حضرت امیر شریعت سابع مولانا ولی رحمانی: حیات و خدمات

39

 

‎حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی بھارت کے معروف اسلامی اسکالر اور ماہر تعلیم تھےـ

‎دنیائے فانی کو الوداع کہنے والے امیر شریعت مولانا ولی رحمانی ایک مؤقر عالم دین، مفکر اسلام و شریعت اور معروف اسلامی اسکالر تھے۔ مختلف شعبوں میں انہوں نے ملت اسلامیہ کی بے پناہ خدمات انجام دیں۔ تعلیمی میں ان کے کارنامے اور حصولیابیاں خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔

‎مولانا ولی رحمانیؒ نے 1974 سے 1996 تک بہار قانون ساز کونسل کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ اپنے والد ماجد حضرت مولانا منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات 1991 کے بعد سے خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشین اور جامعہ رحمانی مونگیر کے سرپرست رہے۔ آپ کے دادا مولانا محمد علی مونگیری ندوۃ العلما کے بانیوں میں شامل ہیں۔
‎تعلیمی شعبے میں مولانا ولی رحمانی کے ذریعہ قائم کیے گئے رحمانی 30 ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں عصری تعلیم کے متعدد شعبوں میں معیاری اعلی تعلیم و قومی مقابلاجاتی امتحانات کے لیے طلبہ کو تیار کیا جاتا ہے۔
‎رحمانی 30 سے ہر سال نیٹ اور جے ای ای میں 100 سے زائد طلبہ منتخب ہوتے ہیں۔ حضرت مولانا سید ولی رحمانی عوامی تقریر، اپنی شخصیت و ملی مسائل میں جرأت صاف گوئی و بے باکی سمیت تعلیم کے لیے مشہور تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ کسی کو ایک وقت میں دونوں طرح کی تعلیم یعنی دینی اور دنیاوی تعلیم حاصل کرنی چاہیے اور کسی بھی چیز سے پہلے انسان کو انسان ہی ہونا چاہیے۔
‎یوں تو قطب عالم حضرت مولانا محمد علی مونگیری رحمتہ اللہ علیہ نے 1927 میں جامعہ رحمانی قائم کیا لیکن 1934 کے ہولناک اور قیامت خیز زلزلے میں جامعہ رحمانی کو بند کرنا پڑا جو نئے سرے سے 1942 میں شروع ہوا اور الحمدللہ اب تک پوری کامیابی و کامرانی اور اپنی انفرادیت کے ساتھ وقفہ وقفہ سے نئےفکر و نظر کے ساتھ باصلاحیت اور جدیدیت سے با خبر علما تیار کر رہا ہے۔ یہ ادارہ امت کے لیے بانی ندوت العلما لکھنؤ حضرت اقدس قطب عالم حضرت مولانا سید محمد علی مونگیر رحمتہ اللہ علیہ اور بانی اللہ انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی نوراللہ مرقدہ کی جانب سے ایک بہت بڑا عطیہ ہے۔
‎جب صدی کے دو عظیم اور صاحب قلب و ںظر عالم دین کے مبارک ہاتھوں یہ پودہ لگا اور پروان چڑھا اور پھر جب اس پودے کو تناور درخت بنانے کا مرحلہ آیا تو اس صدی کے بے مثال عالم دین مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی صاحب رحمانی رحمتہ اللہ علیہ کا حسن تنظیم جدو جہد اور تعلیم کے میدان میں مثالی فکر و نظر کام آئی۔ الحمدللہ آج یہ درخت حضرت کے زیر سایہ مخلص اساذہ کی محنت سے تیز رفتاری کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ پھلتا اور پھولتا جا رہا ہے اور آئے دن پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ جامعیہ رحمانی کی کارکرگی اور کاموں کی خبریں پڑھنے اور دیکھنے کو ملتی رہتی ہے۔
‎جامعہ رحمانی کے موجودہ نظام تعلیم میں جدید تکنیک یعنی کمپوٹر پراجکٹر اور انٹرنیٹ سے استفادی کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر عربی اور علوم الہٰیہ کے تعلیم میں ان جدید آلات کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہاں جدید انداز درس کے ساتھ نئی نسل کے ذہن و مزاج کے تربیت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
‎ان کے اندر ہدایت ربانی اور ارشادات نبوی کو محفوظ کرنے کا ذوق پیدا کیا جاتا ہے۔
‎حفظ قرآت تفسیر حدیث فقہ عربی اور اردو زبان و ادب کی مشق و تمرین کی اس نئی جدو جہد کی کامیابی کو آپ یوں دیکھ سکتے ہیں کہ اب جامعہ رحمانی کے ماحول میں حفظ کے طلبا روانی کے ساتھ عربی میں بات کرتے نظر آئیں گے۔
‎جامعہ رحمانی کی کامیابی اور بڑھتے اقدام کا ایک حسین منظر ابھی ماضی قریب یعنی 14 اکتوبر 2017 کو سامنے آیا جب دنیا کے ممتاز ترین یونیورسٹی جامعہ اظہر مصر اور بھارت کے مایہ ناز ادارہ کا الحاق عمل میں آیا۔
‎جامعہ رحمانی کے فارغین اور مولانا ولی رحمانی رحمتہ اللہ علیہ کے پروڈکٹس کی فہرست میں صرف اسکول اور مدرسوں میں پڑھانے والے اور مساجد میں امامت کرنے والے اماموں کے نام شامل نہیں ہیں بلکہ اس فہرست میں بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والے بے شمار نام شامل ہیں جس کی تفصیل اس چھوٹے سے مضموں میں نہیں پیش کی جا سکتی۔
‎ان کی خدمات میں جامعہ رحمانی کو عروج بخشنا، رحمانی کمپیوٹر سینٹر کا قیام، رحمانی بی ایڈ کالج، رحمانی 30 کو قائم کرنا قابل ذکر ہے۔
‎حضرت مولانا ولی رحمانی رحمتہ اللہ علیہ کی مخلصانہ اور بے لوث کوشش و محنت اور مشہور ماہر تعلیم فزکس کے اعلی درجہ کے استاذ آئی پی ایس افسر اور بہار پولیس کے سب سے اعلی افسر ابھیانند جی کی انتھک محنت کے لگن کے نتیجہ میں رحمانی 30 کا قیام عمل میں آیا اور کامیابی کے ساتھ رواں دواں ہے۔
‎بلا شبہ دین کے لیے حضرت رحمتہ اللہ علیہ کی 70 سالہ خدمات نئی نسل کے لیے اثاثہ ہے۔ آپ کی شخصیت ملک و ملت کا اہم اثاثہ تھی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کو غریق رحمت کرے۔
‎فضل رحماں رحمانی
ای ٹی وی بھارت، حیدرآباد