”خیر کا موسم اور بجپن کی یادیں“از-ذاکرہ شبنم-کرناٹک

83

”خیر کا موسم اور بجپن کی یادیں“

سبحان اللہ ایک بار پھر سے یہ رحمتوں- فضیلتوں-عبادتوں- نیکیوں اور برکتوں کا مہینہ رمضان المبارک ہم سبھی پر سایہ فگن ہے-
یہ خیر کا موسم- بہاروں کا موسم-دعاٶں کا موسم اپنے ساتھ ہمیشہ کی طرح یادوں کی سوغات لۓ بچپن کے میلہ میں یادوں کے گھیرے میں لۓ ہوۓ دل کو تڑپا رہا ہے دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے ایک کسک اور ایک چبھن سی ہونے لگتی ہے…..تیس سال پہلے کی وہ بچپن کی معصومیت سے بھری رنگین سہانی سی یادیں-وہ پیاری پیاری سی باتیں وہ سحری کی روشن راتیں وہ افطار کی سوغاتیں- وہ عبادتوں کی پابندی وہ تلاوتوں کی صداٸیں بہت یاد آتی ہیں… اور وہ انمول کبھی نہ لوٹ کر آنےوالے دورِماضی کی یادیں کبھی ہنساتی ہیں تو کبھی بہت رُلاتی ہے…..اُس خوبصورت ماضی میں کھونے کو جی چاہتا ہے، یادوں کی بارش میں اکثر بھیگنے کو جی چاہتا ہے…..وہ  بجپن کے دن بھی کتنے پیارے تھے نہ کوٸی فکر نہ پریشانی نہ کسی اّلجھن کا پتہ نہ ہی کسی مساٸل کی خبر…..آہ- وہ شوخیوں، مستیوں ، رنگ رلیوں کے دن کاش کہ لوٹ آٸے  پھر سے وہ بچپن وہ لڑکپن کے دن….
گھرمیں امّی ابّو کے ساتھ ہم اور آپی نانی اور دادی بس اِتنے سے ہی لوگ ہوتے….ویسے ہمارے بھاٸی جان اور آپا جان بھی تو تھے ہی، لیکن جب سےہم نے ہوش سنبھالا وہ دوسرے شہر میں ہی قیام پذیر تھے بات در اصل یہ تھی کہ ہم بہت چھوٹے سے تھے تو آپا کی شادی ہو گٸی تھی ہمیں تو کچھ بھی یاد نہیں- تو ایسے آپا اپنے سُسرال میں مقیم تھیں کبھی کبھی یا چُھٹیوں میں بچوں سمیت آجایا کرتیں…رہی بھاٸی جان کی بات تو وہ اکثر ہم سے کہا کرتے کہ جب سے ہم نے اِس دنیا میں آنکھ کھولی تبھی سے وہ بنگلور میں پڑھاٸی اور پھر نوکری پر معمور تھے، یہ بات ہم اور ہمارا معصوم ذہن ایک مدّت تک سمجھنے سے قاصر رہے- تبھی تو ہم اکثر بھاٸی جان سے آپا سے یہ پوچھا کرتے کے کیا آپ کے امّی ابّو بنگلور میں رہتے ہیں؟……
آہ- اُس دور کا معصوم سا بچپن….وہ کتنا خوبصورت دور تھا آج کے بالکل بر عکس وہ  خطوط  کا دور تھا اپنوں کے رشتداروں کے خط  آیا کرتے عید کی خوشی میں مبارک بادی کے  عیدکارڈ بھیجا کرتے، وہ لینڈلاٸن (فون )کا دور تھا…اور آجکل تو کمپیوٹر، موباٸیل اور انٹرنیٹ کا دور دورہ ہے…..
ویسے ہمارے  بھاٸی جان  ہر ہفتہ پابندی سے گھر آتے- ہاں – ہمیں اچھی طرح یاد ہے ماہِ رمضان کے شروعات میں ہی بھاٸی جان گھر آتے تو اپنے ساتھ کچھ خاص چھوٹے چھوٹے سے سِکّوں  سے بھرے ڈِبے لے کر آتے ہمیں اور آپی کو دیتے-  وہ پیسے رمضان میں آنے والے  فقرا، و غربا، کے خیرات کے لۓ ہوتے تاکید کرتے کہ یہ سارے کے سارے خیرات کر دینا…ہم بہنیں خوشی خوشی سکّے بانٹا کرتیں….
