شبِ برات کی حقیقت! محمد امین الرشید سیتامڑھی

36

 

شعبان  المعظم اسلامی سال کا آٹھواں قمری مہینہ ہے، یہ رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کے بابرکت مہینے ’’رمضان المبارک‘‘ کا دیباچہ، سن ہجری کا اہم مرحلہ اور نہایت عظمت اور فضیلت کا حامل ہے، خاتم الانبیاء، سید المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اس مہینے کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے، اس سلسلے میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’شعبان شھری‘‘(دیلمی) شعبان میرا مہینہ ہے۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ماہِ رجب کے آغاز پر آپﷺ یہ دعا فرماتے تھےاللھم بارک لنا فی رجب و شعبان و بلغنا رمضان۔‘‘(ابن عساکر) اے اللہ ! رجب اور شعبان کے مہینے میں ہمارے لئے برکت پیدا فرما اور (خیروعافیت کے ساتھ) ہمیں رمضان تک پہنچا۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: شعبان کی عظمت اور بزرگی دوسرے مہینوں پر اسی طرح ہے، جس طرح مجھے تمام انبیاء پر عظمت اور فضیلت حاصل ہے۔ (ایضاً ص 362)۔ شعبان المعظم دراصل رمضان المبارک کی تیاری کا مہینہ ہے اور اس ماہ کی پندرہویں شب ، شب برأت‘ شب قدر کی برکات اور اس کے انوار و تجلیات قبول کرنے کے لئے بندوں کو مستعد اور تیار کرتی ہیں۔ چنانچہ شب برأت توبہ و استغفار ، عبادت و مناجات کے ذریعے دل کی زمین کو نرم کرتی ہے تاکہ رمضان المبارک اور شب قدر کے روحانی انوار دل کے ایک ایک رگ و ریشے میں پیوست ہو جائیں۔
شب برأت توبہ و استغفار اور عبادت و مناجات کے قیمتی لمحات اور وہ صبح صادق ہے جو آفتاب روحانیت (نیکیوں کے موسم بہار، رحمت ، مغفرت اور جہنم سے نجات کے بابرکت مہینے) کے طلوع ہونے کی خوش خبری دیتی ہے۔ روحانیت کا آفتاب نزول قرآن کا بابرکت مہینہ رمضان المبارک ہے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ میں نے سوائے شعبان کے مہینے کے (رمضان کے علاوہ ) کسی اور مہینے میں رسول اللہ ﷺ کو کثرت سے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپ کو یہ بہت محبوب تھا کہ شعبان کے روزے رکھتے رکھتے رمضان سے ملا دیں۔ (سنن بیہقی)۔ حضرت عثمان بن ابی العاصؓ سے روایت ہے کہ رسالت مآب ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے. تو اللہ عزو جل کی جانب سے (ایک پکارنے والا) پکارتا ہے۔ کیا کوئی مغفرت کا طلب گار ہے کہ میں اس کی مغفرت کردوں؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ میں اسے عطا کردوں؟ اس وقت پروردگار عالم سے جو مانگتا ہے ، اسے ملتا ہے، سوائے بدکار عورت اور مشرک کے۔ ‘‘ (بیہقی/ شعب الایمان 3/83)۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ سوائے مشرک اور کینہ ور کے سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔
یہ وہ بد قسمت افراد ہیں جن کی اس بابرکت اور قدرو منزلت والی مقدس رات میں بھی بخشش نہیں ہوتی اور وہ بدبختی ، بد اعمالی اور گناہوں کے سبب اللہ کی رحمت اور مغفرت سے محروم رہتے ہیں۔ علماء و محدثین کے مطابق شب برأت کی فضیلت لیلۃ القدر کے بعد ہے، یعنی شب قدر سے کم ہے، تاہم اس کی فضیلت اور قدرو منزلت سے انکار کرنا کسی بھی طرح درست نہیں۔ حضرت عطاء بن یسارؓ فرماتے ہیں: ’’لیلۃ القدر کے بعد شعبان کی پندرہویں شب سے زیادہ کوئی رات افضل نہیں۔‘‘ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا : (اے عائشہؓ) کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس رات یعنی شعبان کی (پندرہویں شب) میں کیا ہوتا ہے؟انہوں نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ (اس شب) کیا ہوتا ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اس شب میں یہ ہوتا ہے کہ اس سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہیں، ان سب کے متعلق لکھ دیا جاتا ہے اور جتنے اس سال فوت ہونے والے ہیں، ان تمام کے متعلق بھی لکھ دیا جاتا ہے، اس شب تمام بندوں کے (سارے سال کے) اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور اسی رات لوگوں کی مقررہ روزی اترتی ہے۔ (مشکوٰۃ، ص 115)۔حضرت عطاء بن یسارؓ فرماتے ہیں کہ جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک فہرست ملک الموت کو دے دی جاتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ جن جن لوگوں کا نام اس فہرست میں درج ہے،
