پہنچی وہی پے خاک جہاں کا خمیر تھا۔

32

پہنچی وہی پے خاک جہاں کا خمیر تھا اور
قائد ملت امیر شریعت حضرت مولانا سید محمّد ولی رحمانی نم آنکھوں سے مونگیر میں سپرد خاک کر دئے گئے ۔نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور نم آنکھوں سے انہیں سپرد خاک کیا ۔انکی رحلت سے ملت اسلامیہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ۔ہم نے اس صدی کا محترم رہبر قائد کھو دیا ۔تا حد نگاہ مایوسی اور پز مردگی ہے ۔
حضرت نے دار فانی سے جاتے جاتے ایک ایسا کام کردیا ہے جو مستقبل قریب میں امارت شر عیہ اور مسلم قیادت کے لئے نہایت مفید ثابت ہوگا مری مراد شمشاد رحمانی قاسمی سے ہے جسے حضرت نے اپنا جانشیں مقرر کیا یعنی نائب امیر شریعت ۔مولانا شمشاد رحمانی بہت خوبیوں کے مالک ہیں اتنے پر عزم با حوصلہ شخص کو نائب امیر شریعت نامزد کرنا یہ بتا تا کہ حضرت کو اس کی بھنک لگ گئی تھی کہ وہ مالک خالق کل سے ملنے والے ہیں ۔بہر حال ہی حضرت نے جاتے جاتے اپنا جانشین مقرر کر دیا ہے امارت شرعیہ میں شمشاد رحمانی تو خانقاہ رحمانی اور جامعہ رحمانی مونگیر کا جانشین اپنے بڑے صاحب زادے احمد ولی کو بنایا ہے تو رحمانی تھرٹی اور رحمانی فا نڈیشن کی ذمہ داری چھوٹے صاحب زادے فہد رحمانی کو سپر کی ہے
امارت شرعیہ کی قیادت صرف اریسہ جھارکھنڈ بنگال اور بہار تک ہی نہیں بلکہ اس کا اثر پورے ملک میں دیکھا جا ئے گا ۔مرا خیال ہے کہ نوجوان عالم دین کے ہاتھوں امارت شر عیہ کی قیادت نئی نسل کے لئے طارق بن زیاد جیسی ثابت ہو سکتی ہے
اشرف استھانوی