والدین کےممتا اورشفقت بھرے ساۓ میں ہر تکلیف سے انجان گذرے خوبصورت پل…. رمضان المبارک میں اکثر میرا دل اور ذہن مجھکو بچپن کی سیر کراتے ہیں…..چپکے سے میں انکھیوں کےجھروکوں سے یادوں کےچمن کو تاکنے لگتی ہوں جہاں کچھ میٹھی میٹھی سی کچھ کھٹی سی یادیں مجھےنہارنے لگتی ہیں…..اِس وقت میں یہ سمجھنے سےقاصر ہوں کے کس یاد کا ذکر کروں اور کس بات کو چھوڑ چلوں،  ڈھیر ساری یادیں ہیں ڈھیر ساری باتیں  ہیں …… ویسے آج کی اِس مصروف ترین زندگی کے جھمیلے سے تو اُس بجپن کے میلہ میں مجھے خود کوکھو جانے کا بہت من کرتا ہے…کاش کہ ایسا ہو پاتا…… خیر اِس وقت مجھےاپنی پیاری پیاری سی معصوم امّی کی یاد آرہی ہے میرے بچپن کا وہ پہلا روزہ امّی کی وہ بے چینی……روزہ رکھنے کی سحری میں اٰٹھنے کی ہماری وہ ضد اور امّی کا ہمیں یہ کہہ کے بہلانا سمجھانا کہ بچوں کا روزہ نہیں ہوتا- اِس بات پر ابّو بھی تو امّی کا ہی ساتھ دیتے کہتے ہاں ابھی تُم اِس قابل نہیں ہو- ہم منہ پُھلاۓ کہتے آپی تو روزہ رکھتی ہیں پھر ہم کیوں نہیں….تو ابّو پیار سے ہمیں بازو  میں بثھاتے ہوۓ کہتے تم ابھی چھوٹی ہو-نازک ہو-اچھے سے کھا پی کر بڑی ہو جاٶ آپی جتنی موٹی ہو جاٶ تب رکھ لینا تم بھی روزہ…….کبھی سحری میں جاگ جاتے روزہ کی چاہت میں کچھ کھالیتے اور خوش ہو جاتے کہ ہمارا بھی روزہ ہے صبح ہوتے ہی خوشی سے اودھم مچاتے سارے پڑوس میں جاکے بتا آتے کہ آج ہمارا بھی روزہ ہے مگر یہ کیا صرف بارہ بجے تک کا روزہ، امّی نو بجےسے ہمارے پیچھے لگ جاتیں ناشتہ کر لو- ناشتہ کرلو پھر تقریبًا  بارہ بجے امّی کی ضد کے آگے ہماری ہماری ہمت بھی ٹوٹنے لگتی اور پھر ہمارا روزہ آدھے دن کا روزہ کہلاتا….
خیر ایک وقت وہ دن بھی آ ہی گیا جب ہم نے پہلا روزہ رکھا ویسے تو اللہ کے کرم سے وہ  بچپن کا خوشگوار دور ہی ایسا تھا کہ افطار میں کٸ قسم کے خاص پکوان بنتے کبھی بریانی تو کبھی پراٹھے، ہر دن ایک میٹھا تو ضرور بنتا ہی تھا-کبھی گاجرکا حلوہ تو کبھی گلاب جامن سیویاں سموسے پکوڑے وغیرہ وغیرہ اور روحِ افزاکے شربت کے ساتھ بادام اور پِشتہ کا حریرہ بھی پابندی سے ہوتا – پھل کے تو کیا کہنے ابّو ہر طرح کے پھل بیاگ بھر بھر کے لے آتے-اگر آم کا موسم ہوتا تو اور چار چاند لگ جاتے….  یہ سب لوازمات کھانےسے زیادہ مزہ تو جب آتا تب امّی اور نانی کٹوروں اور پلیٹوں میں جمع کرتے ہوۓ پڑوسیوں میں باٹنے کی تیاری کرتیں اور ہم اچھا سا لباس زیبِ تن کۓ سر سے لےکر کمر تک ڈوپٹہ سے خود کو ڈھانپے، ہاتھ  باندھے کھڑے تاکتے رہتے کے کب یہ سب چیزیں ہمارے ہاتھ آٸیں اور دوڑتے ہوٸے ہمارے پُرخلوص پڑوس کے چاچا،چاچی، مامی،آپا بھیّا سب کے ہاں دے آٸیں….. رمضان کی بہاریں تو اِسی میں چُھپی ہوٸی تھیں….ابّو اکثر کہا کرتے سب سے پہلا حق پڑوسی کا ہے اور مُفلس اور ضرورت مندوں کا بھی ہمیں خیال رکھنا چاہیۓ…. غربا اور مساکین کو بھی ڈھونڈ کے سحری اور افطاری بھیجی جاتی…..
