بے حس حکمرانوں سے کیا امید کی جائے

عارف حسین طیّبی

یہ ان دنوں کی بات ہے جب امریکہ اور اٹلی میں کووڈ 19 کی وبا اپنے شباب پر تھی روزانہ ان دونوں ممالک میں ہزار ، دو ہزار اموات عام سی بات تھی ہندوستان میں کرونا اپنے کنٹرول میں تھا لیکن اس بات کا خدشہ بار بار جتایا جارہا تھا کہ اٹلی اور امریکہ جیسی کرونا کی مسموم فضا ہندوستان میں نہ داخل ہوجائے ورنہ یہ ملک لاشوں کا آماجگاہ بن جائیگا یہ بات اسلئے کہی جارہی تھی کہ اٹلی کی محکمہ صحت اور اسکے انتظامات جدید ٹیکنالوجی سے لیس وہاں کے اسپتال دنیا بھر اپنی برتری اور بہتر علاج کے لئے جانی جاتی رہے ہے
لیکن ہندوستان کی سرکار ان سے سبق نہ لیکر خواب خرگوش میں سوتی رہی مزید کچھ بہتر اوراعلی انتظامات کرنے کے بجائے کسانوں کی حقوق تلفی کے لئے بے جا قوانین کی بالا دستی قائم کرنے میں اپنا ضائع کرتے رہے اور ایسی لا پرواہی اسلئے بھی برتی جارہی تھی کہ انہیں آنے والے وقتوں میں پانچ ریاستوں میں شاندار اور جاندار طریقے سے الیکشن جو لڑنا تھا
موجودہ وقت میں ملک کے عوام کو سوچنا پڑے گا آج ہمارے اسپتالوں میں مریض شفا یاب ہونے کے بجائے کیوں ٹرپ تڑپ دم کر توڑنے پر مجبور ہیں یاد رہے جو قوم سیاست میں مذہب کو برداشت کر لیتی ہے ان حکمرانوں کو مزید کچھ کرنے کی ضروت نہیں۔پڑتی ممکن ہے موجودہ سرکار مزید مستقبل میں ہندوتوا کے سہارے حکمرانی کی لمبی اننگ کھیلتی رہے کیوں کہ انکے قائدین یہ سمجھ چکے ہیں اس ملک کو اسپتال سے زیادہ مندروں کی ضرورت ہے اسکی سب بڑی مثال بہار کی سیاست میں پپو یادو جی ہیں بیچارہ ہر مشکل حالات میں مجنوں اور پاگل کی طرح پبلک کی مدد کے لئے زمین پر نظر آتے ہیں لیکن جب سیاسی ساکھ کو مضبوط کرنے بات آتی ہے تو عوام ہندو مسلم ، مسجد اور مندر کے پنایوں میں چلے جاتے ہیں اور بری طرح انہیں ہار کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر آپکی یاداشت کمزرو نہیں ہے تو آپ کو اچھی طرح یاد ہوگا 2019/ میں پٹنہ کا بھیانک سیلابی صورت حال سے کون متاثر ہوئے بنا رہ سکا تھا یہاں تک بہار کے ڈپٹی چیف منسٹر ششیل مودی بھی این ڈی آر ایف کے ٹیم کے ذریعہ ریسکیو کئے گئے تھے اسوقت ایک شخص تھا جو مسلسل عوامی خدمت کے لئے دن رات ایک کردیا وہ تھا پپو یادو لیکن کیا ہوا 2020 کے ودھان سبھا الیکشن بری طرح ہار گئے یہ چھوٹی سی مثال تھی ورنہ اس ملک میں قوم وملت کی خدمت کرنے والوں کے حصے میں ہمیشہ محرومی آتی ہے اگر آپ سیاست میں مرکزی کردار کے مالک بننا چاہتے ہیں تو آپ انوراگ ٹھاکر ، کپل مشرا ، پرگیہ سنگھ ٹھاکر ، گری راج سنکھ جیسے کمیونل بیان دینے ہونگے پھر آپکی کچھ نہ کریں کامیابی آپکے گھر کی دہلیز کی لونڈی بن جائیگی مجھے لگتا ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس ملک کو کنٹرول کیا جارہا ہے جہاں تعلیمی ادارے نہ ہو کسی کو کوئی اعتراض نہیں اچھے اسپتال نہ بنائے جائیں کوئی پوچھنے والا نہیں آپ ترقیاتی کاموں کو خاطر میں نہ لائیں کوئی سوال نہیں پوچھنے والا نہیں ہاں اس ملک میں ہندو خطرے میں ہے اس لفظ کو سنتے ہیں سارے ہندووں کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں کب تک رام رام اور ہندوتوا کی جھوٹے نعروں سے اس ملک کی زمام اقتدار پر قابض رہیں گے مجھے لگتا ہے اب کھیل آخری پڑاؤ پر ہے بہت جلد ظلم و استبداد کرنے والے حکمرانوں کو عوام کا جواب دہ ہونے پڑے گا