مفتی اعجاز ارشد قاسمی کے انتقال سے ملک و ملت کا ناقابل تلافی نقصان ، مفتی رضوان قاسمی

38

ڈومریا/ ارریہ ( پریس ریلیز) 17 / اپریل ،،، بہار کے مدھوبنی ضلع کی مردم خیز بستی موضع چندر سین پور کے رہنے والے جناب مولانا مفتی محمد اعجاز ارشد قاسمی کے اچانک انتقال کی خبر نے سکتے میں ڈال دیا مفتی اعجاز ارشد قاسمی رحمہ اللہ ملت کا قیمتی سرمایہ تھے آنے والے دنوں میں ملک کے چند بڑے لوگوں میں ان شمار ہوتا افسوس کہ اب ہمارے درمیان نہیں رہے انا للہ وانا الیہ راجعون اللہ تعالیٰ بال بال مغفرت فرمائے اور اپنی جوار رحمت میں جگہ دے پسماندگان و جملہ خویش و اقارب کو صبر جمیل عطا کرے آمین مذکورہ باتیں جناب مولانا مفتی اعجاز ارشد قاسمی کے اچانک انتقال کی جاری اپنے تعزیتی پیغام میں صدر مرکزی جمیعت علماء سیمانچل جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی استاذ مدرسہ رحمانیہ افضلہ سوپول دربھنگہ نے کہی انہوں نے کہا کہ مفتی اعجاز ارشد قاسمی رحمہ اللہ نئی نسل کے فضلاء میں بہت ہی باصلاحیت ، حد درجہ ذہین ، ملی کاموں میں فعال اور موجودہ دور کے سیاسی پیچ و خم پر دور رس نگاہ کے حامل افراد میں تھے یہی وجہ ہے کہ بہت ہی کم عمر میں وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ، دہلی وقف بورڈ کے ممبر ہوئے دہلی کو انہوں نے اپنی خدمت کا مرکز بنایا کئی بڑے باآثر سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے ان کے اچھے مراسم تھے افسوس کہ عین جوانی میں ان کے انتقال سے ملک و ملت کی ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے جید عالم دین مفتی رضوان قاسمی نے کہا کہ مفتی اعجاز ارشد قاسمی رحمہ اللہ بالکل ٹھیک ٹھاک تھے چند روز قبل کرونا پازیٹیو ہونے کی وجہ سے دہلی کے ایک اسپتال کے داخل ہوئے اور دوسرے ہی دن اللہ کے پیارے ہوگئے اللہ تعالیٰ سے یہی دعاء ہیکہ وہ اس مشکل اور ناگہانی آفات کے وقت میں اس ملت پر رحم فرمادیجیئے اور ہمارے بڑے چھوٹے سب کی حفاظت فرما