رمضان المبارک نیکیوں کا موسمِ بہار اور ہماری ذمہ داریاں عارف حسین طیبی

57

 

رمضان المبارک کی آمد ہوچکی ہے ہر طرف نیکیوں کا موسم بہار اپنی خوشنما رعنائیوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہے یہ مہینہ مسلمانوں کے لئے پیغام مسرت اور سکون قلب کے ساتھ گناہوں کی کثافتوں سے نکلنے کے لئے ایسی راہیں ہموار کرتا ہے جس کے فیوض و برکات سے مستفیض ہوکر مومن بندہ سال بھر اس خوشگوار لمحات کو بھول نہیں پاتا ہے
یہ مہینہ اللہ تبارک تعالی کیطرف ہم مومن بندوں کے لئے کسی نعمت عظمی سے کم نہیں اس ماہ مبارک کی عظمت و رفعت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن جیسی مقدس ومکرم کتاب کا نزول اس ماہ میں ہوا جو ساری انسانیت کے لئے نورہدایت اور صراط مستقیم کا ذریعہ ہے
اس عظیم شہر مبارک کا ہر لمحہ قیمتی ہے ہر گھڑی مغفرت طلب کرنے کا ذریعہ ہے یہ مہینہ مومن بندوں کے لئے ایک موسم بہار کی طرح ہے جہاں انسان دنیا کی ہولناکیوں سے نکل کر رحمت الہی کے سدا بہار چھاؤں میں سکون محسوس کرتا ہے یہ مہینہ ایمان والوں کو ظلمت و ضلالت کی تاریک کوٹھریوں سے نکال کر نور ایمانی سے روح کو تازگی عطا کرتا ہے یہ مہینہ ہمدردی اور غمگساری کا ہے جسکا اجر ایک بہترین انعام کی شکل میں اللہ نزدیک موجود ہے یہ مہینہ انفاق فی سبیل اللہ کا ہے جس سے غربا اور مساکین کی اعانت ہوتی ہے اور وہ بھی ہمارے ساتھ عید کی خوشیوں میں برابر کے شریک رہتے ہیں یہ مہینہ بھائی چارگی اور مساوات کا ہے جہاں معاشرے کا ہر فرد بلا تخصیص مذہب و ملت کے یکساں اہمیت کے حامل ہیں یہ مہینہ اپنی معصیت اور گناہوں سے توبہ کرکے روٹھے رب کو راضی کرنے کا ہے یہ مہینہ شب بیداری اور رب کے حضور میں گریہ زاری کا ہے جہاں ہماری ساری خطائیں معاف کردئیے جاتے ہیں اسلئے
آگر ہم یکسوئی اور یکجہتی کے ساتھ پورے مہینے عبادت میں گزارتے ہیں تو ہمیں جہنم کی آگ سے خلاصی کا پروانہ ملتا ہے یقینا ایمان والوں کے لئےیہ مہینہ کسی نعمت بے بہا سے کم نہیں
موجودہ وقت میں ایک طرف جہاں رمضان المبارک اپنی پوری عظمت و رفعت کیساتھ ایمان والوں کے لئے جہنم کی آگ سے خلاصی کا پروانہ لیکر جلوہ افروز ہے وہیں دوسری طرف کووڈ ,19 کی عالمی وبا ایک بار پھر اپنی تاریخ دوہرا رہی ہے پوری عالم انسانیت کے لئے خوف و دہشت کی علامت بنکر چین وسکون غارت کئے ہوئے ہے ایسے حسّاس اور نازک مواقع سے ہم سب کی ذمہ داری سماجی اور معاشرتی اعتبار سے دوچند ہوجاتی ہے
اسلئے ایسے موقعوں سے چند گزارشات پر عمل کرنا ہم سب کے لئے ضروری ہے
سب سے پہلے ان ایام میں خود اپنی اصلاح کی فکر کریں اور اس عمل میں خلوص و للہیت کا پہلو نمایا رہے اور دوسروں کو بھی اس بات کی تلقین کریں کہ وہ بھی حق گوئی کیساتھ اپنی سماجی ذمہ داریوں کو بنھانے کی کوشش کرے اسوقت جبکہ حکومت ہند کے طرف سے کئی ریاستوں میں بہت سخت ھدایات جاری کئے گئے ہیں خاص طور پر سماجی دوری کیساتھ مسجدوں میں جمعہ اور باقی پنجگانہ نماز ادا کرنے کے بجائے اپنوں گھروں میں اسکے اہتمام کی تلقین کی گئی ہے ایسے میں اہل علم ودانش کی ذمہ داری ہے مذکورہ بالا احکامات پر عمل کرنے کے لئے عوام کی رہنمائی کریں تاکہ اس اضطرابی کیفیت سے نکلنے کے لئے