اسلامی مدارس سے وابستگی دین و ایمان کی سلامتی کا بنیادی ذریعہ ہے: مولانا فرید الدین قاسمی مہتاپور جلسے میں 15 حفاظ طلباء کی دستار بندی، مفتی جمال الدین قاسمی کے سر پر دستار باندھ کر علما ء نے دی مبارکباد

25
ہردوئی ( یاسر قاسمی)

مدرسہ شمس العلوم مہتا پور کے زیر اہتمام ایک روزہ جلسہ دستار بندی و دینی تعلیمی بیداری کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، دارالعلوم دیوبند و دیگر دینی اداروں کے مقتدر علماء کے ہاتھوں تکمیل حفظ قرآن کی سعادت سے بہرہ ور ہونے والے 15 طلباء کی دستار بندی ہوئی اور انعامات سے نوازاگیا، اکابر علماء نے جمیعت کے مقامی صدر منتخب ہونے پر مدرسہ کے ناظم مفتی جمال الدین قاسمی کے سر پر دستار باندھ کر مبارکباد پیش کی۔ دعاء کے ساتھ جلسہ ختم ہوا۔

بعد نماز عشاء احاطہ مدرسہ میں منعقد جلسے میں مدرسہ دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث مولانا فرید الدین قاسمی نے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کیا، دوران خطاب انھوں نے کہا اس وقت دینی مدارس سے وابستگی دین و ایمان کی سلامتی کا بنیادی ذریعہ ہے، وطن عزیز پر جابرانہ تسلط کے بعد انگریزوں نے جبرا عیسائی بنانے کی پالیسی اپنائی، اسلامی تشخص مٹانے کے لیے ایسی خطرناک سازشوں کا جال بچھایا کہ سادہ لوح مسلمان بڑی تیزی سے ذہنی ارتداد کا شکار ہونے لگے، ہمارے اکابر نے اپنی فراست ایمانی سے جب یہ محسوس کیا کہ اب جان و مال کے ساتھ دین وایمان بھی خطرے میں ہے تو حجۃالاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ نے دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے دینی مدارس کا جا ل بچھایا، مولانا نے کہا اسلامی قلعوں کی قدر و حفاظت کیجئے ،ان کو مضبوط بنائیے ، ملک میں مدارس کا وجود ہماری سلامتی کی ضمانت ہے۔ جمیعت علماء وسط اترپردیش کے جنرل سیکریٹری مفتی ظفر احمد قاسمی نے حفظ کی تکمیل کرنے والے خوش نصیب طلبا اور ان کے والدین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا حفظ قرآن بڑی سعادت ہے، لیکن معاملہ یہیں پر ختم نہیں ہوا، یہ اسی وقت سعادت ہے جبکہ حافظ قرآن اس کے تقاضے پورے کرے، اور اس کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کے معانی و مفاہیم سمجھ کر اس کے احکام پر عمل پیرا ہوں، قرآنی ہدایات اور نبوی تعلیمات کی روشنی میں معرفت الٰہی حاصل کرنے کی سعی کریں، تاکہ دل میں تقوی و خشیت پیدا ہو اور تمہاری زندگی سب کے لئے فکرآخرت کا نمونہ بن جائے، انہوں نے کہا المیہ یہ ہے کہ ہر ماں باپ کی خواہش ہے کہ اس کی اولاد نیک ہو، نمازی ہو ، لیکن والدین خود اپنی زندگی شریعت و سنت کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے تیار نہیں، جمیعت علماء ہردوئی کے صدر مولانا عبدالجبار قاسمی نے مدرسہ کے ناظم مفتی جمال الدین قاسمی کی دینی خدمات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے ناخواندہ علاقے میں جہاں کے مسلم و اغیار کے کلچر میں کوئی فرق نہیں ، مسلمان ضروریات دین سے بھی نابلد ہیں، مفتی موصوف نے علمی شمع روشن کرکے عظیم کارنامہ انجام دیا ہے وہ قابل مبارکباد ہیں ، یاسر عبدالقیوم قاسمی اور جمیعت علماء پہانی کے صدر مولانا عطاءاللہ قاسمی نے بھی خطاب کیا، سرپرستی مولانا خبیب احمد قاسمی، نظامت مولانا آفتاب عالم قاسمی نے کی، آغاز قاری محمد ایوب کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا، نعتیہ اشعار حافظ فخر الدین ملانوی نے پیش کئے، ترانہ اور تحریک صدارت مولانا عمران ارشد قاسمی نے پیش کی، جلسے میں مولانا محمد غفران ، مفتی وقارالدین، مفتی عمران اسعد قاسمی، مولانا حسیب الرحمٰن ، مفتی محمد توصیف، حافظ محمد ظریف، حاجی ضیاءالدین ، حافظ محمد محبوب، حافظ محمد راشد،حافظ محمد شعیب، حافظ عظیم الدین، حافظ محمد احسان ، حافظ محمد نعمان ، حافظ محمد عامر، محمد انوار و دیگر علماء وحفاظ سمیت عوام الناس نے شرکت کی۔
باکس
ان خوش نصیب طلبہ کے سروں پر سجائی گئی دستار حفظ
حافظ عبدالحفیظ،  حافظ محمد اطہر ، حافظ محمد سالم، حافظ عبداللہ ، حافظ عبدالعلیم، حافظ محمد سفیان، حافظ محمد قاسم، حافظ محمد دانش، حافظ محمد عاقب، حافظ محمد توفیق، حافظ محمد راحل، حافظ محمد عقیل، حافظ محمد طالب،  حافظ فراق الدین، حافظ محمد سہیم۔