…..,….. بڑے آفیسر کی بیوی …..

راقم الحروف۔۔۔ محمدسلطان اختر(نوادہ)
رابطہ نمبر۔۔۔۔۔9939872315

یہ ایک افسانہ ضرور لگتا پڑھنے میں مگر یہ حقیقت پر مبنی کہانی ہے جو ایک دوست نے اسے اپنے قلم سے میاں و بیوی کی روز مرہ کی زندگی میں ہورہے واقعے کو اپنے قلم سے پرویا ہے آج آفیسر سرفراز نواز کی بیوی کو یقین نہیں ہورہاہے کہ میں افسر کی بیوی ہوں لگتا کہ میں ایک خواب دیکھ رہی ہوں لیکن یہ حقیقت ہے کہ فوزیہ آج ایک آفیسر کی بیوی ہی نہیں ایک ایماندار و غریب پرور کی بیوی ہے ایک الگ اپنی پہچان بنایا ہے اس سے قبل جو حالات اُنکی تھی وہ آپ حضرات ملاحظہ فرمائیں۔۔آفیسر سرفراز نواز کی بیوی فوزیہ عرف لکی ہوتی ہے فوزیہ کی سہیلی نازیہ ہوتی ہے ایک چھوٹا بیٹا آیت اللہ ہوتا ہے اب اس محنت جفا کش انسان کے کہانی پڑھئیے اور لُطف اندوز ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں ، نازیہ وہ میری نہیں ، میں ان کی پسند ہوں ۔ انہوں نے نہ جانے کس منحوس گھڑی میں مجھے دیکھاتھا اور نقد دل دے بیٹھی تھی ۔ مجھ سے شادی کرنے کے لیے میرے گھر والوں کی انہوں نے کیا کیا منت سماجت نہیں کی تھی ۔ ابو ، اماں کو تو چھوڑو نانی، خالہ، خالو، تک کے پیچھے پڑ گئے تھے ۔ میں بھی یہ سوچ کر تیار ہوگئی تھی کہ بندہ جب اتنا دیوانہ ہے تو بہت پیار کرے گا ، کافی خوش رکھے گا ، دیکھنے سننے میں بھی برا نہیں ہے ۔ لیکن یہ کیا ؟ یار ، شادی کو بارہ مہینے بھی نہیں گزرے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میرے اندر انہيں کوئی دلچسپی ہے ہی نہیں ۔ میں ایک خوب صورت لڑکی ہوں ، پڑھی لکھی ہوں ان کے اس رویے سے میں جو بے عزتی محسوس کرتی ہوں ، اسے لفظوں میں بیان نہیں کرسکتی ۔ آخر انہوں نے مجھ سے شادی ہی کیوں کی تھی ؟
فوزیہ کی آنکھوں میں آنسوں تھے اور الفاظ لڑکھڑارہے تھے ۔
نازیہ : فوزیہ [[لکیّ] ، لیکن سرفراز کسی اور عورت میں بھی تو دلچسپی نہیں لیتے ، ایسا بھی تو نہیں کہ وہ تمہیں دھوکہ دے ر ہے ہیں ۔۔۔
فوزیہ [لکیّ] : نازیہ ، سوال دھوکے کا نہیں ، سوال میرے مان سمان اور ارمان کا ہے ، میں کیا کوئی ایسی چيز تھی جو دس گیارہ مہینے بعد ناقابل استعمال ہوگئی، اور آج شادی کے پورے بارہ سال ہوگئے۔
نازیہ : فوزیہ [لکیّ] ، یہ بتاؤ کہ تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ وہ تم میں دلچسپی نہیں لیتے ؟ کیا وہ حق زوجیت ادا نہیں کرتے ؟ تمہیں نظر انداز کرتے ہیں ؟ ایسا لگتا ہے کہ تم سے ان کا من بھر چکا ہے ؟ فیڈ اپ ہوچکے ہیں ؟
فوزیہ [لکیّ] : نہیں یار ، ان کی پریشانی ان کا خواب ہے ، انہیں بڑا بننا ہے ، مقابلے کے امتحان میں اول آنا ہے ، قوم وملت کا نام روشن کرنا ہے اور کیا کیا کرنا ہے انہيں ۔ انہيں بس کتابوں سے مطلب ہے ، میں نے کیسا کپڑا پہنا ہے ، کسی مہندی لگائی ہے ، بندیا جم رہی ہے یا نہیں ، انہیں ان سب باتوں سے کوئی مطلب نہیں ۔ حق زوجیت کا یہ مطلب کب ہے کہ میاں بیوی ایک بستر پر ساتھ سوتے ہوں ؟
نازیہ: فوزیہ [لکیّ] ، اگر بات ایسی ہے تو میں انہیں پوری طرح غلط نہیں کہہ سکتی ۔ ہوسکتا ہے کہ وہ عدم توازن کے شکار ہوں لیکن انہيں زندگی میں آگے بڑھنے کا پورا پورا حق ہے اور یہ بھی حق ہے کہ وہ اس کے لیے جی جان لگادیں ، ویسے بھی ان کی کامیابی صرف ان کی کامیابی نہیں مانی جائے گی ، تمہیں ان کا ساتھ دینا چاہیے اور ان کے اس جنون کا حصہ ہوکر اپنا پیار نکالنا چاہیے ۔ کل کو جب سرفراز کامیاب ہوں گے تو قابل رشک تم بھی ہوگی ، تم سے بھی حسد کیا جائے گا ۔
