نظر توڑ… وزیر عزت مآب..!خورشید انور ندوی

37

تحریر :خورشید انور ندوی
22   مارچ 2021
نظر توڑ… وزیر عزت مآب..!
پرانے زمانے میں بچوں کو نہلا دھلا کر کپڑے پہنا کر دیہات کی عورتیں بچوں کے دائیں بائیں چہرے پر کہیں ایک چھوٹا سا کالا ٹیکہ لگا دیا کرتی تھیں جس کو نظر توڑ کہتے تھے … خیال عام یہ تھا کہ اس سے بچوں کو نظر نہیں لگتی.. ایسے ہی مسلمانوں کے نام سے نفرت کرنی والی جماعت پی جے پی بھی اپنے اندر ایک دو "کالے” ٹیکے رکھتی ہے،، شاید اس لئے کہ ان "کالوں” کی وجہ سے شگون قائم رہے.. وہم پرست کچھ بھی کرسکتا ہے.. گمان ہے کہ اگر بچے کے ماتھے گال یا ٹھڈی کا ٹیکہ بول پڑتا تو اتنا "اشبھ” نہ بولتا، جتنا یہ "کالے” بولتے ہیں اور اپنی قوم کےزخم پر نمک چھڑکتے رہتے ہیں.. یہ تو مختار عباس نقوی جیسے مہاشوں کے بول کی بات تھی.. کاج ان مہاشوں کے اس سے بھی کہیں نرالے ہیں.. پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی کی رپورٹ آئی ہے جو مختلف وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیتی رہتی ہے، اور رپورٹ کو عام کرتی رہتی ہے.. ہر وزارت کی اسٹینڈنگ کمیٹی ہوتی ہے، جو حکومتی اور حزب مخالف ارکان پر مشتمل ہوتی ہے، جس کی رپورٹ ناقابل تردید ہوتی ہے. جو ڈیٹا بیس ہوتی اور ماہرین کے ذریعہ تیار کی جاتی ہے. رپورٹ نے نقوی مہودے کی وزارت اور ان کی انتہائی ناقص کارکردگی پر برہمی کا اظہار کیا ہے.. یہ وزارت اپنے نیچر میں ایک صارف (کمزیومر) وزارت ہے، اقلیتوں کی بہبود کے لئے مختص فنڈ کو استعمال کرنا ہی اس کا مقصد ہے.. وسائل کی فراہمی اس کا کام نہیں.. صرف دئے گئے فنڈ کا بہتر استعمال اس کا کام ہے،، چار ہزار کروڑ کی حقیر رقم کے منصوبہ بند اور شفاف صرف میں مختار عباس مہودے کی وزارت اور ذاتی طور پر وہ خود بری طرح ناکام رہے ہیں.. خرد برد کی نشان دہی ہوئی، اقلیتی طلباء جن کی بہبود پر مالیہ صرف ہونا تھا، محروم رہے اور کرپشن کے ذریعے دوسرے طلباء اس سے مستفید کرائے گئے.. نالائقی کی انتہا تو یہ ہے یہ سب کچھ کر کراکے بھی مختص کیا گیا پورا فنڈ بھی استعمال نہیں ہوسکا اور استعمال کا طے شدہ دورانیہ ختم ہورہا ہے.. لیکن سچ تو ہے کہ مہاشے مہودے ان کاموں کے لئے رکھے ہی نہیں گئے ہیں، ان کا کام مودی کا نام آتے ہی ہاتھ جوڑ کر نمن کرنا ہے، ویسے بھی وہ پیدائشی طور پر خدا کا نام کم ایک برگزیدہ بندۂ خدا کا نام لینے کے زیادہ عادی ہیں.. حیرت ہے کہ اتنے نالائق اور ناکارہ لوگ نہ صرف اپنی وزارت بلکہ پوری حکومت کی کارکردگی کا گان خوب گاتے ہیں.. پانچ ہزار کروڑ کے بجائے پچھلے بجٹ میں چار ہزار کروڑ ہی الاٹ کئے تھے وہ بھی صرف نہیں کئے جاسکے اور واپس خزانے میں جارہے ہیں، جب کہ کارکرد وزارتیں اپنے فنڈ میں اضافے کی سمری ارسال کرتی رہتی ہیں اور وزارت وزارت مالیات کو مسلسل چیلنچز دیتی رہتی ہیں، اضافی الوکیشن مانگتی رہتی ہیں.. لیکن اقلیتی بہبود کی لائق وزارت اپنا فنڈ خرچ تک نہ کرسکی.. بعینہ یہی حال اقلیتی بہبود کی ریاستی وزارتوں کا بھی ہے.. تلنگانہ کی وزارت اقلیتی بہبود کا بھی یہی حال ہے.. لگ یہ رہا ہے کہ ساری حکومتیں مرکزی اور صوبائی دونوں اقلیتوں کے درمیان سے انتہائی نالائق اور چاپلوس قسم کے لوگ منتخب کرتی ہیں جو کام کرنا جانتے بھی نہیں اور چاہتے بھی نہیں.. اور شاید حکومتیں بھی ان کو پروپگینڈہ ٹول کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہیں.. اور بس..ہر پریس کانفرنس میں مختار عباس نقوی سے یہ پوچھا جانا چاہئے کہ آپ کی وزارت فنڈ صرف نہیں کرسکی، آپ اسی کا جواز اور اپنی غفلت کا حساب دے دیجئے.. باقی فلسفہ بگھارنا، مسلمانوں کی بہبود کا ڈھنڈورا پیٹنا اور پچھلی حکومتوں کا مسلم ووٹ بینک کا ڈولا ڈالنا تج دیں.. مودی کابینہ کے سب سے نالائق وزیر کی حیثیت سے ان کا نام ریکارڈ پر آچکا ہے..شاید ایک "نظرتوڑ” وزیر سے اس سے زیادہ توقع بھی عبث ہی ہے..