شب برات کےموقع سے مولانا محمد عزرائیل صاحب کاپیغام امت مسلمہ کےنام ! انوارالحق قاسمی نیپالی

59

انوارالحق قاسمی نیپالی
شعبان کی پندرہویں رات کو شب برات کہاجاتاہے۔اس رات میں بےشمار گناہگاروں کی مغفرت کی جاتی ہے ؛اس لیے اس رات کو شب برات کہاجاتاہے۔
شب برات کےموقع سے ملک نیپال کے جید عالم دین اور جمعیت علماء نیپال کےمرکزی ممبر حضرت مولانا محمد عزرائیل صاحب مظاہری نے لوگوں کو پیغام دیتے ہوئےکہاکہ: کہ اس رات میں خداوند عالم تمام مخلوق کی طرف تجلی فرماتاہے اور ساری مخلوق کی سوائے مشرک اور بغض رکھنے والوں کےسب کی مغفرت فرماتاہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد گرامی ہے:عن عَائِشَةَ رضي الله عنها قالت فَقَدتُّ رسولَ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لَیْلَةً فَخَرَجْتُ فَاِذَا هو بِالبَقِیْعِ فَقَالَ أَکُنْتِ تَخَافِیْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰہُ عَلَیْکِ؟ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ظَنَنْتُ اَنَّکَ اَتَیْتَ بَعْضَ نِسَائِکَ فَقَالَ اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وتَعَالٰی یَنْزِلُ لَیْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ اِلٰی سَمَاءِ الدُّنْیَا فَیَغْفِرُ لِاَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ کَلْبٍ․ (ترمذی شریف 1/157، ابن ماجہ ،ص99)
ترجمہ:حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے وہ فرماتی ہیں: میں نے ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرتے ہوئے نکلی، تو اچانک میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (جنۃ) البقیع میں موجود ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو یہ اندیشہ رکھتی ہے کہ اللہ اور اس کا رسول تیرے ساتھ ناانصافی کرے گا؟میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ!مجھے یہ خیال ہوا کہ آپ اپنی کسی دوسری بیوی کے پاس تشریف لے گئے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب میں آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور قبیلہٴ بنوکلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں۔ (بنوکلب عرب کا ایک قبیلہ تھا، عرب کے تمام قبائل سے زیادہ اس کے پاس بکریاں ہوتی تھیں۔ (مرقاة شرح مشکوٰة 3/339)۔
واضح رہے کہ اس رات میں کوئی بھی اجتماعی عبادت حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سےثابت نہیں ہے،لہذاہمیں اس رات میں انفرادی عبادت کرنی چاہیے ۔
اس موقع سے جو شور و غوغا مچایاجاتاہے اور لوگ جواجتماعی طور پر قبرستان جاتے ہیں، اس کاثبوت کہیں سے نہیں ملتاہے۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم قبرستان تشریف لےگئے،مگرچپکے سے کسی کواس کی خبر واطلاع نہیں دیےتھے اور نہ ہی کسی کواپنے ہمراہ قبرستان جانےکوکہاتھا۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہاتلاش کرنے کے ارادے سےنکلی تھی ،توآپ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کوقبرستان میں پایاتھا ،اس موقع سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم اجتماعی طور پر بھی قبرستان جانے کاحکم نہیں دیاہے؛اس لیےہمیں بھی اجتماعیت کےساتھ قبرستان جانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے، اس سے گریز ضروری ہے۔
حضرت نےمزید فرمایا کہ: اس رات میں اپنے لیے، اپنے مرحومین کےلیے اور پوری امت کےلیے مغفرت کی دعاکریں اوراگلے دن روزہ رکھیں اور اس دن کاروزہ رکھنا مستحب ہے۔
اور جن دو شخصوں کے درمیان لڑائی جھگڑا اور اختلاف ہو ، وہ اس رات میں صلح صفائی کر لیں ، اگر صلح صفائی نہیں کریں گے ، تو بخشش نہیں ہوگی ۔