فوزیہ [لکیّ] کو نازیہ کی باتیں معقول تو لگیں لیکن اچھی بالکل بھی نہیں ۔ وہ چاہتی تھی کہ نازیہ سرفراز کو کچھ برا بھلا کہے کہ اس کے دل کو سکون ملے لیکن نازیہ الٹے اسے ہی سمجھانے لگی ۔
نازیہ کے جانے کے بعد فوزیہ [لکیّ] ایک بار پھر اکیلی پڑ گئی ۔گھر کا سناٹا کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا ۔ موبائل ہاتھ میں لے کر اس نے سرفرازکو بغیر کسی ارادے کے فون لگا دیا ۔
سرفراز : یار ، تم سے کتنی بار کہا ہے کہ میں اس وقت مصروف رہتا ہوں ، ایسے فون کرکرکے پریشان کروگی تو میں تو ہو گیا کامیاب ۔ ابھی فون رکھو ، گھر آتا ہوں تو بات ہوتی ہے ۔
فوزیہ [لکیّ] کی آنکھوں میں آنسو ہی آنسو تھے ۔ اس نے کئی بار اس سے گزارش کی تھی کہ وہ اپنا خواب ضرور پورا کرنے کی کوشش کریں لیکن اس کے ارمانوں کا مکمل خون تو نہ کریں لیکن سرفراز پر جیسے ان باتوں کا کوئی اثر تھاہی نہیں ۔
قدرت امتحان بھی تو کم نہیں لیتی ۔ کئی سارے امتحانا ت دے چکے تھے سرفراز لیکن رزلٹ حسب خواہش کبھی نہیں آيا تھا۔ کبھی ایک نمبر تو کبھی آدھے نمبرسے پیچھے رہ جارہے تھے ۔ سرفراز کا جنون البتہ کم نہیں پڑا تھا ، وہ ہر ایک ناکامی کے بعد نئے جوش و لگن سے اپنے مقصد میں لگ جاتے تھے ۔
فوزیہ لکیّ : سرفراز ، یہ آئے دن کے امتحانات سے میں تنگ آگئی ہوں ، کتنی اچھی تو آپ کی نوکری ہے ، ہم سب کتنےخوش رہ سکتے ہیں اگر آپ تھوڑا ہمارا بھی خیال کرلیں ۔
سرفراز : پگلی ، یہ سب تیرے خیال کے ارادے ہی سے کررہا ہوں ، وقتی بے التفاتی پر مت جا ، پھر تو اتنا وقت ہوگا کہ تو میرے پیار سے پریشان ہوجائے گی ۔ دیکھو میرا بھائ میرا دوست حجّ پر گیا ہے عرفات کے میدان سے دعاء کریگا اور میں ضرور کامیاب ہونگا۔۔۔۔۔۔۔
فوزیہ [لکیّ] : لیکن آخر وہ دن کب آئے گا ؟ مجھے تو یقین ہی نہیں ہوتا ۔
سرفراز : میرا اللہ مجھے ناکام نہیں کرے گا ، حاجی کی دعاء ضرور سنے گا اور میدان عرفات میں جس کے لیے دعاء کی جائے رَد نہیں ہوتی کوئی گمان کرلے کہ میری دعاء قبول ہوئی یا نہیں تو گویا وہ کافر ہے اس طرح فوزیہ کو تسلی دیتے ہوئے آگے کہا دیکھنا میرے ساتھ تیری بھی تصویر اخباروں میں چھپے گی ، تیرے اوپر بھی رشک کیا جائے گا ۔ آج نہ کل وہ دن آنے ہی والا ہے ۔
صبح سات بجے کا وقت تھا ، وہ اپنے دوسرے سات سالہ بیٹے آیت کو اسکول بھیجنے کی تیاری کررہی تھی ، آملیٹ تیار تھا ، بریڈ سیکنا باقی ہی تھا کہ اس کے فون کی گھنٹی بجی ۔
فوزیہ [لکیّ] : نازیہ تم ، بہت دنوں بعد یاد آئی تمہیں ہماری ۔ کیا حال ہے ؟
نازیہ : فوزیہ [لکیّ] جانو، حال تمہار ےسننے لائق ہیں ۔
فوزیہ [لکیّ] : میرے تو وہی دن رات ہیں یار ، کیا سناؤں ؟
نازیہ: ارے افسر کی بیوی ہو گئی اور کیا سناؤں کہ رہی ہے !!
فوزیہ [لکیّ] : کیا ، اب تو بھی مذاق اڑانے لگی ۔ خاندان و گاؤں کے لوگ تو ایسے ہی مذاق اڑاتے رہتے ہیں اور اب تو بھی ؟
نازیہ: پگلی ، آج کا اخبار نہیں دیکھی ، لے دیکھ، میں واٹس اپ پر امیج بھیجتی ہوں ۔ سرفراز نے مقابلے کا امتحان پاس کرلیا ہے ، افسر لگنے بننے ہیں اور ان کے ساتھ تیری اور تیرے بچوں، ساس ودیور کی تصویر چھپی ہے ۔
فوزیہ [لکیّ] نے جھٹ واٹس اپ چیک کیا ، خبر دیکھ کر اس کی آنکھوں میں خوشیاں تیرنے لگیں ،آنسوں خود بخود گرنے لگے ۔ اسے یاد ہی نہیں رہا کہ نازیہ ابھی بھی فون پر ہے ۔ کچھ دیر بعد نازیہ نے فون کاٹ کر دوبارہ فون ڈائل کیا اور کہا : سوچتی ہوں فوزیہ [لکیّ] کہ سرفراز نے تم کو افسر کی بیوی بنا ہی ڈالا پھر سوچتی ہوں کہ سرفراز نے تم سے شادی ہی کیوں کی تھی ؟ اور دونوں کھلکھلاکر ہنسنے لگیں ۔
sultanakhtar315@gmail.com