رمضان المبارک کی آمد سے قبل مولانا محمد عزرائیل صاحب مظاہری کاپیغام !

18

انوار الحق قاسمی نیپالی
رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر ملک نیپال کی عظیم ہستی حضرت مولانا محمد عزرائیل صاحب مظاہری مرکزی ممبر جمعیت علماء نیپال نے مسلمانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا:کہ ائے مسلمانو! ہم پرعنقریب ایک عظیم الشان اور برکتوں والا مہینہ سایہ فگن ہواچاہتاہے،جس کی ایک ایک ساعت اس قدر برکتوں اور سعادتوں کی حامل ہے کہ باقی گیارہ ماہ مل کر بھی اس کی برابری و ہم سری نہیں کر سکتے؛اس لیے اس مہینے کویوں ہی ضائع نہ کیاجائے؛بل کہ اس میں کثرت سے نیکی کے کام کیے جائیں ۔
اور مسلمانوں کے لئے یہ مہینہ ابرِ رحمت کی مانند ہے جس کے برسنے سے مومنوں کے دل منور ہو جاتے ہیں اور ان کے گناہ دھل جاتے ہیں۔
رمضان المبارک کی فضیلت و عظمت اور فیوض و برکات کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے،تو شیاطین اور سرکش جنات کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا، اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، پس ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔ ایک ندا دینے والا پکارتا ہے: اے طالب خیر! آگے بڑھ، اے شر کے متلاشی! رک جا، اور اللہ تعالیٰ کئی لوگوں کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔ یعنی ان کی مغفرت کا فیصلہ کر دیتا ہے، ماہ رمضان کی ہر رات یونہی ہوتا رہتا ہے۔ ترمذی الرقم : 682۔
حضرت سلمان فارسي رضي الله عنه روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کی آخری تاریخ میں فرمایا۔اے لوگو ! سنو! تم پر ایک مہینہ سایہ فگن ہونے والاہے جو بہت بڑا اوربہت مبارک مہینہ ہے۔ اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس کے روزوں کو فرض فرمایا اور اس کے رات کے قیام کو ثواب کی چیز ٹھہرایاہے۔
جو شخص اس مہینہ میں کوئی نفلی نیکی بجا لائے گا، تو وہ ایسے ہی ہے جیسا کہ عام دنوں میں فرض کا ثواب ہو اورجو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو ادا کرے گا وہ ایسا ہے جیسے غیر رمضان میں ستر فرائض ادا کرے۔
یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے، یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کا ہے۔
اس مہینہ میں مومن کارزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے، اس کے لئے گناہوں کے معاف ہو نے اور آگ سےنجات کا سبب ہو گا اور اسے روزہ دار کے ثواب کے برابر ثواب ہو گا مگر روزہ دار کے ثواب سے کچھ بھی کمی نہیں ہوگی۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یا رسول اﷲ! ہم میں سے ہر شخص تو اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ (یہ ثواب پیٹ بھر کرکھلانے پر موقوف نہیں) بلکہ اگر کوئی شخص ایک کھجور سے روزہ افطار کرا دے یا ایک گھونٹ پانی یا ایک گھونٹ دودھ کاپلادے تو اللہ تعالیٰ اس پربھی یہ ثواب مرحمت فرما دےگا۔
حضرت نے کہا:کہ یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ رحمت ہے، درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ جہنم کی آگ سے آزادی کاہے،جو شخص اس مہینہ میں اپنے غلام اور نوکر کے بوجھ کو ہلکا کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمادے گا اور آگ سے آزادی عطا فرمائے گا۔
اس مہینہ میں چار چیزوں کی کثرت کیا کرو، جن میں سے دو چیزیں اﷲ کی رضا کے لیے ہیں اور دوچیزیں ایسی ہیں جن سے تمہیں چارہ کار نہیں۔ پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو اور جہنم کی آگ سے پناہ مانگو۔جو شخص کسی روزہ دار کو افطار کراتے ہوئے پانی پلائے گا تو اللہ تعالیٰ میرے حوض سے اس کوایسا پانی پلائے گا جس کے بعد جنت میں داخل ہو نے تک اسے پیاس نہیں لگے گی۔‘‘ (ابن خزیمہ رقم 1887)۔
رمضان المبارک کے روزوں کو جو امتیازی شرف اور فضیلت حاصل ہے اس کا اندازہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث مبارک سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
’’جو شخص بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘ بخاری، رقم : 1901۔
رمضان المبارک کاروزہ جن مقاصد حسنہ کی تحصیل کےلیے فرض کیاگیاتھا،ہمارے سلف صالحین نےروزہ کےآداب وواجبات کی رعایت کرکےان مقاصد کوپورےطورپر حاصل کیا۔
وہ حضرات دن کوروزہ رکھتےتھے اوررات بھر ذکر وفکر اورنماز وتلاوت میں مشغول رہتےتھے اور رمضان المبارک کےایک ایک لمحہ کواللہ کی عبادت میں گذارتےتھے،وہ اپنی زبانوں کوبیہودہ گوئی سےبندرکھتےتھے،ان کی آنکھیں حرام چیزوں کی طرف قطعا نہیں اٹھتی تھیں، اس طرح ان کےتمام اعضاء روزہ سے رہتےتھے ۔
لیکن آج ہمارا یہ حال ہے کہ ہم اس مبارک مہینے کو بھی دیگر مہینوں کی طرح ضائع کردیتےہیں۔
اللہ تبارک و تعالٰی ہمیں اس مہینہ میں سلف صالحین کی طرح روزہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