ادب الوفیات..اور دینی داروغے..

70

تحریر :خورشید انور ندوی
23 اپریل 2021
ادب الوفیات..اور دینی داروغے..
ہمارا دین حسن ہی حسن ہے. جمال ہی جمال ہے. زندگی کی ساری مناسبتوں کے آداب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طے فرمادئے ہیں.. آپ اور آپ کے اصحاب عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ہر ادب کو برت برت دکھادیا ہے.. جانے والوں کو کس طرح یاد کیا جائے یہ بھی طبیعتوں پر نہیں چھوڑا بلکہ ادبی طور پر منضبط کردیا : لا تسبوا الأموات..مردوں کو برا مت کہو.. اذکرو محاسن موتاکم… جانے والوں کی خوبیاں گنو ( سند کی فنی حیثیت نظر انداز فرمائیے)..
… ربنا اغفر لنا و لإخواننا اللذین سبقونا بالأیمان ولاتجعل فی قلوبنا غلا للذین آمنوا…
انسان کی بیمار طبیعت اور حب وبغض کی مزاجی بھول بھلیوں سے خالق نفس بشر سے زیادہ کون واقف ہوگا؟ کوئی نہیں.. اس لئے جانے والے اہل ایمان کے لئے مغفرت طلبی کے سابقے کے ساتھ ان کے لئے دل میں کدورت نہ رکھنے کا لاحقہ بھی کیا بامعنی ہے.. سبحان اللہ الخالق..
یہ سب کچھ ہم کو اپنے دین سے ملا ہے.. لیکن انسانوں نے اپنے طویل تجربے سے یہی کچھ سیکھا ہے.. جو لوگ ایمان نہیں رکھتے وہ بھی مردوں کی تکریم اور ان کی اچھی یاد کو زندگی کا حصہ تسلیم کرتے ہیں.. لیکن یہ بنیادی انسانی قدر اگر کسی کو نہیں معلوم تو وہ ہمارے” دینی داروغے” ہیں.. کل مولانا وحید الدین خان صاحب مرحوم پر بہتوں نے لکھا کہا، لیکن کچھ تحریریں پاگلوں کی سی لگیں.. جو پتہ نہیں کن تربیت گاہوں سے نکلے ہیں.. تعزیتی تحریر اور افکار و نظریات پر نقد وتبصرہ دو الگ چیزیں ہیں.. وفات اللہ اور اس کے بندے کی سپردگی کا معاملہ ہے، یہاں کم ازکم اللہ کی رحمت کا استحضار ہونا چاہیے اور اپنے بھائی کے لئے اسی کی طلبی ہونی چاہئے.. باقی عمر بھر فتوی بازی، نقد وتبصرہ، رد وقدح کی جائے.. کوئی حرج نہیں.. بعض لوگوں نے تو یہی کام ہی اپنے ذمہ لے رکھا ہے.. وہ نظریات وعقائد کی تنقیح کے نام پر نری "گٹ بازی” کرتے ہیں اور ساری عمر اپنے سوا سب کی کردار کشی کرتے ہیں.. دراصل ان کے پاس تو کوئی کرادر ہوتا نہیں، وہ دوسروں کا کردار تلاش کرکے قتل کرتے ہیں.. مولانا وحید الدین خان صاحب مرحوم پر بعض تحریریں "ادبی درندگی” کے زمرے میں آتی ہیں.. نغوذ باللہ من ذالک..