آج کل تو یہ چلن نہ کے برابر ہی ہو گیا ہے….شہری زندگی اپارٹمنٹ اور فلیٹ کی ہو کر رہ گٸ ہے… پڑوسیوں کا کیا حال ہے؟ کون بیمار ہے؟ یا کم سے کم  ہمارے بغل میں کون اور کتنے مکین ہیں؟ یہ بھی جاننا  آج کا اِنسان ضروری نہیں سمجھتا ہے”احساس سے عاری اور عمل سے خالی“ بھلا یہ جینا بھی کو ٸی جینا ہوا…..
چلۓ ذکر ہو رہا تھا ہمارے پہلے روزہ کا اُس دن بڑا عجیب ہی واقعہ ہوا- روزہ ہم نے رکھ لیا- ہماری یاد کے حافظہ میں سب کچھ تو نہیں ہے ظاہر سی بات ہے معصومیت اور بجپن کا تقاضا ہوگا…..اِتنا ضرور یاد ہے کہ امّی کی گودی میں ہمارا سر تھا ہم لیٹے ہوۓ ہیں اور امّی کی آنکھوں سے  زار وقطار آنسو بہے جارہے ہیں…..اُس دن ہوا یوں تھا کہ ہمارے پہلے روزے کی خوشی میں نانی اور امّی نے مل کرکچھ خاص پکوان بھی بناۓ- ہمیں نۓ کپڑے پہناۓ اور ہمارے ہاتھوں سے سبھی گھروں کو عصر کے بعد افطاری بھی بھیجی گٸ ہمیں یاد ہے کہ سبھی نے ہمیں دعاٶں سے نوازا اور پیار کے ساتھ ساتھ ہمارے ہاتھوں میں تحفتًا روپٸے بھی رکھے گۓ… نڈھالی میں بھی وہ پُر مسّرت لمحات ناقابلِ فراموش ہی تو تھے….
افطاری کا وقت قریب ترتھا دستر خوان بِچھا تھا اور اُس دن ہماری پسند کے میٹھے چاول بھی امّی نے بڑے پیار سےہمارے لٸے بناۓ تھے….
سبھی بارگاہٍ اِلٰہی میں دعاگو بیٹھے ہوۓ تھے جیسے ہی مسجد سے بسم اللہ کی آواز آٸی سب نے روزہ افطاری کی، ہمارا بھی روزہ کُھلوایا گیا، اور پھر ہم نے شاٸد  جلد بازی میں کچھ میٹھے چاول أٹھا کے کھالۓ- پھر کیا تھا سحری سے لیکر افطاری تک کی سوکھی سوکھی سی نازک سی آنت اور أس میں سوکھے سے چاول جا کے پھنسنے لگے اور ہماری آنکھیں پھترا گٸیں، سانسیں جیسے رُکنے لگیں سارے گھر والے پریشان ہمیں تو پتہ نہیں کس طرح سے ہمیں سنبھالا ہوگا، ہمیں تو بس اٍتنا یاد ہے کہ ہم امّی کی گودی میں لیٹے ہوٸے اور امّی روٸے جارہی ہیں……بے شک مجھ ننھی سی روزہ دار پر اللہ ہی کا کرم ہوا ہوگا….  نانی نے امّی کو تسلّی دیتے ہوۓ مجھے سنبھالا ہوگا ابّو نے وقتی معالج بن کے مجھے قابو میں لایا ہوگا اور امّی کی اشکبار آنکھوں کی اللہ سے کی ہوٸی اٍلتجا، خالی تھوڑی جا سکتی تھی……
ہمارے اِس پہلے روزہ کے واقعہ کے بعد سے کافی بڑے ہونے تک ہم جب بھی روزہ رکھتے امّی پریشان پریشان ہمیں تاکتی رہتیں ابّو ہمیں سمجھاتے کہ تم سے نہ ہو سکے تو تم صرف عبادت اور تلاوت کرلو فِدیہ دے دیتے ہیں….ماں باپ تو ہوتے ہی ایسے ہیں اپنے جگر کے تکڑوں کو ہلکی سی تکلیف میں بھی کب دیکھنا گوارہ کر سکتے ہیں….خیر- وقت ایک جگہ ٹہرتا تھوڑی ہے- دن مہینوں میں مہینے سالوں میں بیتتے گۓ…….
