تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کرگیا !!! محمد راشد نعیم ندوی

13

 

"یا ایھا الذین آمنُوا ادخلوا فی السلم کآفۃ”
مذاہب عالم کا مطالعہ کرلیجئے. اقوام عالم سے واقفیت کے لئے اس کے تعارف پر مبنی کتابوں کی ورق گردانی کرڈالئے. سابقہ اور موجودہ تہذیبوں پر گہرائی کے ساتھ نظر ڈالئے. پھر ان سب کا موازنہ دین اسلام کے ساتھ غیر جانبداری سے کیجئے تو یقیناً اس کا یہ لازمی نتیجہ نکلے گا کہ مذہب اسلام بے مثال ہے. بے جوڑ ہــے. رحمت و برکت کا ذریعہ ہے. دنیوی اور اخروی دونوں لحاظ سے فلاح و کامرانی اس کا ثمرہ ہے. ہر دور اور ہر زمانہ اور ہر طرح کے حالات میں رہنمائی اس کا مشن ہے. کیونکہ یہ عقائد و عبادات کے ساتھ ساتھ اخلاقیات. معاشرت. سیاسیات. معاشیات اور ثقافت و تمدن کا بھی جامع ہے. دیگر ادیان کی طرح اس کا دائرہ تنگ نہیـــــــں ہے. اس میں سمٹنے کے بجاۓ پھیلنے کــی صلاحیت ہے. اس میں مرد و عورت. ماں باپ. استاد شاگرد. بڑے چھوٹے. بوڑھے جوان. اور آقا و غلام سب کے حقوق متعین ہیں. بہر حال یہ دین مکمل ہے. فرمان خداوندی ہے "الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضيت لکم الاسلام دیناً”_
مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن على حسنی ندویؒ دستور حیات میں لکھتے ہیں کہ ” اسلام میں دین کا مفہوم دوسرے مذاہب کے مقابلہ میں بہت وسیع ہے. ہر وہ مطلوب عمل جو رضائے الہٰی کےلئے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے کیا جاۓ دین کہلاتا ہے. خواہ اس عمل کا تعلق دنیوی امور بشری حاجتوں یا معاشی ضرورتوں ہی سے کیوں نہ ہو”.
خلاصہ یہ کہ اسلام ایک جاندار. جامع. مستحکم. وسیع. ہمہ گیر اور آفاقی مذہب ہے_
لیکن حیرت اس دین خالص کے حاملین پر ہے کہ وہ چند چیزوں ہی کو دینداری سے تعبیر کرتے ہیں. اسی کے لئے ان کی ساری تگ ودو وقف ہے. جو مسجد کے اعمال سے جڑے ہوئے ہیں ان کے یہاں نماز ذکر و دعا اور تلاوت ہی سب کچھ ہے. جو مدرسے سے متعلق ہیں وہ درس و تدریس ہی پر اکتفاء کئے ہوئے ہیں اور اس کی چہار دیواری میں رہنا ہی عافیت سمجھتے ہیں. جو خانقاہوں میــں ہیــں ان کے نزدیک اخلاقیات کو سنوارنا اور ھو حق کے نعرے لگا لینا ہی ہر درد کی دوا ہے. جو دعوت و تبلیغ سے منسلک ہیں ان کے یہاں اس کے علاوہ ساری چیزیں فضول ہیں. جو قدیم نظام تعلیم سے وابستہ ہیں وہ ظاہر داری ہی کو نیکیوں میــں شمار کرتے ہیں. جو قدیم و جدید کا راگ الاپتے ہیــں ان کی اکثریت باطن تو کجا ظاہر سے بھی بے پرواہ ہے. جو صرف جدید فلسفہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے یہاں قوانین الہی اور تعلیمات نبوی کی پابندی بنیاد پرستی کے مرادف ہے. جو مذہبی رہنماہیں وہ سیاسیات سے کنارہ کشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور اپنے بنائے ہوئے پرانے اصولوں کو چھوڑنا تو درکنار اس میں ترمیم کرنا بھی انہیں پسند نہیـــــں ہے. یہی نہیں بلکہ اس پر اصلاح کےلئے گفتگو کرنا بھی ان کی گستاخی سمجھی جاتی ہے. یعنی جو جس شعبہ سـے تعلق رکھتاہے بس ہمیشہ کےلئے دیگر نظامہائے حیات سے منہ موڑ کر اسی کــا ہوکر رہ جاتاہے یا اگر زندگی کے ہر شعبہ میں ہماری قوم کے افراد کام کر بھی رہے ہیں تو وہ اتنا غیر منظم ہے کہ اس کی افادیت آٹے میں نمک کے برابر ہے.
جبکہ دین تو مکمل اطاعت کا پابند بناتاہے. اسلام کا مطالبہ ہے کہ تمام شعبہ حیات میں اس کا نفاذ ضروری ہے. اسی کا حکم مذکورہ آیت میں دیا گیا ہے. علامہ سید سلیمان ندوی رحمة اللہ علیہ دائرہ اسلام کی وضاحت کرنے کـے بعد اس پر عمل سے غفلت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "ہمارے سامنے اسلام خود ایک بڑی حقیقت اور صداقت ہے. وہ مذہب بھی ہے. سیاست بھی ہے. اقتصاد بھی ہـے. معاشرت بھی ہے. اس کے مذہبی وسیاسی اور اجتماعی پیغاموں کو پھیلانا. مساوات اور عدل قائم کرنا. اسلامی احکام کی تبلیغ کرنا. دنیا سے سود. بدکاری. شراب خواری. قمار بازی اور ظلم کو بیخ وبن سے اکھاڑنا اور ملک میں ایک نیا سیاسی و اقتصادى نظام قائم کرنا اس کے وہ فرائض ہیں جن سے مسلمان غافل ہیں” (حیات سلیمان:۵۷۲/۷۳)
آج امت مسلمہ زمانہ میں خدا کا آخری پیغام ہونے کے باوجود دنیا پر اثر انداز کیوں نہیـــــں ہورہی ہے? وہ اسلئے کہ ہماری اطاعت و فرمانبرداری ناقص ہے.لہذا دنیا وآخرت کی بھلائی کے حصول کےلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اللہ تعالی کے سامنے مکمل طور پر سرتسلیم خم کیاجائے. اس دعا کے اثرات بھی اسی وقت ظاہر ہوں گے جب کامل اسلام کی راہ پر زندگی کا سفر شروع کیاجائے گا "ربّنا آتنا فی الدنیا حسنةً وفي الآخِرَةِ حسنة ً وقنا عذاب النّار”.
یہی ہر مسئلہ کا حل ہے اور تنگئ داماں کا علاج ہے. مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی رحمة اللهِ علیہ نے حیات سلیمان ص 447 پر کیا خوب لکھاہے کہ ” ضرورت ہے کہ عقائدو عبادات کے ساتھ اسلامی سیاسیات. اسلامی اقتصادیات. اسلامی طریق تجارت اور اسلامی اصول مضاربت (یعنی سرمایہ داری اور مزدوری کے تعاون). اسلامی طریق پر کاشت کاری. اسلامی طریق کارخانہ داری. کسانوں اور مزدورں کے اسلامی حقوق. اسلامی لین دین اور معاملات کے مسائل اور دیگر ضروری امور زندگی کے متعلق خالص اسلامی حل کو لوگوں کے سامنے رکھاجائے اور اس کے قبول و عمل کی دعوت دی جائے. جس سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ ہو اور مسلمان مسلمان بن کر دنیا میں ظاہر ہوں”