکہاکہ وہاٹس ایپ پربھیج دیتا ہوں ،میں نےوالدصاحب کانمبردےدیا ،معلوم ہواکہ والدصاحب سےبھی بات ہوٸ ،
قندیلیں ان کی آخری کتاب ہےاسی سال مارچ میں چھپ کرآٸ ہے اورحاجی پورکےایک ادبی پروگرام میں 14مارچ 2021 بروزاتوارکو رسم اجرابھی ہوٸ ،ڈاکٹرممتازاحمدخاں اردوادب کےایک مضبوط ستون تھے اردوسےبےانتہامحبت تھی ،ڈاکٹر عبدالمغنی ،غلام سرور،قمراعظم ہاشمی ،بےتاب صدیقی ،ریاض عظیم آبادی ،وغیرہ کےساتھ اردوکواپنااوڑھنابچھونابنالیا تھا،پھرضلع ویشالی میں اپنےرفقا۶ کےساتھ پورےضلع کادورہ کیا،جگہ جگہ کمیٹیاں بنواٸیں ،ضلع اوربلاک سطح پرکٸ کامیاب پروگرام ہوۓ،پورےملک میں اردوکےتعلق سےویشالی ضلع کواپنی ایک پہچان اورشناخت ملی درجنوں کتابيں انجمن ترقی اردوویشالی کےبینرتلے چھپیں،جب انجمن ترقی اردومیں اختلاف ہو ااورنااہلوں کےہاتھ میں انجمن ترقی اردوچلی گٸ تواپنےآپ کو صوبہ سےلےکرضلع تک انجمن سےاپنےآپ کوالگ کرلیا ،اورکاروان ادب کےنام سےایک تنظیم اپنےرفقا۶کےتعاون سےبناٸ ،ڈاکٹرصاحب کاروان ادب کےصدر اورانوارالحسن وسطوی سیکریٹری منتخب ہوئے ،اورمستقل اسی کاروان ادب کےبینرتلےاردو کی خدمت کرتےرہے ،ڈاکٹرصاحب زمینی آدمی تھے ،اورزمین پرکام کرناپسندکرتےتھے ،اورزمین پرکام کرنےوالوں کوپسندبھی کرتےتھے آج حاجی پورواس کےاطراف میں جن لوگوں کوقلم پکڑنےآتاہے ،وہ ڈاکٹرصاحب ہی کادین ہے میری سب سےپہلی کتاب ”ضیاۓشمس “سوانح حضرت مولانا سیدمحمدشمس الحق سابق شیخ الحدیث جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر،چھپ کر آٸ تو ڈاکٹرصاحب بہت خوش ہوئے ،اورخوب دعائيں دیں ،میری ایک دوسری کتاب ”حسن عمل“احادیث کامجموعہ ،کااجراڈاکٹرصاحب کےمکان پرخدابخش لاٸبریری کےسابق ڈاٸریکٹرڈاکٹرامتیازاحمدکےہاتھ ہوا ،ڈاکٹر صاحب سے جب بھی ملاقات ہوتی ،جسم میں گرم خون پیداہوجاتا،ایک مرتبہ انہوں نےکہاکہ ،آپ نوجوان ہیں ،ویشالی ضلع کے مساجدکی تاریخ ترتیب دیتےتوبڑاکاہوتا،میں نےکہاکہ بہت بھاری کام ہے ضلع کےاعتبارسےتوکام نہیں ہواہے لیکن اس موضوع پر سرسیداحمدخاں ،مفتی ظفیرالدین مفتاحی ،مولانا عطا۶الرحمان قاسمی وغیرہ نےکام کیاہے ،میں نےکہا ان شاء اللہ ارادہ کرتاہوں ،ڈاکٹرصاحب کےیہاں کاموں کاانبارتھا،ریسرچ وتحقیق کرنےوالوں کےلیے بہترین گارجین تھے بےپناہ خوبیوں کےمالک تھے ،اردو،فارسی ،انگریزی زبانوں پرکمانڈتھا،عربی سےبھی واقفیت تھی ،زندگی بھرکتابوں سےہی جوڑےرکھا،ہزاروں شاگرد ملک میں پھیلےہوۓہیں،جوان کےلیےبہترین صدقٸہ جاریہ ہیں،ان کی زندگی میں ہیں ان کےخدمات کو سراہتےہوۓ ان کےلاٸق شاگرد ڈاکٹر مشتاق احمدمشتاق نےایک ضخیم کتاب ”ڈاکٹرممتازاحمدخاں ایک شخص ایک کارواں “کےنام سےترتیب دیاہے،یہ کتاب 2015میں چھپ چکی ہے ،ڈاکٹرصاحب اپنےشاگردوں میں ڈاکٹر مشتاق احمدمشتاق کابرابرنام لیتے ،مشتاق صاحب ڈاکٹر صاحب کےعلمی معاون بھی ہواکرتےتھے ،مشتاق صاحب چندماہ قبل اللہ کوپیارےہوگۓ،
ڈاکٹرصاحب پورے ملک میں ماہراقبالیات کی حیثیت سےجانےجاتےتھے ،اب تو یہ وہاں جاچکےہیں جہاں سبھوں کو ایک نہ ایک دن جاناہے لیکن ان کی ایک کتاب ”اقبال شاعر ودانشور“رہتی دنیاتک یادرکھے گی ،اللہ سےدعاہےکہ ڈاکٹرصاحب کی بال بال مغفرت فرما ،اورپس ماندگان کوصبر جمیل دے