بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا

27

بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا
( ماہ رمضان میں ہی اسلام مقید نہیں)

تحریر:حافظ میر ابراھیم سلفی
مدرس سلفیہ مسلم انسٹچوٹ پرے پورہ
رابطہ نمبر:6005465614

مجھے معلوم تھا یہ جرم کرجائیں گے ہم دونوں

کہ اپنے اپنے وعدوں سے مکر جائیںگے ہم دونوں

اگر چلتے چلے جائیں گے یوں ہی چاند کے پیچھے

تو پھر یہ رات گزرے گی، نہ گھرجائیںگے ہم دونوں

ماہ رمضان کے طلوع ہوتے ہی اہل اسلام اعمال صالحات کا ذخیرہ جمع کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ نماز مکتوبہ، روزہ، قیام الیل ، تلاوت قرآن، صدقہ و خیرات میں بڑ چل کر حصہ لیا جاتا ہے جوکہ مبارک کی بات ہے۔ سال کے گیارہ مہینہ اللہ کی نافرمانی کرنے والے بھی اس مہینہ کی تعظیم و توقیر میں گناہوں سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں۔ مسلمان ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت اس مبارک مہینہ سے فیض حاصل کرتے ہیں۔سال بھر مساجد سے دور رہنے والے بھی مساجد کی طرف اپنے اقدام  بڑھاتے ہیں۔ دینی اجتماعات میں شرکت کرکے عنداللہ ماجور ہوتے ہیں۔ سال بھر فحاشی کے دلدلوں میں ڈوبنے والے اس مبارک مہینہ میں شرم و حیا کا لباس اوڑھتے ہیں۔جو کہ قابل تحسین ہے۔ سال کے گیارہ مہینوں میں منشیات کی لت میں پڑجانے والے ان ایام میں حلال اشیاء سے بھی پرہیز کرتے ہیں۔عین ممکن ہے کہ اسی مہینے میں کسی کی زندگی بدل جاۓ۔ عین ممکن ہے کہ اسی مہینہ میں گمراہوں کو ہدایت حاصل ہو جائے۔ ہمارے قلوب اللہ تعالیٰ کی مبارک و مقدس انگلیوں کے درمیان ہے، جس طرف چاہتا ہے انہیں پھیر دیتا ہے، عین ممکن ہے کہ کوئی سخت دل انہیں ایام میں رقیق القلب بن جاۓ۔یہ مہینہ برکت، رحمت، دوزخ سے آزادی، حصول ہدایت کا مہینہ ہے۔ یہ مبارک اور مقدس مہینہ زندگیوں کو بدلنے والا اور تطہیر نفوس کرانے والا مہینہ ہے۔اپنے گناہوں کی بخشش کروانے، اپنی سابقہ ماضی کو بدلنے، اپنے حال کی بہتری اور اپنے مستقبل کو سنوارنے کا موقع اس سے بہتر نہیں مل سکتا۔یہ مہینہ اللہ کی ناراضگی کو رضامندی میں تبدیل کرانے والا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ دعاؤں کی قبولیت، صبر و شکر کہ عظمت باور کرانے والا مہینہ ہے۔ اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے، اپنی پریشانی کو مسرت میں تبدیل کرنے، اپنی حاجات کی حاجت روائی کرانے، اپنے ھموم و غموم کو راحت میں تبدیل کرنے والا مہینہ ہے۔ کوئی بدقسمت ہی ہوگا جو اس مہینہ کے فیض سے محروم رہے گا۔

