مسلم حکمرانوں کا کردار (تاریخ کے آئینے میں)

32

قسط اول

ہندوستان میں مسلمان اگرچہ فاتح کی حیثیت سے آئے لیکن اجنبی حکمرانوں کی طرح انہوں نے اس کو محض تجارت کی منڈی اور حصول ودولت کا ذریعہ نہیں سمجھا، بلکہ اسکو اپنا وطن بناکر رچ بس گئے یہاں کی بہت سی رسوم وروايات تک اختیار کرلیں، اور مرنے کے بعد اسی خاک پاک کا پیوند ہونے کو پسند کیا اور انہوں نے اپنے وطن کی طرح بنانے سنوارنے کی جد جہد کی، چنانچہ؛ انہوں نے حکومت وسیاست، علم و فن، صنعت و حرفت، زراعت وتجارت، تہذیب و معاشرت، زیست اجتماعی ہر حیثیت سے اسکی تعمیر وترقی کی یہاں تک کہ ہندوستان کو جنت نما بنا دیا.

ہندوستان اک آئینے میں!

ہندوستان مغلوں سے قبل کئی مسلمان حکمران گزرے ہیں، مگر تعمیری کارنامے مغلوں سے شروع ہوتے ہیں، مغلوں کا بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر تھا جو ہندوستان میں ایک فاتح کی حیثیت سے داخل ہؤا، مگر یہ بات عجیب ہے کہ جب آگرہ میں داخل ہوکر وہ تخت نشین ہؤا، تو نہ اس وقت وہ حقارت ونفرت کی نگاہ سے رؤیت ہوئی اور نہ اس کے بعد بلکہ وہ اپنے اخلاق وکردار اور اچھی خوبیوں کی وجہ سے دنیا کا محبوب ترین بادشاہ شمارکیا گیا.
اس کے بعد بابر نے آگرہ کو خوشنما بنانے کے لئے آگرہ میں ایک تعمیر کی،یہاں تک کہ ہما یوں نے آگرہ کی رونق بڑھانے کے لئے جمنا کے کنارے ایک محل بنایا جو طلسم عمارت سے موسوم ہے،اس کا قبہ بہت بلند بالا ہے اور صحن خوبصورت اور دلکش ہے،جب چراغ روشن کیے جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ روشنی ازل سے آرہی ہے،اسیطرح مغلوں کی تعمیر وترقی کا فن اوج ثریا پراس وقت پہونچا جب آگرہ میں شاہ جہاں کے ذریعہ تاج محل کی تعمیر ہوئی،پوری عمارت سنگ مرمر کی بنی ہوئی ہے آج یہی وہ تاج محل ہے جسے دنیا کے ساتویں عجائب میں سب سے زیادہ حسین و خوبصورت عمارتوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اس کے مشاہدے کے لئے دور دراز سے لوگ زیارت کے لئے قدم بوسی کرتے ہیں ،پھر شاہ جہاں نے لال قلعہ کی تعمیر کے امور کو شروع کیا جس کی بنیاد/1631ء میں رکھی گئی جس کی تعمیر میں تقریباً 9لاکھ5پانچ ہزار روپے صرف ہؤے اور اس کی تکمیل 1647ءمیں ہوئی ،اسیطرح بابر نے بھی بڑی عظیم قربانیاں دیں اور بڑی بڑی عمارتیں بنانے میں حصہ لیا اور انہوں نے مذہبی رواداری کو بھی برقرار رکھا،بلکہ انہوں نے فراخ دلی،رحم دلی،ہمدردی،فیاضی ،رواداری اور صاف باطنی کی ایک یادگار چھوڑی ہے،جسکی تعمیر وترقی میں نہ صرف مسلمان ہیں بلکہ اس وقت کے ہندومؤرخیں بھی ان میں سے صدرِ جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد نے اپنے شُہرۓآفاق کتاب انڈیا ڈوائڈیڈ میں بھی ہے جو ہمارے لئے ایک روشن دلیل ہے،کیونکہ دوسروں کی گواہی معتبر ہوتی ٹ،عربی کا مثل ہے،الفضل ماشهدت به الأعداء.