انسان کو اپنا عملی سفر جاری رکھنا چاہئے۔
(مفتی بشیر احمد مظاہری)
(پریس ریلیز)
شہرسہارنپور کی قدیم شاہی مسجد ہرن ماران میں قرآن کریم نماز تراویح میں مولوی قاری جنیداحمدمظاہری نے مکمل کیا اس مبارک ومسعود موقعہ جامعہ مظاہر علوم سہارنپور کے استاذ ومعین مفتی اور اس مسجد کے امام وخطیب حضرت مولانا مفتی بشیر احمد صاحب مظاہری نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ قرآن کریم کا پڑھنا سننا باعث اجروثواب ہے اور اس کے احکامات پر عمل کرنا ضروری ہے، ماہ مبارک میں اور پھر نماز تراویح میں پڑھنے سننے سے اس کی اہمیت وافادیت میں مزیداضافہ ہوجاتا ہے آپ جانتے ہیں کہ نماز
تراویح میں جب قرآن کریم ختم کیا جاتاہے تو فورا ہی دوسرا قرآن کریم شروع کر دیا جاتا ہے اس پر آپ نے غور کیا کہ ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ در اصل اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ انسان کواپنا سفر جاری رکھنا چاہئے ایک سفر ختم ہو تو دوسرا شروع کر دے انہوں نے مزید فرمایا کہ قرآن کریم ختم کرنے کی چیز نہیں ہے کہ قرآن ختم ہوگیا اور بس،اب آرام سے بیٹھ جا ئیں،نہی ایسا نہی ہے! بلکہ فورا دوسرا قرآن کریم شروع کر دینا چاہئے اور مستقل قرآن کریم کی تلاوت کی جائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم باوجودیکہ آپ پر قرآن کریم نازل ہوا لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کا کس قدر اہتمام فرماتے تھے اور جب رمضان المبارک آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبریل امین کے ساتھ اس کا دور کیا کرتے تھے اپنا قرآن جبریل امین کو سناتے اور جبریل امین کا قرآن کریم خود سنتے اور جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس سال آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت جبریل امین کے ساتھ دو مرتبہ دور فرمایا تو اتنا اہتمام سے آپ اس کی تلاوت کا فرمایا کرتے تھے اور ایسے ہی اس پر عمل بھی کیا کرتے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے پوچھا گیا کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے اخلاق کیسے تھے؟تو حضرت عائشہ نے جواب دیا "کان خلقہ القران” کہ جو قرآن میں ہے وہی آپ کے اخلاق تھے اور جو آپ کے اخلاق تھے وہی قرآن کریم میں ہے تو آپ صل اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت بھی فرماتے تھے اور اس پر عمل بھی کیا کرتے تھے لہذا رمضان المبارک ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ ہم قرآن کریم کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کریں جو پڑھنا جانتے ہیں وہ پڑھیں اور جو پڑھنا نہی جانتے وہ اس کو سیکھیں اور اب تو ہمیں خوب وقت مل رہا ہے اسلئے اس وقت کو زیادہ سے زیادہ قرآن کریم سیکھنے میں گزارنا چاہئے مفتی صاحب نے بیان جاری رکھے ہوئے فرمایا
کہ اس وقت ملک کے اندر جو حالات ہیں جو افرا تفری مچی ہوئی ہے یہ دراصل ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے اس لئے ہمیں اللہ سے معافی مانگنی چاہیے توبہ واستغفار کرنا چاہیے اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا "وماکان اللہ معذبھم وھم یستغفرون” اللہ تعالی ان کو عذاب میں گرفتار نہیں کریگا اگر وہ استغفار کریں گے یہ جو وبا ہے جس کی وجہ سے پوری انسانیت پریشان ہے ہم کچھ بھی کہیں کہ یہ سازش ہے یا ہم اس کو کچھ اور نام دیں لیکن بہر حال اس وبا کی وجہ سے انسان پرشان ہیں اس لئے ہمیں ان حالات سے نکلنے کے لیے اللہ سے توبہ کرنی پڑے گی جب ہی ہم ان حالات سے نکل سکتے ہیں اور کوئی راستہ نہیں ہے ان حالات سے نکلنے کا۔
حضرت مفتی بشیر احمد صاحب کی رقت آمیز دعاء پرمجلس کا اختتام عمل میں آیا۔