چمن میں آسکتی ہےپلٹ کرچمن سے روٹھی بہاراب بھی !!! ✍️ محمد راشد نعیم ندوی

30

 

قارئین!
میرے ساتھ تصورکی دنیا میں چلئے! اپنے ذہن کارخ چھٹی صدی عیسوی کی جاہلیت کی طرف موڑئے اور سوچئے کہ دنیا کسی شمع رسالت کےنہ ہونے کی وجہ سے کفروشرک کی راہ پربلا جھجھک چل رہی ہے. ہرطرف اندھیراہی اندھیراہے. برائیاں اپنےعروج پرہیں. بتان رنگ وخوں کی پوجاہورہی ہے. جگہ جگہ خباثتوں کے ڈھیر لگے ہیں. خرافات کا سمندرہے. انسانیت کی قدریں پامال ہورہی ہیـں. اخلاقیات کا جنازہ نکل رہاہے. قتل وغارت گری کی گرم بازاری ہے. انسان کی شکل میں حیوان جنم لے رہے ہیں. بدکاری فحاشی اور زناکاری کا چلن ہے. قمار بازی اور اورشراب نوشی کا رواج ہے. جھوٹ تہمت فریب اور تحقیروتذلیل معمولات زندگی کا حصہ ہیں. مختصر یہ کہ زمین پرخدا کی بندگی کــے بجاۓ شیطان اور نفس کی پرستش ہورہی ہے. اسی ماحول میں جناب محمد رسولﷺ پر غار حراء سے ان آیتوں کے ساتھ احکام خداوندی کا نزول شروع ہوتاہے "اقرا باسم ربک الذی خلق. خلق الانسان من علق. اقرا وربک الکرم. الذی علم بالقلم. علم الانسان مالم یعلم” اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفاکی چوٹی سے "یـا ایھاالناس قولوا لاالہ الاالله تفلحوا” کی صدا لگاتے ہیں اور دامن رسالت میں پناہ لینے کی دعوت دیتے ہیں. چنانچہ اس پکارپر دھیرے دھیرے وہی لوگ لبیک کہتے ہیں جو مذکورہ بدترین صورتحال سے دوچار تھے. اور خود فراموشی کی وجہ سے خدا فراموشی کے شکارتھے. آخرکار فرامین الہی کی ماتحتی میں اور آپﷺ کی تربیت کے نتیجے میں روئے زمین پر مختلف آزمائشوں کی بھٹیوں میــں تپائے جانے کے بعد انسانوں کا اعلی ترین، مقدس ترین، پاکیزہ ترین گروہ تیار ہوتاہے. جو اگر ایک طرف ایمانیات میں کامل ہے. اخلاقیات میـں پختہ ہے. عبادات میــں راسخ ہے تو دوسری طرف وہ معاملات میـں پکاہے. معاشرت میں کھراہے. تجارت میں صاف ستھرا ہے. حکومت وسیاست میں عادل ومنصف ہے. ساتھ ہی وہ باطل کےلئے تلوار کی حیثیت رکھتاہے. ان مردان اسلام کی وجہ سے قیصروکسری کے ایوانوں میں زلزلے برپاہونے لگے ہیں. تخت سلطنت ہچکولے کھانے لگے ہیـں. اور ان کے توکل علی اللہ.استغناء. ایمانی قوت اور جذبہ جہاد کے سامنے ساری طاقتیں دھری کی دھری رہ گئیں ہیں. اور سب کے سب پیوند خاک ہوکر رہ گئے ہیں. ان بزرگوں نے تمام شعبہ حیات کو تعلیمات ربانی کے نورسے منور فرمایاہے. اور جاہلیت کی بیخ کنی کردی ہے. پھرایک عظیم انقلاب برپا ہوتاہے. جو خالص اسلامی ہے. یہی اللہ کے یہاں مقبول ہے "ان الدین عنداللہ الاسلام”. اس سے اعراض کرنا سوائے ناکامی کے اور کچھ نہیں ہے ” ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ فھو فی الآخِرَةِ من الخسرین”_
اب ذرا اکیسویں صدی میں آجائیے جس کے سرد اور گرم کو ہم اور آپ جھیل رہے ہیں. اس کا مکمل جائزہ لینے کے بعد دونوں میں تطبیق دیجئے تو میــں پورے وثوق کے ساتھ کہتاہوں کہ آپ ضرور اس کا اعتراف کریں گے کہ آج اور کل میں بہت یکسانیت ہے. بلکہ آپ یہ بھی کہیں گے کہ جورہی سہی کسر تھی عصرِحاضر نے پوری کردی ہے. حضرت الاستاذ علامہ سید سلمان حسینی ندوی حفظہ اللہ نے اسی کو یوں بیان فرمایاہے کہ "مکی زندگی میــں ہم جی رہے ہیں. اکیسویں صدی کی جاہلیت میں جی رہے ہیں. دوبارہ پرشین امپائر اور رومن امپائرکے نقشہ کے درمیان جی رہےہیں. بس تھوڑا سا فرق ہے جس کا اظہار کبھی مولانا سید عبدالله حسنی ندویؒ نے اپنی ایک تقریر فرمایاتھا کہ "وہ جاہلیت بے پڑھی لکھی تھی اور آج کی جاہلیت پڑھی لکھی ہے”_