بہترین حکمت عملی بروئے کار لائی جاسکے ان تمام باتوں کے بیچ اسوقت جو سب سے اہم ذمہ داری ہم لوگوں پر عائد ہورہی ہے وہ یہ کہ غرباء ، مساکین ، بے بس اور بے سہاروں کی مدد کے لئے آگے آنا ! جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے کووڈ 19 کی خوف ودہشت کیوجہ اسوقت ہندوستان سمیت پوری دنیا میں لاک ڈاؤن کی صورتحال بنی ہوئی ہے ہر شخص اپنے ہی گھر کے چہار دیواری میں قید وبند کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ایسے میں وہ ہزاروں لوگ جو محنت و مزدوری کرکے اپنے اور بیوی بچوں کے لئے دو وقت کی روٹی کا نظم کرتے تھے اچانک کام نہ ملنے کیوجہ سے یاس و نا امیدی کے شکار ہو گئے ہیں بھکمری اورکسمپرسی کی عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں
ایسے بے بس اور لاچار لوگوں کو اضطرابی کیفیات وحالات سے نکالنے کے لئے ہمارا دست تعاون بڑھانا ایک امید کی نئی کرن ثابت ہوسکتی ہے اور ضرورت مندوں کے تئیں ہم سب کا تعاون ، ہمدردی اور غمگساری کا مشن ہم آہنگی اور یکجہتی کی ایک خوبصورت مثال بن سکتی ہے بس آج ضرورت ایسے افراد کی
جو جانفشانی ، جوانمردی اور جفاکشی کے کیساتھ ایسے نازک مرحلے میں لوگوں تک ریلیف فنڈ پہونچانے کا بیڑہ اٹھائے آج جہاں دیگر افراد کرونا وائرس کی دہشت سے اپنے گھروں میں رہنا پسند کرتے ہیں وہیں کچھ لوگوں کی جذبہ ہمدردی سسکتی اور بلکتی انسانیت اور سماج کےلئے حیات نو کا کام کر رہی ہے
یقینا اس طرح کے خوش آئند اقدام مسلم سماج اور معاشرے کے لئے کسی نعمت بے بہا سے کم نہیں ہے کیوں کہ لوگوں کی خبر گیری کرنا بے بس اور بے سہاروں کے بھوک اور پیاس کی شدت کو مٹانا عین اسلامی تعلیمات میں شامل ہے
حدیث پاک میں بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم ایمان والوں کو اسی بات کی ترغیب دی ہے کہ ہم ناتواں بے کس اور کمزوروں کی امداد بھوکوں کو کھانا کھلانے کے پابند بنیں حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کر تا اس پر اللہ تعالیٰ بھی رحم نہیں فرمائے گا(مسلم )
ایک دوسری روایت میں حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رحم کرنے والوں پر رحٰمن رحم کرتا ہے تم اہل زمین پر رحم کرو آسمان والا (اللہ تعالیٰ) تم پر رحم کر ے گا (سنن ابی داوُد )
مذکورہ بالا احادیث میں ہمیں ایک مسلّم اور مکمل تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ کےبندوں پر رحم وکرم اور تعاون و امداد کے لئے خود کو راضی کرلیں باری تعالی ہماری راہیں آسان کردیں گے اسلئے ایسے نازک اور حساس موقعوں سے نفسا نفسی اور خوفناک صورت حال میں گھرے ہوئے مصیبت زدہ لوگوں کو بھکمری کی قعر عمیق سے نکالنے کے لئے بلا تفریق مذاہب و ملل ملی اور فلاحی تنظیمں ، متمول اور صاحب خیر حضرات دست تعاون آگے بڑھانے کی زحمت گوارہ کریں تاکہ اس بھکمری اور سماجی ، معاشی تنگی کے بحران سے لوگوں کو بآسانی نکالا جاسکے لیکن یاد رہے یہ سلسلہ چند دنوں یا مہینوں تک محدود نہ ہوں بلکہ امداد ونصرت کا یہ پیمانہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے وسیع ہونا چاہیئے تاکہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند حضرات اس سے مستفیض ہوسکیں