(مجمع الزوائد 8/65) حضرت ابو ثعلبہ خشنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جب شعبان کی پندرہویں شب (شب برأت) ہوتی ہے تو رب ذوالجلال اپنی مخلوق پر نظر ڈال کر اہل ایمان کی مغفرت فرما دیتا ہے، کافروں کو مہلت دیتا ہے، اور کینہ وروں کو ان کے کینے کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے تا وقت یہ کہ وہ توبہ کرکے، کینہ وری چھوڑ دیں۔‘‘ (بیہقی/شعب الایمان 3/381)۔جب کہ مختلف روایات میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ بے شمار بدنصیب افراد ایسے ہیں کہ وہ اس بابرکت رات کی عظمت و فضیلت اور قدرو منزلت سے دور رہتے اور اللہ عزوجل کی بخشش و رحمت سے محروم رہتے ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ کی نظر عنایت نہیں ہوتی۔ وہ بد نصیب افراد یہ ہیں۔ (1) مشرک (2)جادو گر (3)کاہن اور نجومی (4)ناجائز بغض اور کینہ رکھنے والا (5)جلاد (6)ظلم سے ناجائز ٹیکس وصول کرنے والا (7) جوا کھیلنے والا (8)گانے بجانے والا اور اس میں مصروف رہنے والا (9) ٹخنوں سے نیچے شلوار ، پاجامہ تہہ بند وغیرہ رکھنے والا (10) زانی مردوعورت (11)والدین کا نافرمان (12) شراب پینے والا اور اس کا عادی(13) رشتے داروں اور اپنے مسلمان بھائیوں سے ناحق قطع قمع کرنے والا۔
شبِ برأت کی چندبدعات و رسومات :
1۔اعلانات واشتہارات کےذریعہ لوگوں کومساجدمیں پوری پوری رات بیدارکرنےکیلئےجمع کرناشرعی حدود سے تجاوز عمل ہےکیونکہ اس رات میں انفرادی طورپر عبادت کا اہتمام کرناچاہئے اوربالفرض بیان کاانتظام کیاجائےتو مختصر بیان کیا جائےتاکہ اس کے بعد لوگ انفرادی طور پرعبادت کرسکیں،اگربیانات کاسلسلہ اتناطویل کیاجائےجس کےبعد لوگ انفرادی عبادت ہی نہ کرسکیں یہ بھی حد سے تجاوز شمار ہوگا،اس سے بھی اجتناب کرناچاہیے۔
2۔شب برأت میں سورکعات ایک ہزار مرتبہ سورت اخلاص کے ساتھ پڑھنے والی روایت یاچودہ رکعات والی روایت موضوع،من گھڑت اوربناوٹی ہے،لہٰذا اس سےاجتناب لازمی ہے۔
3۔شب برأت میں حلوہ وغیرہ پابندی سے پکانا اور اس کے بغیر شب برأت کی فضیلت سے محروم ہونے کا نظریہ رکھنا،یافوت شدہ افراد کی روحوں کا گھروں میں آنے کا نظریہ رکھنا اور ان کی نیت سے حلوہ وغیرہ پکانا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ اگر نہ پکایا جائےتو وہ گھروں کی دیواریں چاٹ کر چلی جاتی ہیں، یہ سب نظریات وعقائد بالکل غلط ہیں اور ان سےاجتناب ضروری ہے۔اسی شب براءت میں مسور کی دال پکانے کو ضروری سمجھنابھی درست نہیں ہے۔
4۔شبِ برأت کومُردوں کی عید سمجھنا ، یا اگر کوئی شخص شب برأت سے پہلے مرجائے اور جب تک شب برأت میں حلوہ پور ی اور چپاتی پر فاتحہ نہ کی جائے وہ مردوں میں شامل نہیں ہوتا ہے،غلط عقائد میں سے ہے۔
5۔شب برأت میں آتش بازی کرناہندوانہ طرزِ عمل ہے ،اس میں گناہ کے ساتھ ساتھ پیسے کا ضیاع بھی شامل ہے، اس لئےاس سےخود بھی بچیں اور اپنی اولاد کوبھی اس بری حرکت سے بچائیں۔
6۔پندرہویں شعبان سے ایک دو دن پہلے قبروں کو درست کرنا، لپائی کرانا اور پندرہویں شعبان کی رات کو اس پر چراغاں روشن کرنا ،قمقمہ جلانا، پھول پتیاں چڑھانا، اگربتیاں جلانا وغیرہ یہ سب ہندوانہ رسم و رواج ہیں، اسلام کا ان رسم و رواج سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے،اس لئے ہم پر ان بدعات و رسومات سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