مجلسِ شوریٰ کا تاریخی فیصلہ ، دار العلوم اور دارالعلوم وقف کے اختلافات کے خاتمے کے لیے چھ رکنی رابطہ کمیٹی تشکیل !

19

دیوبند ۔ 24 مارچ 2021
عالم اسلام کی ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کئی اہم اور تاریخی فیصلوں کے ساتھ اختتام پذیرہوگئی، شوریٰ کی آخری نشست آج دوپہر اہم تعلیمی و انتظامی تجاویز کی منظوری اور ملک وملت کے لیے فلاح و خیر کی دعاؤں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔آج شوریٰ نے تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے دارالعلوم دیوبند اور دارالعلوم وقف دیوبند کے آپسی اختلافات کو ختم کرنے اور مشترکہ مسائل کے حل کے لیے چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی ،خاص بات یہ ہے کہ آخری نشست میں دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی اور نائب مہتمم مولانا محمد شکیب قاسمی اور وقف دارالعلوم دیوبند کی مجلس مشاورت کے رکن حافظ اقبال چوناوالا ممبئی نے شرکت کی۔ تفصیل کے مطابق شوریٰ نے مجلس عاملہ کی تجاویز کی خواندگی اور گزشتہ مجلس شوریٰ کی کارروائی کی توثیق کی۔ اس موقع پر کووڈبحران سے متاثر تعلیمی اور انتظامی امور کی بحالی اور حالات سے نبرد آزمائی کی حکمت پر غورو خوض کیاگیا۔ کورونا سے منفی طورپر متاثر تعلیمی نظام ،طویل تعطیلات اور طلبہ کو درپیش مسائل پر مجلس تعلیمی کی مفصل رپورٹ پیش کی گئی،اس کی روشنی میں مجلس شوریٰ نے مجلس تعلیمی کے سابقہ فیصلوں کی توثیق کی ۔ جس کے مطابق آئندہ تعلیمی سال کے لیےطلبہ کے نئے داخلے نہیں لیے جائیں گے اور تمام طلباء کو ششماہی امتحانات کی نتائج کی بنیاد پر اگلے درجات کے لیے ترقی دے دی جائے گی۔یہ فیصلہ بھی لیاگیا کہ آئندہ 10؍ شوال تک تمام طلبہ دارالعلوم دیوبند پہنچ کر اپنی حاضری درج کرائیں۔ تاکہ 20؍ شوال سے تعلیمی سلسلہ شروع کیا جاسکے،مجلس شوریٰ نے کورونا بحران کے دوران زیر التواتعمیری امور کا بھی جائزہ لیااور حالات سازگار ہونے پر تعمیری کام شروع کرنے کا فیصلہ لیا۔ دارالعلوم انتظامیہ نے اصلاح معاشرہ اور تحقیق و تالیفات کمیٹی کے لیے اس دوران جو اقدامات کئے مجلس شوریٰ نے ان کا بھی جائزہ لیا اور قابل ستائش قرار دیا۔ تعلیمی نظام کے ضمن میں مزید شہری مکاتب قائم کرنے کو منظوری دی گئی،اس قسم کے دس شہری مکاتب کام کررہے تھے، اب ان میں چار کے اضافہ کے بعد کل شہری مکاتب کی تعداد چودہ ہوگئی ہے، مجلس شوریٰ کی پانچویں اور آخری نشست میں دارالعلوم وقف دیوبند اور دارالعلوم دیوبند کو مزید قریب لانے اور مشترکہ مسائل کے حل میں باہمی مشاورت کی خاطر جانبین سے چھ ذمہ دار افراد پرمشتمل ایک رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی، اس موقع پر خاص بات یہ ہے کہ دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی اور نائب مہتمم مولانا محمد شکیب قاسمی اور مجلس مشاورت کے رکن حافظ اقبال چوناوالا ممبئی نے شوریٰ کی دعوت بطور مہمان شوریٰ کی آخری نشست میں شرکت کی اور باہمی مشاورت کی اس تجویز اور فیصلہ کو پسند کیا۔ اس کے بعد ایک رابطہ کمیٹی تشکیل دے دی گئی،جس میں دارالعلوم دیوبند کی جانب سے ادارہ کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی،صدرالمدرسین مولانا سیدارشدمدنی اور رکن شوریٰ مولانا انوارالرحمن بجنوری نیز دارالعلوم وقف دیوبند کی جانب سے مہتمم مولانا محمدسفیان قاسمی، نائب مہتمم مولانا شکیب قاسمی اور شیخ الحدیث مولانا احمد خضر شاہ کے نام نامی رکھے گئے ہیں۔ چھ رکنی یہ کمیٹی دونوں اداروں کے باہمی مراسم کو مثبت و مستحکم بنانے کے لیے کام کرے گی۔ مجلس شوریٰ میں متعدد اساتذہ کرام کے عزیز و اقارب ،ارباب مدارس ،علماء کرام،اور دارالعلوم دیوبند کے سفراء مولانا محمد شریف قاسمی مرحوم اور مولانا ظہیر الدین مرحوم کے لیے تعزیتی قرارداد منظور کی گئی اور ایصال ثواب کیاگیا۔صدارت کے فرائض مولانا محمد عاقل سہارنپور ی نے انجام دیے، حکیم کلیم اللہ علی گڑھی کی دعاء پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔ اجلاس میں شرکت کرنے والوں مولانا انوارالرحمن بجنوری، مولانا رحمت اللہ کشمیری،مولانا عبدالعلیم فاروقی،مولانامحمود راجستھانی، مولانا محمد عاقل گڈھی دولت شاملی،سید انظر حسین میاں دیوبندی،مولانا اسماعیل مالیگاؤں،مولانا شفیق بنگلوری، مولانا حبیب باندوی، مولانا اشتیاق دربھنگوی، مولانا احمد خان پوری، جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشدمدنی اور مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی کے نام شامل ہیں۔