اس مہینہ کی ابتداء سے پہلے اور اختتام کے بعد جو حالات سامنے آتے ہیں وہ قابل تشویشناک ہیں۔ رمضان کریم کی ابتداء سے پہلے بھی ہم عموماً سرا و علانیا اللہ کے حدود کی پامالی کر رہے ہوتے ہیں اور رمضان کریم کے بعد بھی حالات اپنی اصل پر لوٹ آتے ہیں۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے شرعی احکامات کو ماہ رمضان تک ہی محدود کرکے رکھا ہے جو کہ ضلالت ہے۔اسلام نہ تو کسی جگہ کے ساتھ مقید ہے اور نہ کسی خاص وقت سے بلکہ اسلام زندگی کے ہر لمحہ پر ہمارے نفوس پر نافذ ہونا چاہئے۔جو اشخاص ماہ رمضان کے بعد پھر سے گمراہی کے راستے پر چلے جاتے ہیں وہ ماہ رمضان کو عبادت کے طور پر نہیں بلکہ رسم کے طور پر ادا کرتے ہیں کیونکہ رسم وقتی ہوتی ہے جبکہ عبادت دائمی ہوتی ہے۔سلف و صالحین سے منقول ہے کہ، "ربانی بن جاؤ، رمضانی نہ بنو”.ماہ رمضان نزول قرآن کا مہینہ ہے اسی لئے سلف صالحین اس مہینہ اپنی دیگر مشغولیات کو یہ طرفہ رکھ کر قرآن کی تلاوت، قرآن کے معانی پر تدبر و تفکر کرنے میں لگ جاتے تھے اس لئے کہ یہ قرآن مقدس ہماری زندگی تبدیل کرے گا۔ اس کلام باری کی مبارک تعلیمات ہمارے کوتاہیوں کا ازالہ کریں گی۔لیکن رسمی مسلمان اس منزل تک نہیں پہنچ پاتے۔بدقسمتوں کی ایک جماعت ایسی بھی ہے جو رمضان کریم کی ابتداء سے ہی اختتام رمضان کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ ایک رسم ہے جو رسم ان کے نفوس پر بھاری پڑ جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ۔رمضان کریم کا مقصد تقوی باری تعالیٰ ہے لیکن جو بندہ اسلام کے نظام سے ہی ناواقف ہو، وہ اس کا ادراک نہیں کرسکتا۔ اسلام نے کبھی بھی من چاہا زندگی کی ترغیب نہیں دی بلکہ ہمیشہ شرعی حدود میں رہنے کا پابند بنایا۔یہ ذمہ داری اب ائمہ کرام، مبلغین حضرات، خطباء، واعظین، مدرسین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ لوگوں سے اس غلط فہمی کو دور کریں۔زمینی حقائق یہ ہیں کہ نماز تراویح جو کہ ایک "نفلی نماز ” ہے، اس پر جھگڑے چل رہے ہوتے ہیں کہ جبکہ فرائض کی ادائیگی پر کوئی آمادہ نہیں ہوتا۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ہم نے دینی مزاج کو ابھی تک سمجھا ہی نہیں ہے۔ یہ تلبیسات ابلیس کا حصہ ہے جس سے ہم سب کو بچنے کی اشد ضرورت ہے۔

کھول یوں مٹھی کہ اک جگنو نہ نکلے ہاتھ سے​

آنکھ کو ایسے جھپک لمحہ کوئی اوجھل نہ ہو​

پہلی سیڑھی پر قدم رکھ ،آخری سیڑھی پر آنکھ​

منزلوں کی جستجو میں رائیگاں کوئی پل نہ ہو​

اسلام نے روز اول سے ہی استقامت پر اپنے متبعین کو ابھارا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ، "بے شک وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر (اس بات پر ) مظبوطی سے قائم رہے تو ان لوگوں کو (دُنیا میں ) کوئی خوف نہ ہو گا اور نہ ہی (آخرت میں )اُنہیں کوئی دُکھ ہو گا ".(سورت الأحقاف / آیت 13) دوسری جگہ فرمایا، اے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم! جِس طرح آپ کو حُکم کیا گیا آپ اُسی طرح اِستقامت اختیار فرمایے اور وہ لوگ بھی جنہوں نے آپ کے ساتھ توبہ کی اور تُم لوگ نافرمانی مت کرنا بے شک تُم لوگ جو کرتے ہو اللہ وہ سب دیکھتا ہے”.(سورت ھُود / آیت 112) یہ آپﷺ کی سیرتِ طیبہ اور صبر و استقامت کا وہ جوہر ہے،جس نے دنیا کو آپ ﷺ کا گرویدہ بنادیا۔ بعض سلف کہا کرتے تھے کہ، "نیکی پر استقامت ، عمل کی قبولیت کی علامت ہے ".جو افراد اس ماہ مبارک کے اس فلسفہ کو سمجھ نہیں پاتے انکے لئے نبی کریم ﷺ نے وعید سنائی ہے۔ فرمان نبوی ﷺ ہے کہ، "جو شخص (بحالتِ روزہ) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ کھانا پینا ترک کرے. ” (اس حدیث کو امام بخاری، احمد بن حنبل اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔) فرمان مصطفی ﷺ ہے کہ، "بہت سے روزہ دار ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو بھوک کے علاوہ کچھ نہیں ملتا اور بہت سے قیام کرنے والے ایسے ہوتے ہیں کہ قیام کرنے والے کو اپنے قیام سے جاگنے کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ ‘‘(اس حدیث کو امام احمد بن حنبل، ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے) .

Patience is power.
Patience is not an absence of action;
rather it is "timing”
it waits on the right time to act,
for the right principles
and in the right way.

اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ ہمیں ماہ رمضان کی قدر کرنے اور  اس کے فلسفے پر استقامت کرنے کی سعادت عنایت فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کے مسائل بھی حل کرکے ہمیں سکون و قرار عطا کرے۔۔۔۔۔ آمین یا رب العالمین۔