ہاں- رمضان المبارک کی طاق راتوں کا اہتمام ہم سبھی لڑکیاں مل کر ایک ہی گھر میں کر لیا کرتیں- وہ عبادتیں بھی کس قدر ذوق و شوق سے بھر پور ہوا کرتیں – اور ہمیں تو رمضان المبارک کے تیسرے عشرے کا بڑی بے چینی سے انتظار رہتا کیونکہ ہمیں بڑے ہی انہماک سے عبادتوں میں محو اعتکاف کے وہ قربٍ اٍلٰہی والے دن رات بہت ہی پیارے اور خوبصورت لگتے….ہمارے اعتکاف کے اٍرادے سے ہی امّی ابّو کے چہرے خوشی سے کِھل کِھل جاتے….،گھر میں ابّوکا ایک خاص کمرہ ہوا کرتا، ابّو بے اٍنتہا خوش اپنا کمرہ ہمیں اعتکاف کیلۓ چھوڑ دیتے اور خود ہال میں رہ لیتے…ختمِ اعتکاف کے بعد سب سے پہلے سلام کرتے ہوۓ ہم ابّو سے ملتے….پھر وہ ہمیں خوشی خوشی دیکھا کرتے..أن کے چہرہ سے چھلکتی خوشی ہی سے تو ہمارے عزم اور حوصلہ کو قوت ملتی تھی-اِس ماہِ مبارک میں زکٰواة- صدقہ- خیرات-اور فِطرانہ خوب دیا جاتا- حقداروں کا حق ادا کیا جاتا…. اور سب کچھ ہمارے ہی ہاتھوں سےتقسیم کیا جاتا-ہمیں بہت ہی اچھا لگتا یہ سب چیزیں بانٹتے ہوۓ….ہم سمجھتے کہ ہم گھر میں سب سے چھوٹے اور لاڈلے ہیں اٍس لۓ یہ سب خیر کے کام ہمارے ہاتھوں سے لۓ جاتے ہیں مگر ابّو اکثر کہا کرتے کہ اِس دنیا میں ہماری آمد أن کے لۓ برکت اور ترقی لے آٸی…..
خیر یہ تو ہوٸیں ماں باپ کی ممتا اور شفقت بھری باتیں…..ہماری امّی تو بے حد معصوم ممتا اور محبت سے لبریز- پیار- وفا- اور قربانی کا پیکر-پُرخلوص شخصیت کی مالک تھیں-اُن میں کوٸی بھی غلط بات تو دُور تھوڑی سی سختی بھی أنکے مزاج میں نہیں تھی…..مگر ابّو کسی بھی غلط بات پر  جلد ہی گرم ہو جاتے،أن کے غُصہ سے تو سارا خاندان ڈرتا تھا…مگر یہ بات بھی سچ ہے کہ ہمارے لٸے ہمارے ابّو ہمیشہ سے ہی نرم مزاج رہے…..
کب بچپن بیتا کب لڑکپن پار کیا پتہ ہی نہیں چلا جیسے ہی باشعور ہوۓ ،ہماری پیاری سی امّی ہمارا ساتھ چھوڑے- ہم سے ہاتھ چھڑاۓ اللہ کو پیاری ہو گٸيں- وہ دن ہمارے لۓ قیامت سے کم نہ تھا- پھر ہمارے حساس دل کو یہ احساس ہوا کہ واقعی اس دنیا میں ماں کا کوٸی نعم البدل نہیں ہوتا….ماں کی جداٸی کا زخم بھی کبھی نہ بھرنے والا ہوتا ہے….پھرکیا تھا- ہماری اپنی ذات سنجیدگی میں تبدیل ہوتی چلی گٸ….

وہ شرارتیں وہ شوخیاں میرے عہدِ طفل کے قہقہے-
کہیں کھو گۓ میرے رات دن اسی بات کا تو ملال ہے…..