ظاہرہے کہ اس کا بھی وہی علاج ہے جوآج سے چودہ سوسال قبل مفید ثابت ہوچکاہے. اسی دوا کی آج بھی ضرورت ہے جو جاہلیت قدیمہ کے مریضوں کی صحت یابی کا ذریعہ تھی.اور جس کے بعد دنیا کو ظالموں کے ظلم سے اور طاغوتوں کی پوجا سے نجات ملی. خوں ریزی کا خاتمہ ہوا. فتنہ و فساد کا منہ بند ہوا. دلوں کی صفائی ہوئی. صالح معاشرہ کی تشکیل ہوئی. لوگوں کو ایک لمبے عرصہ کے بعد چین و سکون کی فضا میں سانس لینے کا موقع ملا. صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے اعلی اخلاق نے اور ان کے طرز حکمرانی نے لاکھوں کے دل جیت لئے اور اس کی وجہ سے بے شمار لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے_
اور آج جبکہ ہم بھی انہیں کا گن گاتے ہیں. انہیں کے نقش قدم پر چلنے کا ہمیـں دعوی ہے. توپھر ہم ناکام کیوں ہیـــں? ہمارے اثرات دوسروں پر نہ ہونے کے برابر کیوں ہیں? پوری دنیا کی دوسری بڑی آبادی ہم ہیں. دولت کے خزانے ہمارے گھروں میں موجود ہیں. پچاس سے زیادہ ممالک ہمارے پاس ہیں. پھر بھی ہم بھیڑ بکریوں کی طرح بےدردی سے ذبح کئے جارہےہیں، دنیا کی استعماری طاقتوں کے ہم محکوم و غلام ہیں. ہم اقوام متحدہ میں مسلم مسائل کا حل نہیں کراپاتے ہیں. اور اس کے فیصلوں کے سامنے بےبس بنے رہتے ہیں. عالم اسلام جل رہاہے. عالم عربی میں امریکی فوجوں کا بسیراہے. فلسطینی مدد کی آس لگائے ہوئے ہیں. اور ادھر اس ملک میں جوکچھ ہورہاہے یا ہونے والاہے. وہ ہمارے لئے مضرہے. سخت مضرہے!
اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے ” الاسلام” کوچھوڑدیا. یا اگر اسکے مدعی بھی ہیــں تو صرف چند چیزوں سے اس کا پتہ چلتا ہے. ورنہ جواہم چیزیں تھیں اسے تو ہم نے بالائے طاق رکھ دیاہے.حالانکہ اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر یہ حکم دیاہے کہ "یاایھاالذین آمنوا ادخلوا فی السلم کافۃ”_
لہذا اب ضروت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زندگی کا نقشہ اس طرح تیار کریں جوعہد نبوی سے بالکلیہ مشابہت رکھتاہو. ہمارے مدارس تعلیم وتربیت کے ذریعہ ہرمیدان کےلئے ایسے افراد تیار کریں جواس عہد میں صحابہ کرام رضوان اللہ علہھم اجمعین کا نمونہ ہوں. ہماری تنظیمیں انہیں مقاصد کو بروئے کار لانے کےلئے کوشاں ہو جس کےلئے انبیاء علیھم السلام کی بعثت ہوئی تھی. زمانہ کی جو ضروریات ہیــں علماء اسے پورا کرنے کی کوشش کریں. پھر اس کے بعد ان شاءالله خلافت راشدہ کا عہد زریں واپس آئے گا. صدیوں ہم حکمرانی کا فریضہ انجام دیں گے. عمر بن عبدالعزیز صلاح الدین ایوبی اور اورنگ زیب عالمگیر جیسے خداترس بادشاہ حکومت کی باگ ڈور سنبھالیں گے. عالم اسلام کے مسائل حل ہوں گے. جزیرۃ العرب کی خود مختاری بحال ہوگی اور پوری دنیا کے مسلمان خود کو محفوظ محسوس کریں گے_

چمن کے مالی اگر بنالیں موافق اپنا شعار اب بھی
چمن میں آسکتی ہے پلٹ کر چمن سـے روٹھی بہار اب بھی