اور میرے شفیق ابّو بھی ناقابلِ فراموش شخصیت کے مالک تھے سادگی اور سچّاٸی سے بھرپور شخصیت، اپنے سینے میں درد مند، شفقت اور محبت سے لبریز دل رکھنے والے انسان دوست اور انسانیت سے محبت کرنے والوں میں سے تھے……
بلا شبہ چاہے وہ دین کی باتیں ہوں یا ایمان کا درس ، مومن کے فراٸض اور کردار کی باتیں  ہوں یا نماز- روزہ- زکٰواة – قرآنِ مجید کی فضیلت اور دستورِ حیات کا تذکرہ یا پھرحقوق اللہ اور حقوق العباد غرض کہ سبھی نیک ہدایتیں- اُنہیں کی درسگاہ سے ہم  نے پاٸیں-ہماری تربیت میں ابّو کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے- بے شک ابّو ہمارے آٸیڈیل تھے- "داعی تھے وہ داعی” ہر نیک عمل کے داعی…. ماہِ رمضان کی آمد آمد پر اُن کی خوشی کی انتہا نہ ہوتی- تبھی تو اِس ماہِ مبارک کا بڑی جستجو اور لگن کے ساتھ اہتمام کرتے أن کی یہ اداٸیں اللہ ربّ العزت کو اِس قدر پسند آٸیں کہ اِسی ماہِ المبارک کے تیسرے عشرے میں چوبیس ویں روزہ کے دن ظہر کی نماز کے بعد آرام فرما تھے اور اللہ نے آپکو بہت آسانی سے اپنے پاس بُلا لیا- جیسے فرشتے نہایت آہستگی سے آپکی روح کو سنبھال کر آن کی آن میں لے گۓ…اور آپ نے بھی مُسکراتے ہوۓ اجل کو لبیک کہدیا… آہ- وہ آخری سفر پر آپکا مسکراتا ہوا چہرہ مجھ سے کبھی نہیں بُھلایا جاتا….لمحوں میں ہم سب کو یتیم کر چلے…پتہ نہیں خدا کی یہ کیسی قدرت اور کیسے راز ہیں-امّی کی رحلت کے تقریباً پندرہ سال بعد بھی امّی کی قبر کے بالکل بغل میں ہی ابّو کی قبر کو جگہ ملی- واللہ اعلمُ بالصواب…..
ابّو کےحوصلہ اور عزم اور اعتماد نے ہمارے وجود کو جِلا بخشی- ہماری فکری اورفنی صلاحیت کو اُنہوں نے پہچانا اور اپنی حوصلہ افزاٸی کی پھوار سے ہمیشہ ہمارے تخلیقی سفر میں جب تک رہے آبیاری کرتے رہے….ہماری کوٸی بھی تخلیق جب بھی کسی اخبار یا رساٸل کی زینت بنتی تو ہم محسوس کرتے ہمارے ابّو کا سینہ فخر سے کشادہ ہوا جاتا-اور اُن کے خوشی سے مسکراتے ہوۓ چہرے اور چمکتی ہوٸی روشن آنکھوں میں ہمیں اپنی کامیابی نمایاں نظر آتی….
اللہ رب العزت کا کرم ہے- آج ہم جو کجھ بھی ہیں الحمداللہ ہمارے ابّو ہی کی تربیت اور حوصلہ افزاٸی کا نتیجہ ہے……
جداٸی کے ایک عرصہ بعد بھی ہر لمحہ ابّو کی کمی شدّت سے محسوس ہوتی ہے…..
رمضانِ شریف کا ہمارا  تیسرہ عشرہ بہت ہی سنجیدگی سے گزرتا ہے،ابّو کی یاد بہت ستاتی ہے- یادوں کی شبنم سے یہ آنکھیں بار بار شبنمی ہوٸی جاتی ہیں- دل بہت بے چین رہتا ہے-کیونکہ ہم أن خوش قسمتوں  میں سے ہیں جنہیں ماں تو ماں باپ نے بھی ماں سے کم پیار نہیں دیا….جانتے ہیں کہ-
جانے والے کبھی نہیں آتے
جانے والوں کی یاد آتی ہے
مگر اِس دلِ ناداں کو کیسے سمجھاٸیں جسے آج بھی ابّو کے شفقت بھرے ساۓ میں جینے کی طلب ہوتی ہے- جو پتہ نہیں کیا کیا سوچتا رہتا ہے- کہ- آج ابّو ہوتے تو ہمارے ماتھے پر پریشانی کی ایک شکن بھی شاید ہی دیکھ پاتے- یہ معصوم سا دل اُن کی یاد میں تِلملاتا ہوا اکثر کہہ اُٹھتا ہے کہ- کاش ابّو ہوتے تو ایسا ہوتا، ابّو ہوتے تو ویسا ہوتا……

دل ہی تو ہے نہ سنگ وخشت دردسےبھر نہ آۓ کیوں،
روٸیں گے ہم ہزار بار کوٸی ہمیں ستاۓ کیوں…..!!!